2018 کےانتخابات اور عمران خان کے ممکنہ دو بیانات

اگر 2018کے عام انتخابات صاف اور شفاف منعقد نہ ہوئے جیسا کہ اس بات کا روشن امکان موجود ہے‘ توعمران خان کے تیسرے بیان کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔اُن کا پہلاممکنہ بیان یہ ہو سکتا ہے کہ :

میرے  عزیزپا کستا نیو! 2013کے انتخابات میں خیبر پختونخوا کے عوام نے یعنی آپ نے ہم پر اعتماد کیا اور ہمیں مینڈیٹ دیا تاکہ ہم تبدیلی لاسکیں ۔ ہم حسب وعدہ وہ تبدیلی لے آئے۔‘‘

یہاں سے وہ لائی گئی کچھ اہم تبدیلیوں کا ذکر یں گے جس میں سکولوں کے اندر دو دو سائنس کے استاد مقرر کرنے کا ذکر بھی شامل ہوگا۔ یہ ایک تاریخی قدم ہے جس کو کے پی حکومت نے اُٹھا یا ہے۔ قبل ازیں تمام ثانوی سکولوں میں سائنس کا ایک استاد بمشکل ہوا کرتا تھا جس کی مہارت چار میں سے کسی دو مضمون میں ہونے کی وجہ سے باقی کے دو مضامین کی پڑھائی متاثر ہوتی تھی۔ کام کا اضافی بوجھ یعنی درجہ نہم و دہم کو ایک دن میں چار چار مضمون پڑھانا الگ سے استاد اور طلبہ  کی کار کردگی کو متاثر کرتا تھا۔ نتیجے کے طور پر بقول پروفیسر ڈاکٹر ہود بھائی حافظین سائنس تو پیدا ہوتے گئے مگر سائنسدان بمشکل کوئی پیدا ہوا ہوگا۔ ضیا ئی آمریت کے دور میں جب سے اسلامیات ،عربی اور اسلامیات اخیتاری کے لیے الگ الگ استاد مقرر کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اسی وقت سے اگر سائنس کے مضامین کابھی خیال رکھا جاتاتو آ ج سائنس کا معیا راتنا ابترنہ ہوتا ۔ بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اس مستحسن قدم کا سہرا کے پی کے کی موجودہ حکومت کے سر جاتاہے جس کے اچھے اثرات اگلے چند سالوں میں آنا شروع ہو جائینگے۔ خان صاحب مزید کہیں گے کہ:

“الحمد اللہ ! پختونخوا کی عوام کو امید کی کرن تبدیلی کی صورت میں نظر آئی اس لیے حالیہ انتخابات میں پھر سے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے تا کہ ہم تبدیلی کی اس سفرِ نو کو جاری رکھ سکیں۔ میں اپنے پاکستا نی بہن بھائیوں  کو یقین دلاتا ہوں کہ اگلے پانج سالوں میں پختونخوا کو مثالی صوبہ بنانے کے منصوبے کی اگلی منزل تک لے کے جا ئیں گے۔ ہم  لوگوں پر مزید پیسہ خرچ کریں گے اور انشا اللہ انسانی ترقی کے اشاریئے مزید بہتر ہونگے۔ ‘‘

ویسے آپس کی بات ہے کیا موجودہ وزیر اعظم ترقی کی نظریات سے کما حقہ آگاہ ہیں؟ ورنہ کسی کی نیت پر شک کرنا اچھی بات تو نہیں ہے کہ وہ بقائمی ہوش و حواس انسانوں کو چھوڑ کرسریئے سے بننے والے ڈھانچے ہی بناتا جائے چاہے تاریخ و ثقافت ہی ان کے نیچے کیوں نہ دفن ہو۔

بہر حال خان صاحب کے اس پہلے بیان کے آنے کے امکا نات بہت کم ہیں کیونکہ جب تک ’’جمہوریت ‘‘ بچانے کے لیے’’جمہوری قوتیں‘‘ یکجا رہیں گی جیسا کہ پانا مہ لیکس کے معاملے ایک بار پھر یکجا ہوئی ہیں اس وقت تک حکمران بننے کی باری اُن سے عوام بھی نہیں لے سکے گی کیونکہ بقول حسن نثار یہ عوام سے ووٹ چھین لینے میں ثانی نہیں رکھتے ہیں۔

دوسرا ممکنہ بیان جس کے امکانات بہت کم ہیں یہ آسکتا ہے کہ:

“میں بحیثیت چیئر مین پاکستان تحریک انصاف اپنی شکست تسلیم کرتا ہوں ۔ پختونخوا کی عوام نے اس بار ہم پر اعتماد اس لیے نہیں کیا کیونکہ ہماری حکومت عوام کی خواہشات کے مطابق تیزی سے تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ خدانخواستہ کے پی حکومت کی بد نیتی نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ پچھلے چھ یا سات دہائیوں سے جمع کردہ مسائل کا وہ انبار تھا جس کو بہ سرعت کم کرنے اور تبدیلی متعارف کر وانے کے لیے   عر صےسے زیادہ وقت درکار تھی جو ہمیں عوامی مینڈیٹ کی صورت میں حاصل ہوئی تھی۔‘‘

خان صاحب یہاں سے چیدہ چیدہ رکا وٹوں کا ذکر کریں گے جن کی وجہ سے پارٹی کی حکومت کو از بس مشکلات کا سامنا رہا اور تبدیلی کا سفر سست رہامثلاً وہ نوکر شاہی کی طرف سے پیش آمدہ مشکل کا ذکر کر یں گے جو کمیشن کھانا اپنا حق حلال سمجھتے ہیں اور اسے کاٹے بغیر ترقیاتی کام کی ہر ہر فائل کو سرخ فیتہ لگا دیتے ہیں ۔

پختونخواحکومت اس لحاظ سے داد کا مستحق ہے کہ نا اہل اور نا تجربہ کار ہونے کا طعنہ خوشی سے قبول کرتے ہوئے ترقیاتی میزانیوں کا وقت گزرنے دیا لیکن کمیشن کٹوانے نہیں دیااور کہا کہ دیکھو بیٹا حلال کی کمائی کمانا تمہارا حق ہے عوام کی جیب پرہاتھ ڈالنا تمہارا کوئی حق نہیں ہے ۔ وہ پارٹی کے اندر ہاشمی جیسے گھس بیٹھیوں کی وجہ سے راہ میں ڈگمگا نے کا بھی اعتراف کریں گے جس کی وجہ سے عوامی مسائل کا حل اس طرح سے ممکن نہیں ہو سکا تھاجس طرح سے کے پی حکومت کی خواہش تھی۔وہ عوام سے بھی شکایت کریں گے کہ اُنہوں نے مافیاز جیسے جنگل مافیا ‘ ٹھیکیدار مافیاوغیرہ وغیرہ کے خلاف اُن کی حکومت کی اخلاقی حمایت کرنے میں بخل سے کام لیا۔ دھرنے میں خرچی ہوئی اپنی جماعت کی توانائی اور وقت کے ضیاع کا کچھ یوں دفاع کریں گے کہ اُن کی جماعت کی کوششوں سے عوام کی ووٹ کا تقدس بحال ہو جائے گا ۔ اس بات سے انکار تو نہیں کہ دھرنے کا جواز تھا البتہ اس بات سے بھی انکا ر نہیں کیا جا سکتا کہ دھرنے کی وجہ سے صوبے میں حکومت کا کام متاثر نہیں ہونا چا ہئے تھا۔

لیکن جیساکہ روشن امکان موجود ہے ، اگر2018 کے انتخابات صاف اور شفاف منعقد نہ کرائے گئے تو خان صاحب کا تیسرا بیان جس کے امکانات زیادہ ہیں کچھ یوں آسکتا ہے کہ:

“زرداری صاحب (تر تیب کے لحاظ سے پی پی پی کی حکومت آئی ہوگی) میں آپ سے کہتا ہوں جس طرح میں نے میاں صاحب سے کہا تھا کہ صرف چار حلقے کھول دو۔۔۔۔ ‘‘ اور ایک دفعہ پھر اخبارات،ریڈیو، اور ٹی وی مذاکروں میں ایک طبقہ خان صاحب کے اس مطالبے پر تنقید کے تیر برساتے ہوئے نظر آئینگے ۔اس وقت کوئی اگر تحریک انصاف کے کسی پرستار کے دل کی آواز سن پاتا تو یہ باتیں ہو تیں۔’’خان صاحب پلیز ! یہ عوامی مینڈیٹ کا معاملہ ہے جس کو کسی صورت چوری نہیں ہونا چا ہئے۔ آپ مخالفین کی بیجا الزام تراشیوں سے بد دل نہ ہوں کہ خامی کا ہونا انسان ہونے کی علامت ہے۔آپ ان کی طرح شیطان تو نہیں ہیں جو نیت اور تدبیر کے ساتھ عوامی مینڈیٹ چوری کرمجلس قانون ساز پہنچ جا تے ہیں تا کہ با تدبیر عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ہاتھ ڈال اور ڈالر گرلز اور بوائز کے ذریعے وہاں پہنچا سکیں جہاں کا ہمیں اتہ پتہ بھی معلوم نہیں۔ خان صاحب! آپ میں خا میاں ہو سکتی ہیں لیکن آپ چور نہیں ہیں ۔ اس لیے ان الزام تراشوں کی گیدڑ چالاکیوں پر نہ جائیں کہ کئی دہائیوں سے دھوکا کھاتی اس قوم کی نظریں آپ پر ہیں۔ خدا را ہمت نہ ہا ریئے اور آگے بڑھتے رہیئے‘‘۔ اس مر حلے پر خان صاحب اپنے بیان کا آ خری جملہ بولیں گے کہ:

’’ان کو شرم آنی چا ہیئے۔ ‘‘

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
24790cookie-check2018 کےانتخابات اور عمران خان کے ممکنہ دو بیانات
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : سُپر ایڈمین

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیٹ ورک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

4 تبصرے

  1. ڈاکٹر صاحب ان تین متوقع بیانات کے بجایے جو یقینی بیاں آنے والا ہے وہ یوں ہوگا،
    “اوئے کی پی کے والو! تم بھی پھتیچڑ نکلے۔ اس بار تم نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ تمھارا کچھ نہیں ہوسکتا، جینا ہوگا مرنا ہوگا۔۔۔۔ اور ہاں ۔۔۔۔ آجاو قادری بھایی ایک ساتھ پھر سے مک مکا کرکے دھرنا شروع کرتے ہیں”
    • Riaz Hussain

      I have less ground to disagree with Noor Shamsuddin. However, my point is that we should not expect or must not be cheated again and again by other political parties whom we have seen in power for more than one time.

    • wahaj khan

      what imran khan did for one province that is KPK and what we can expect from him for the whole country i dont think he is illegible person for prime minister because his performance is in front of us . i know we have education issue we have health issues but it does not mean that remaining are excellent we have so many other issues they must b focus also..
      secondly the local body system which imran khan has introduced is totally failed its not working the local bodies are helpless.it was a golden chance for imran khan to show his performance in KPK but he failed to do.for next election he has no political slogan to attract people

  2. Mohammad Afzal

    Dilchasp comments Noor Shamsuddin ki taraf say lekin siyasi surat hal 2017 ky wast tak kuch had tak wazeh ho jayega ki halat kis taraf karwat lenay jarehay hain?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This