مدرسہ،کھو ثقافت اور کالاش ایم پی اے

19 جنوری اتوار کے روز اپنے دوست عطاءالرحمن عدیم اور عنایت الرحمن عزیز کے ہمراہ مدرسہ عثمانیہ شاخ گلشن عمر جانے کا اتفاق ہوا۔ مدرسہ پشاور سے کافی فاصلے پر تھا، پشاور میں کچھ کام بھی تھے اس لیے جلدی واپسی کا ارادہ تھا۔ مدرسے میں آرٹس اور فوڈ فیسٹیول جاری تھا۔ پتہ چلا کہ مذکورہ مدرسے میں سالانہ یا ہر دو سال بعد مختلف قسم کے فیسٹولز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں طلباء اپنے علاقے کے مشہور اشیاء کی نمائش کرتے ہیں۔ امثال آرٹس اور فوڈ فیسٹیول منعقد کر رہے تھے۔ مدرسے میں داخل ہوکے جب دیکھا تو شروع میں سٹال چترال والوں کا تھا جو مدارس کے طلباء اور اساتذہ سے لیکر سیاحوں کے لیے بھی مرکز نگاہ بن چکا تھا۔ جب ہم سٹال کے اندر داخل ہوئے تو چترالی طلباء جو چترالی روایتی لباس (پکوڑ اور واسکٹ) میں ملبوس تھے۔ روایتی جوش و جذبے سے ہمارا استقبال کیا۔ سٹال کے اندر  ڈسٹرکٹ چترال کا ایک خوبصورت ماڈل بنایا گیا تھا جس میں لواری سے شندور تک مشہور چیزیں نمایاں کی گئی تھی۔ چترالی پن چکی کا ماڈل کسی طالب علم نے نہایت مہارت کے ساتھ بنایا ہوا تھا جو بجلی سے چل بھی رہی تھی۔ پھر چترال میں کھانا پکانے کے جو پرانے آلات یا ان سے متعلق جو بھی چیزیں ہماری ثقافت اور ثقافتی کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں مثلاً، ڑیخ، گوشینی۔ بتھولو، ٹامبیٹ، خناک، کپھینی، مانو، غربیل وغیرہ   انھیں نمائش میں رکھا گیا تھا۔ ان کے علاؤہ دستکاری کے کاموں میں استعمال ہونے والے آلات ، مثلاً۔ چخور۔ اس قبیلے کے سارے اوزار ، ہاتھوں سے بنی ہوئی کچھ گھریلو چیزیں، چترال کے روایتی کھانے ، چھیرا شاپیک، ڑیگانو، سنابچی، شوشپ  وغیرہ سب دستیاب تھے۔ تاریخی ادبی اور علمی شخصیات کے بارے میں معلومات، تاریخ چترال اور کھو ادب و ثقافت سے متعلق  اردو، انگش اور کھوار زبان کی کچھ کتابیں ، ادبی رسائل، کھوار نامہ اور ادبیات چترال، اور بھی بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔

چترال کے علاوہ  پورے صوبے سے تعلق رکھنے والے طلباء اپنی ثقافت اور اپنے اپنے اضلاع کی نمائندگی کر رہے تھے۔ مگر ان میں سب سے ممتاز حیثیت چترال والوں کی تھی۔ اس سے بھی حیرانگی کی بات یہ کہ اس مدرسے میں کوئی چترالی استاد بھی نہیں۔ تیس پینتیس طلباء جنہوں نے اپنی جیپ خرچ سے کٹوتی کرکے یہ سارا انتظام کیا ہوا تھا۔ یا اپنے گھروں کو فون کرکے مختلف چیزیں منگواکر، دیر والوں کے ہاں بھی ایک پن چکی تھی جسے دیکھنے کیلیے دس روپے کا ٹکٹ لینا پڑتا تھا۔ مگر چترالی پن چکی مفت دیکھ رہے تھے۔ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ہم نے شدت سے محسوس کیا کہ ان کی حوصلہ افزائی کیلیے کسی بڑے کا انا بہت ضروری ہے۔ ہم نے رابطے کی کوشش کی ایم پی اے مولانا ہدایت صاحب پشاور میں موجود نہیں تھے۔ ایم این اے مولانا چترالی نے کل 21 جنوری کو آنے کا وعدہ کیا۔ (یاد رہے یہ دو روزہ فیسٹول کل تک جاری رہے گا۔  ) تاہم سابق تحصیل ناظم اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت سرتاج احمد خان کے ہمراہ اقلیتی ایم پی اے وزیرزادہ صاحب تشریف لائے۔ ڈاکٹر نذیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ایم پی اے وزیرزادہ نے  طلباء سے خطاب کیا، فرداً فرداً طلباء سے ملے، ان کے مسائل دریافت کیا۔ اور ہر قسم کی تعاون کا یقین دلایا جس سے طلباء کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس کے بعد  مدرسے کی  مسجد اور کلاس رومز بھی گیے۔ سب سے دلچسپ مدرسے کا میوزیم ہے۔ جس میں چترالی اور کیلاش ثقافت سے متعلق بھی کافی چیزیں موجود ہیں۔ کھو زمینداروں کے زیر استعمال ہل چلانے کی چیزیں (ہل/ کیشینی / یوزونو ) سمیت چترالی غلیل کلاش ڈریس بزگوں کے زیر استعمال چیزیں، ان میں ہمارے چترال کے معروف عالم دین چترال مدرسہ کے سابق صدر مولانا رشید احمد برنسوی رحمہ اللہ کے زیر استعمال چغہ بھی عجائب گھر کی زینت ہیں۔ سب سے خوبصورت بات یہ کہ اس مدرسے میں دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اور آئندہ سال بی ایس کلاسس بھی شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس مدرسے کے طلباء کا ٹیلنٹ اور مدرسے میں  انتظامات دیکھ کے مجھے تو ایسا لگا کہ مستقبل قریب میں اس مدرسے سے  نہ صرف دینی علماء بلکہ انجینیر ، ڈاکٹر اور سائنسدان بھی فارع ہونگے صرف توجہ کی ضرورت ہے ورنہ سب کچھ ہے اس مدرسے میں۔۔

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی ۔۔

89650cookie-checkمدرسہ،کھو ثقافت اور کالاش ایم پی اے
Zeal Mobile Reporter
Share This