مرجھائے ہوئے پھول

بچپن کے سہانے دن کوئی تتلیوں سے کھیل رہا ہے، کوئی ساحل کنارے ریت کے گھروندوں پہ محل کے سپنے سجانے میں مصروف ہے۔ کوئی آنکھوں میں مستقبل کے سہانے خواب سجائے نصابی سرگرمیوں میں مگن۔۔ ایسے میں ایک مجھ جیسا نالائق طالب علم نوٹ بک کے اضافی  اوراق پہ عشقیہ اشعار لکھ کے مستقبل میں شاعر بننے کا سوچ رہا ہے۔ آڈیو ٹیپ کا زمانہ تھا۔ کہیں سے ایک دوست مشاعرے کا کیسٹ لاکے دیتا ہے جس میں چترالی شعراء ایک محفل مشاعرہ میں کلام سنا رہے ہیں۔ ایک مزاحیہ نظم جس میں کالج کی ایک گاڑی میں شاعر سفر کرتا ہے۔ اس سفر کی روداد مزاحیہ انداز میں بیان کی گئی ہے۔ یہ نظم ہم بھی بڑے شوق سے گھر میں سن رہے تھے۔ شاعر کا نام سن کے میری امی کہنے لگی ۔ یہ شاعر (چنگیز خان طریقی ) شوگرام کے میرے بھائی ہیں۔ میری امی کی ایک سگی اور ایک خالہ زاد بہن شوگرام میں ہیں اور میری ایک ممانی بھی شوگرام سے ہے ان کا تو مجھے پتہ تھا۔ اب اس شاعر کے ساتھ رشتے کا جب پتہ چلا تو اور خوشی ہوئی ۔ اب دل اس شاعر سے ملنے کیلیے بیتاب رہنے لگا۔ بلا آخر میٹرک امتحانات کے بعد شوگرام جانے کا اتفاق ہوا۔ اور وہاں پہ اس شاعر (چنگیز خان طریقی) سے میری ملاقات ہوئی۔ انتہائی کم گو سنجیدہ طبیعت کے مالک دھیمی انداز میں بات کرنے والے جب بولے تو لبوں سے پھول جھڑتے ہیں۔ تب سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا مگر اس کی محفل میں ہماری ہمت کہاں کچھ بولے۔ پھر شاعری میں قدم رکھنے کے بعد ان کی طویل خوبصورت نظمیں سننے اور پڑھنے کو ملیں ۔ جس طرح اردو شاعری میں میر سے فراز تک اکثر شعراء نے غزل گوئی کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔ اور اس صنف کو منتہائے کمال تک پہنچایا۔ مگر اصناف نظم میں بھی بہت سارے شعراء نے طبع آزمائی کی ۔ اور صنف نظم میں نظیر اکبر آبادی اور الطاف حسین حالی جیسے شعراء بھی پیدا ہوئے۔ اسی طرح کھوار شاعری میں بھی اکثر شعراء نے صنف غزل کو آسماں کی بلندیوں تک پہنچایا۔ مگر دو نام کھوار اساتذہ میں بھی ایسے ہیں جنہوں نے صنف نظم کو بہت زیادہ ترقی دی ۔ اور جب بھی کھوار نظم کی تاریخ لکھی جائیگی ان دونوں شعراء کا تذکرہ سنہرے حروف میں کیا جائیگا۔ اور وہ نام ہیں محترم مولانگاہ نگاہ صاحب اور مرحوم چنگیز خان طریقی صاحب۔ نگاہ صاحب کا شعری مجموعہ نقطہ نگاہ شائع ہوکے عوام و خواص میں بے حد مقبول ہے۔ مگر طریقی صاحب خود اپنا شعری مجموعہ ترتیب دے رہے تھے۔ اس سے پہلے ہی داعی اجل نے لبیک کہا اور 2012 میں طریقی صاحب اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس کے بعد ہم نے بھی کھوار اہل قلم کے پلیٹ فارم سے کتاب چھاپنے کی کوشش کی مگر پتہ چلا۔ مسودہ انجمن ترقی کھوار والے ہم سے پہلے لے چکے تھے۔ گزشتہ مہینے ایک تقریب کے دوران انجمن ترقی کھوار کے مرکزی صدر شہزادہ تنویر الملک نے ایک کتاب عنایت کی ۔ کتاب کا نام ” بلائیدو گمبوری ” ( مرجھائے ہوئے پھول ) ہے ۔ اور یہ شعری مجموعہ ہے چنگیز خان طریقی صاحب کا۔ کتاب ایک نظر دیکھنے کے بعد ہی پتہ چلا کہ طریقی صاحب کے ساتھ باوجود خاندانی روابط کے اس کی شخصیت اور فن کے بہت کم پہلوؤں سے میں واقف تھا۔ طریقی صاحب ایک انقلاب پسند شاعر تھے۔ اور اس کا ہاتھ معاشرے کی نبض پہ تھا۔ طریقی صاحب نے ادب کو بطور طالب علم پڑھا تھا، اور بطور استاد پوری زندگی ادب پڑھانے میں صرف کی۔ طریقی صاحب معاشرے کو ایک استاد کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایک مشفق باپ اور پرخلوص استاد کی حیثیت سے اپنے اشعار میں کبھی استاد کی عظمت کا  ذکر کرتا ہے۔کبھی نشے سے بیزاری کا درس دیتا ہے۔ اور کبھی علی الصبح اٹھ کے نماز فجر اور مشاہدہ کائنات کا درس دیتا ہے۔ اور کبھی کبھار نوجوانوں کو اپنے حقوق کیلیے لڑنے پہ بھی اکساتا ہے۔ موضوعات کا احاطہ تو اسی مضمون میں ممکن نہیں البتہ شروع میں جس نظم کا میں نے ذکر کیا ہے اسی کی تفصیل پہ اکتفاء کرونگا۔ یہ قصہ غالبا 1994 یا اس سے پہلے کا ہے۔ ذرا تصور کیجیے گورنمنٹ کالج بونی کی ایک گاڑی جس کی پچھلی سیٹ کے اوپر نہ جنگلا ہے اور نہ ترپال۔ (ڑونگ ڈاٹسن ) سفر موڑکہو سے خاندان لشٹ اور کچی سڑک ۔ آپ خود اندازہ لگالے سفر کرنے والوں کی حالت کیا ہوگی ۔ طریقی صاحب ان کے ساتھ ایک مرتبہ گاڑی میں بیٹھتا ہے۔ اور سفر کی روداد خوبصورت مزاحیہ انداز میں ایک نظم کی صورت میں پیش کرتا ہے ۔ نظم کے شروع میں تین چار بند کچھ یوں ہیں ۔ و نو رخچوم ای ہش سفر اریتام

نو دونی ہوتان اختیار اریتم

دربت چوڑینیو پر خطر اریتم

سفر عذابو سار بدتر اریتام

کالجو ڈاٹسنہ سفر اریتام

گاڑیہ نیشیم رے بو افسہ ہاتم

دے ڑخوڑنگ چھیتی ہے نسہ ہاتم

پھار نسہ نیشیکو سوم ئی نسہ ہاتم

ہوشو قالپار بدر اریتام

کالجو ڈاٹسنہ سفر اریتام

کوڑوچیان پارو درے الدوو غونہ

سواری نیشیرو نہ پاردوو غونہ

ہوس سف لوڑکو کیاغ کاردوو غونہ

اوا ٹارئے تھے خبردار اریتام

کالجو ڈاٹسنہ سفر اریتام

افو ہو روے ہیرہ پوشان سرینی

ٹیپ کوری کھونووچے توشان سیرینی

کاکی بے شے اوشوئے ہشان سیرینی

اسپہ دی کوستے کیہ ضرر اریتام

یہ ایک طویل نظم ہے جس میں طریقی صاحب پہلے طنز اور مزاح کے موتی بکھیر کر نوجوانوں کو طیش میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر انہیں ان کے حقوق کے بارے میں بتاتا ہے۔ انہیں اپنا حق مانگنے بصورت دیگر چھیننے اور بغاوت کرنے پہ اکساتا ہے۔ غالبا یہاں سے بونی کالج کے نوجوانوں کو تحریک ملی 1997/98 میں وزیر اعلیٰ مہتاب عباسی بونی میں تشریف لارہے تھے۔ کالج کے نوجوانوں نے احتجاج کیا۔ ڈگری کالج اور بسوں کا مطالبہ کیا۔ بونی کالج کو ڈگری کا درجہ بھی ملا اور بسیں بھی۔۔۔ الغرض طریقی صاحب نے حمد ، نعت ،مناجات اور غزلیں بھی لکھی ہیں مگر زیادہ تر مسمط نظموں کو اظہار کا ذریعہ بنایا۔ اور صنف نظم کو بہت زیادہ ترقی دی کھوار نظم میں طریقی صاحب کو وہ مقام حاصل ہے جو اردو میں نظیر اکبر ابادی یا الطاف حسین حالی کو۔ ان کے شعری مجموعے کے موضوعات کا احاطہ اسی ایک مضمون میں ممکن نہیں۔ مجھے امید ہے ان کا شعری مجموعہ (بلائیدو گمبوری ) عوام و خواص میں بے حد مقبول ہوگا۔

Zeal Mobile Reporter
Share This