ہاں ہم ادبی ٹھیکیدار ہیں

1957 سے چترال میں ایک ادبی تنظیم کام کر رہی ہے انجمن ترقی چھترار پھر انجمن ترقی کھوار کے نام سے۔ اب تک سینکڑوں مشاعرے ، سو سے زائد کھوار کتابیں ، قومی اور بین الاقوامی لیول کے سیمینارز اور آج اگر چترال کی کوئی پہچان ہے تو اس تنظیم سے وابستہ قلمکارو ں کی وجہ سے ہے۔ اور یہ قلم کار شاعر، ادیب جنہیں کچھ لوگ ٹھیکیدار کے نام سے یاد کرتے ہیں اپنے ذاتی اخراجات ، چندہ جمع کر کے اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے ابھی تک اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں ۔

اس کے بعد  ۲۰۰۹ سے کھوار قلم قبیلہ کے نام سے ایک اور تنظیم بغیر کسی سرکاری سرپرستی کے اپنے ذاتی اخراجات سے انہی ادباء او شعرا کے نقش قدم پر چل کے ادبی و ثقافتی کام کرتی آرہی ہے۔ جن میں سیمینار منعقد کرنا ، مشاعرے کرانا ، کھوار موسیقی کی اصل حالت میں بحالی اور کتابیں چھاپنا  وغیرہ شامل ہیں ۔ پھر جون ۲۰۱۰ کو میئر تنظیم نے ملٹی لینگوئل ایجوکیشن کے لیے نصاب سازی سے لے کر کھوار ارتھوگرافی کی بہتری اور کھوار نثر کی ترقی کے لیے سہ ماہی رسا لے کا اجراء اور کھوار بہمنی کیلنڈر کی تریتب جیسے کاموں سےادبی و ثقافتی حلقوں میں اپنا لوہا منوایا ۔ اور وہ بھی اس حالت میں کہ دفتر کا کرایہ ہو یا رسائل و کتابوں کی چھپائی ذاتی اخراجات سے یہ سارے کام کرتی آرہی ہے۔ گزشتہ چار پانچ سالوں سے کھوار اہل قلم کے نام سے ایک ادبی تنظیم جس میں شامل چند رضا کار نوجوان اپنے ذاتی اخراجات سے ادب کی خدمت کر رہے ہیں ۔ جس میں بیس کے قریب ادب و ثقافت سے منسلک لوگوں کو ایوارڈ دینا، رسائل اور کتب کی چھپائی ، مشاعروں کا انعقاد یہ سارے کام بغیر کسی سرکاری سرپرستی کے کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ کئی اور ثقافتی تنظیمات ،نوبلز گروپ،نان دوشی اسکول ،بزم زندگی سب کا نام گنواؤ ں تو یہ صفحات کم پڑ جائیں گے اپنی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں سے اپنے آپ کو منواچکی ہیں ۔

امسال باری آئی جشن قاقلشٹ کی۔۔ جشن قاقلشٹ کی ابتداء ریاستی دور میں ہوئی تھی ۔ مگر دوبارہ انعقاد چندسال پہلے ادب اور ثقافت سے متعلقہ اشخاص کی دلچسپی سے شروع ہوئی ۔ کچھ ہی سالوں میں اسے خاطر خواہ پذیرائی ملی ۔ تو سرکاری سرپرستی میں جشن قاقلشٹ منعقد کیا جانے لگا۔ امسال جب جشن قاقلشٹ کے پروگرامات کی لسٹ جاری ہوئی ۔ تو ہم نے دیکھا کہ جشن میں شامل تمام ایونٹس کیلیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ جبکہ مشاعرہ اور ثقافتی شو کی ذمہ داری فرد واحد کو سونپی گئی تھی۔ ادبی تنظیمات نے خود کو اعتماد میں نہ لینے کا اصولی موقف اپناتے ہوئے جشن کا بائیکاٹ کیا۔ اس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوے ادبی تنظیمات سے مذاکرات کیں۔ انتظامیہ نے ادبی تنظیمات اور انتظامیہ کے درمیان روابط کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مشورہ دیا۔ جس پہ عمل کرتے ہوے ادبی تنظیمات نے ایک کمیٹی تشکیل دی اور جشن چترال کے سلسلے میں انتظامیہ سے بھرپور تعاون کیا۔ عین موقع پر کچھ ایسی تنظیمیں جن کا نام ادب و ثقافت کے حوالے سے پہلی دفعہ سننے میں آیا اور ایسے لوگ جو اس سے پہلے کھبی ایسی سرگرمیوں میں نظر نہیں آئے تھے ،کمیٹی کو ہائی جیک کرنے کی کوشش میں میدان میں اترے۔ تو کمیٹی والوں نے ان کے سامنے انتہائی مہذب انداز میں ایک پیمانہ رکھا۔ اور کہا کہ جو اس پیمانے پہ پورا اترے گا اسے کمیٹی میں شامل کیا جائیگابصورت دیگر نہیں ۔ اس حوالے سے ایسے لوگوں کو کہا گیا فی الحال کمیٹی میں ایسے لوگوں کو شامل کرتے ہیں جن کا کام اظہر من الشمس ہے ۔ باقی تنظیمات کو اس پیمانے پر پرکھ کے پھر کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔ کہ کیا یہ تنظیم واقعی ادب و ثقافت کے نام پہ وجود میں آئی ہے ؟ کیا ادب و ثقافت میں سچ مچ اس تنظیم کی خدمات موجود ہیں ؟ ان چیزوں کو دیکھتے ہوے کچھ تنظیموں کو بعد میں مشاورت کے بعد کمیٹی میں شامل کرنے کا عندیہ دیا گیا اور اس طرح جشن چترال کا مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے پایا۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ جشن کے نام پہ  کثیر فنڈ ہوگا   اوریہ تنظیمات فنڈز وصول کرکے ہڑپ کر لیتی ہیں ۔ آج بطور چیلنج یہ اعلان کرتا ہوں کہ ان تنظیمات نے کسی سے کوئی فنڈ وصول نہیں کی ہیں۔ حالیہ جشن چترال بھی انہی تنظیمات نے بغیر کسی فنڈ کے رضاکارانہ طور پر انعقاد کرکے اپنی ادب دوستی کا ثبوت دیا ۔اور کسی ادبی تنظیم نے ایک پیسہ وصول نہیں کیا ہے بلکہ اکثر اخراجات ذاتی طور پہ اداکیے گیے ہیں ۔ اور دور دراز علاقوں سے شعراء ، ادباء ذاتی خرچے پہ چترال آکے پروگرام کو کامیاب بنایا اور ٹرانسپورٹ سے لے کے رہائش تک تمام اخراجات اپنے ہی جیپ سے ادا کیے ہیں۔ اگر اسی طرح کوئی بھی اپنا مال ، جان اور وقت استعمال کرکے ادب و ثقافت کی خدمت کرے  تو اسے روکنے والا کون ہوسکتا ہے  سو بسم اللہ آئے اور کام شروع کیجئے ۔

جو کام کرتے ہیں انہیں انھیں کچھ غیر ادبی لوگ طنزاً ادبی ٹھیکہ دار کہنا شروع کردے ۔ تو میں ببانگ دہل آج یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہاں میں ادبی ٹھیکہ دار ہوں میرے ساتھ میرے جتنے بھی ادبی تنظیمات کے بڑے چھوٹے جتنے بھی دوست ہیں وہ بھی ادبی ٹھیکہ دار ہیں۔ ہاں مجھے میرے اساتذہ اور میرے دوستوں کو ادب و ثقافت پہ بولنے کا حق ہے۔ لکھنے کا حق ہے تنقید کرنے کا حق ہے۔ کیونکہ ہم نے زندگی کے خوبصورت ایام ادب ثقافت کیلیے وقف کی ہیں تو کسی غیر ادبی شخص کو تنقید کرنے کا حق تب ملے گا جب وہ پہلے خود کو ثابت کرے کہ انکا بھی ادب سے تعلق ہے ۔ مجھ سمیت میرے قبیلے کے جو اساتذہ اور جو دوست ہیں وہ اللہ کے فضل سے کھوار کی حد تک خود کو ادبی شخصیات منوا چکے ہیں مزید کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ۔ پھر بھی اگر کوئی طنزاً ہمیں ادبی ٹھیکہ دار کہنے پہ تلا ہوا ہے تو ہم بھی خوشی سے یہ طعنہ قبول کرکے اعلان کرتے ہیں ہاں ہم ادبی ٹھیکہ دار ہیں۔

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں

پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کا

جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
67660cookie-checkہاں ہم ادبی ٹھیکیدار ہیں

کالم نگار/رپورٹر : اقرار الدین خسرو

Share This