خیابان و گلزار و باغ آفریدم

خالق ارض و سماء کی عطا کردہ نعمتوں میں حسن ایک ایسی دولت ہے جسے ہر ذی شعور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ خوبصورتی انسانوں میں ہو یا کھیت کھلیانوں میں، چاند میں آسماں میں ہو یا رخ جاناں میں ، لہلہاتی اور بل کھاتی وادیوں میں ہو یا اچھلتی کودتی ندیوں میں ، کوہسار ، سبزہ زار اور مرغزاروں میں ہو یا گنگناتی آبشاروں میں ہمیشہ دعوت نظارہ دیتی ہے، اور بصیرت والے قدرت کی خوبصورتی کا نظارہ کرنے کیلیے کبھی گلوں کے انجمن میں ڈیرا ڈالتے ہیں تو کبھی صحراؤں کی خاک چھانتے ہیں۔ قدرتی حسن سے مالامال وادی چترال جس کی تخلیق میں خالق کی کمال فیاضی بھی شامل ہے تو دوسری طرف “خیابان و گلزار و باغ افریدم” کے مصداق اس چمن کی آبیاری میں اہلیان چترال، چترال کی شاندار روایات اور منفرد ثقافت کا کردار بھی ہے، کہتے ہیں کہ مکان کی زینت مکین سے ہے۔ اگر ایک طرف چترال قدرتی حسن میں بے مثال ہے تو اہلیان چترال محبت، امن بھائی چارے اور آپس کی ہمدردی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ موسم بہار اور خوش الحان پرندوں کی آمد کے ساتھ ہی کثیر تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح چترال کا رخ کرتے ہیں اور دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یوں تو پورے چترال میں ذوق کی تسکین کے ساماں میسر ہیں

 

مگر آج میں آپ کو سب ڈویژن مستوج کے صدر مقام بونی میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس کی سیر کراتا ہوں جو نہ صرف چترال میں اپنی نوعیت کا واحد گیسٹ ہاؤس ہے بلکہ اہل ذوق کیلیے” ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ ” والا معاملہ بھی۔۔۔ کام خالص نیچرل علاقائی اور نام خالص انگریزی the village white rock ہمارے محترم دوست ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز صاحب والی اسرا کا یہ خوبصورت مہمان خانہ نام کے سلسلے میں اسرا کے چھوٹے بھائی اور نوجوان شاعر انور ولی خان نے ازراہ مذاق کہا تھا کہ اس نام سے گیسٹ ہاؤس کی مطابقت ایسی ہے جیسے ایک دیسی خاتون کو انگریزی ڈریس پہنایا گیا ہو۔

ویسے یہ انور کی شوخی کبھی کبھار اسرا کو ٹوکنے کیلیے مزاح کا سہارا لیتا ہے۔ وائٹ راک بونی چوک سے بائیں جانب قریب دو ڈھائی سو میٹر کے فاصلے پہ قائم ہے۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی گھوڑوں کا اصطبل ہے، شیخ سعدی کہتے ہیں کہ میں عشق کے رسم و راہ سے اتنا واقف ہوں جتنا بغداد والے گھوڑوں سے واقف ہیں۔ گھوڑوں کے معاملے میں اسرا کے والد محترم حیدری لال ، اسراء اور انور سبھی بغداد والوں سے پیچھے نہیں ، معزز مہمانوں کے لیے گیسٹ ہاؤس کے احاطے میں پک اینڈ ڈراپ کیلیے گھوڑے موجود ہیں ۔ دائیں طرف بڑا خوبصورت ہال۔ بائیں جانب چنار کے بڑے درخت کے نیچے روائتی انداز میں ” تخت” بیٹھنے کیلیے۔ آگے خوبصورت چمن اور رنگ برنگے پھول، گیسٹ ہاؤس کے اردگرد چیری توت اور خوبانی جیسے پھلدار درخت۔ مشرقی سرے میں مہمانوں کے کمرے میں داخل ہوتے ہی نوادرات کے خزانوں سے آشنائی ہوگی۔

یوں سمجھیں  کہ ایک خوبصورت میوزیم ہے ۔ جس میں قدیم چترالیوں کے زیر استعمال وہ تمام چیزیں محفوظ کی گئی ہیں۔ شکار کیلیے استعمال میں لائے جانے والے دیسی ہتھیار (راپال، سیاہ کمان، پولتائی وغیرہ ) ہو یا آلات حرب خنجرو شمشیر ، ہو یا گھریلو روزمرہ استعمال کی وہ تمام چیزیں یہاں محفوظ ہیں۔ ان تمام چیزوں میں سب سے نایاب سنوغرو ملنگ ( زیارت خان زیرک ) کے زیر استعمال وہ حقہ ہے۔ جسے انتہائی عقیدت اور محبت کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے۔ اور سب سے اہم بات اس گیسٹ ہاؤس میں چترال کے روایتی کھانے (غلمندی، چھیرا شاپیک، سنابچی، سورموڑیوغ، لاژیک ، ڑیگانو وغیرہ ) فرمائش پہ تیار کیے جاتے ہیں۔ ان سب پہ مستزاد گیسٹ ہاؤس کے مالک صاحب والی اسرا کی محبت و ظرافت انور کی شرافت وبزلہ سنجی اور معصوم شرارتیں باربار آپ کو ویلیج وائٹ راک کی طرف کھینچنے کیلیے کافی ہیں۔

بس صرف آپ کو ایک بار ضرور وہاں جانا چاہیے خاص کر آپ چترالی ثقافت سے ناآشنا اگر سیاحت کی عرض سے چترال آرہے ہیں تو ضرور ویلج وائٹ راک بونی کا وزٹ کیجیے کیونکہ یہاں کھانوں سے لے کے مشروبات تک ، ثقافت اور روایات سے لے کے ہمدردی اور محبت تک سب کچھ نیچرل ہیں۔

بیابان و کہسار و راغ    آفریدی

خیابان و گلزار و باغ  آفریدم

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
64520cookie-checkخیابان و گلزار و باغ آفریدم
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : اقرار الدین خسرو

Share This