ریشن پاور ہاؤس کا معمہ

سب دویژن مستو ج کے خوبصور ت اور تاریخی گاؤں ریشن میں واقع چاراعشاریہ دو میگا واٹ بجلی گھر پر کام کا آغاز 1989ء میں ہوا اور انیس سو چھیانوے  یا ستانوے عیسوی میں جاکر یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچا جو کہ جرمنی کے تعاون سے تعمیر ہوا۔ یہ بجلی گھر چرس کی کاشت کے بدلے میں سب ڈویژن مستوج کو دیاگیا تھا، کیونکہ اس سے قبل سب ڈویژن مستوج میں چرس کاشت کی جاتی تھی جو کہ یہاں کے باسیوں کا بڑا ذریعہ معاش تھا۔ 80ء کی دھائی کے آخری عشروں میں حکومت پاکستان نے چرس کی کاشت پر پابندی لگا دی اور اس کے بدلے میں سب ڈویژن مستوج کو د و میگا پراجیکٹ دینے کا فیصلہ کیاجن میں سے ایک ریشن پاور ہاؤس اور دوسرا چترال بونی روڈ تھا۔جب 1990ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی اور میاں نواز شریف برسر اقتدار آیاتو بہت سارے منصوبوں کی طرح ریشن پاور اسٹیشن پر جاری کام بند کردیا گیا ،جس پر1992-93 ء میں پاکستا ن پیپلز پارٹی کی حکو مت برسراقتدار آنے کے بعد دوبارہ کام کا آغا ز کیا جو کہ1995-96 ء میں جاکر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا ۔چترال بونی روڈ بھی اسی ہی دور میں پختہ ہوکر مکمل ہوگیا ۔چار اعشاریہ دو میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا یہ بجلی گھر سب ڈویژن مستوج کے علاوہ لوئر چترال کے بھی بڑے علاقے کے لیےروشنی کاواحد ذریعہ تھا ۔ریشن پاور ہاؤس سے تقریبا سولہ ہزار گھرانے مستفید ہورہے تھے ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس بجلی گھرکی کل آمدنی تمام تر اخراجات کے بعد 15 لاکھ روپے فی ماہ تھیں۔
17 جولائی 2015ء کوجب مون سون کی بارشیں شروع ہوئی تو مختلف علاقوں میں ٹرانزمیشن لائن گرنے کی وجہ سے علاقہ بجلی کی سہولت سے محروم ہوگیا ۔24جولائی 2015ء کو ریشن کے آبی نالے میں تباہ کن طغیانی اور سیلاب آیا حفاظتی پشتیں نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی ریلے نے بجلی گھر کو بھی جزوی نقصان پہنچا یا ،یوں علاقے کے سولہ ہزار گھرانے بجلی کی سہولت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئے ۔ دن ہفتوں ، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوگئے، لیکن حکومت ریشن بجلی گھر کی دوبارہ بحالی پر توجہ دینے کی زحمت نہ کی۔ بالآخر جب ایک سال کا عرصہ گزر گیا اوعوام کو بجلی گھر کے تعمیر کی کوئی اُمید نظر نہ آئی تو علاقے کے نوجوانوں اور عمائدین نے ریشن بجلی گھر بحالی کے نام سے مئی جون سن2016 ء کو ایک پرامن بھوک ہڑتالی تحریک کا آغاز کیاگیا جو ایک ماہ گزرنے کے بعد بالآخر اس وقت ختم ہوگیا جب وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور ایم پی اے مستوج سید سردارحسین کے درمیان کامیاب گفتگو اور فوری بنیادوں پر بجلی گھر کی بحالی کے لیے اسی کروڑ روپے جاری کرنے کا اعلان ہوا ۔اس اعلان کے ساتھ ہی اُمید پیداہوگئی تھی کہ عنقریب صوبائی حکومت اس اہم مسئلے پر کام کی شروعات کرے گی لیکن وہ محض سیاسی بیان ہی ثابت ہوا، صوبائی بجٹ کو پیش ہوئے اب تقریبا دس ماہ کاعرصہ بیت چکا ہے لیکن تاحال ریشن پاور ہاؤس پر کام کے آثا ر نظر نہیں آرہے ہیں۔یاد رہے اس احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے فنڈز دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے ضلعی صدر خالد پرویز نے ایک کروڑ ، پی ٹی آئی کے رہنما عبدالوالی خان ایڈوکیٹ نے پچاس لاکھ سے زائد روپے دینے کے اعلانات کئے تھے ۔ لیکن تاحال ان اعلانات کا بھی کوئی پتہ نہیں چلا ۔
صوبائی حکومت کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ ایک تیار بجلی گھر جس کو سیلاب میں جزوی نقصان پہنچا تھا ۔ ہنگامی طورپر اسے بحال کرنے کی بجائے پہلے دو سال تک ٹال مٹول کی پالیسی پر گامزن ہے۔چند ماہ قبل جب ریشن پاور ہاؤس کی بحالی کے لیے فنڈز کی فراہمی کا اعلان کیا گیا تھا توہر جانب کریڈٹ لینے کا سلسلہ  شروع ہوا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی قیادت نے اس عمل کو صوبائی حکومت کی اہم کاوش سے تعبیر کرکے یہ اعلان کیا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں ریشن بجلی گھر کی دوبارہ بحالی کا کام مکمل کیاجائے گا اس کے ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنادی گئی کہ ریشن بجلی گھر کی بحالی تک علاقے کے عوام کی ضروریات کے آزالے کے لیے دو میگاواٹ رینٹل بجلی گھر چلایا جائے گا اور ہنگامی صورتحال سے عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔ افسوس اس بات کی ہے کہ ہمارے لیڈروں اور سیاست دانوں کو ہنگامی صورتحال کا بھی پتہ نہیں پہلی بات یہ ہے کہ ہزاروں کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ریشن بجلی گھر صارفین کو رینٹل اسکیموں سے بجلی کی فراہمی ایک سہانے خواب سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔ اگر رینٹل بجلی گھر ہی چلانی تھی تو گزشتہ دو سالوں سے عوام کو کیوں اندھیرے میں رکھا گیا ہے؟ کیوں بجلی گھر کے تباہ ہوتے ہی رینٹل بجلی کا بندوبست نہیں ہوا؟ عوام تو ریشن بجلی گھر کی بحالی کا خواب دیکھا رہے تھے ،تبدیلی والی سرکار نے رینٹل بجلی کا لولی پاپ دے دیا۔یہاں یہ بتاتا چلو کہ ایم پی اے مستوج سردار حسین کو اس سلسلے میں جو اقدامات اٹھانا چاہئے تھا وہ بھی اس سارے معاملے میں مکمل طورپر ناکام رہے ۔
ایک ارب32کروڑ کے بے فائدہ چھوٹے بجلی گھر

اب صوبائی حکومت کا ایک اور کارنامہ ملاحظہ فرمائیں گزشتہ چار سالوں سے محکمہ پیڈو خیبرپختونخواہ کے زیر انتظام چترال ہی میں ا1ارب 32کروڑ روپے کے چھوٹے پن بجلی گھروں کے منصوبے زیرتعمیر ہیں۔ ان میں سے اکثر کی پیداواری گنجائش پانچ سے لے کر ستر کلوواٹ تک ہے ۔ البتہ ایک میگاواٹ کا کوئی منصوبہ اس میں شامل نہیں۔جب یہ منصوبہ زیر غور تھا تو چترا ل کے مختلف سماجی وسیاسی شخصیات سے رائے حاصل کی گئی ۔ تو اس وقت ڈپٹی کمشنر چترال کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی تھی کہ کم از کم پانچ سو کلوواٹ سے لے کر ایک میگا واٹ تک مختلف علاقوں میں بجلی گھر تعمیر کیا جائے ۔ تاکہ ریشن پاورہاؤس پر اضافی بوجھ ختم ہوسکے لیکن اس تجویز پر عمل درآمد نہ ہوا بلکہ محکمہ پیڈو نے آغاخان رورل سپورٹ پروگرام(AKRSP) اور سرحد رورل سپورٹ پروگرام (SRSP ) کے ذریعے مختلف جگہوں میں انتہائی چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعمیر شروع کردی۔ جن میں سے ایک بجلی گھر بھی ابھی تک تکمیل کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔
24کروڑ 75لاکھ کے سولر:
صوبائی حکومت نے لاکھوں روپے آمدنی کے حامل 4.2 میگاواٹ کے ریشن پاور ہاؤس کی دوبارہ بحالی کی بجائے متاثرہ صارفین کو ایک اور طریقے سے لولی پاپ دینے کا فیصلہ کیا ۔ وہ یوں کہ سبسڈی ریٹ پر 2750 سولر دینے کا اعلان کر دیا ۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق ایک سولر کی قیمت 90 ہزار روپے ہے۔ ان میں سے 9 ہزار روپے فی صارف جبکہ 81 ہزار روپے حکومت اداکررہی ہے ۔ اس لحاظ سے ان سولروں کی مد میں عوام سے 2کروڑ 47لاکھ 50 ہزارروپے وصول کئے گئے جبکہ سرکاری خزانے سے 22کروڑ 27لاکھ50ہزار روپے ٹھیکیدار وں کے جیب میں چلے گئے ،جو کل ملا کر 24کروڑ 75لاکھ روپے بنتے ہیں جبکہ ان سولرپینل کی قیمت زیادہ سے زیادہ چالیس ہزار روپے کی ہیں۔سوال یہ ہے کیا یہ سولر پینل بجلی کی ضرورت کو پوری کرسکتی ہے؟ اس کے علاوہ وہ سولربھی ایک برس قبل جنوری دوہزار سولہ کو صارفین کو دیاجانا تھا اس کے لیے عوام سے پیسے وصول کرکے PEDOکے بینک اکاؤنٹ میں جمع بھی کیا گیا تھا ۔ لیکن سب ڈویژن مستوج کے اکثر ویلج کونسل ابھی تک ان سولروں سے محروم ہیں۔وزیر اعلیٰ کے پی پرویز خٹک نے سال2016ء کو اپنے شندور کے دورے کے موقع پرمزید تین ہزار سولر دینے کا اعلان کیا تھا ۔ یعنی منصوبہ بندی کے بنا صوبائی حکومت اربوں روپے غیر تسلی بخش منصوبوں پراڑا رہی ہیں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
26960cookie-checkریشن پاور ہاؤس کا معمہ

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This