پیشی

میں نے برقی پیغام بھیجا “سر ہم” پیشی” کا انتظار کر رہے ہیں ” کافی دیر تک جب کوئی جواب موصول نہ ہوا تو اپنے اندر کے بَونے اور جھیمپو انسان نے اشارہ دیا کہ” تم” اور ایسے ایسے لوگ، اٹھو اپنا راستہ ناپو! تمھارے لیے اتنی بڑی شخصیت کے پاس ملاقات کا وقت کیوں کر ہو سکتا ہے میں نے “چھوٹے” کی مان رکھ لی اور چلتے چلتے کافی دور نکل گیا۔ بازار کے شور غل میں موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف اسد محمود خان صاحب بول رہے تھے۔ “آپ کہاں ہیں اس وقت، میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں” آواز میں خلوص کی ایسی چاشنی تھی کہ میں الٹے قدموں واپس ہوا اور سیدھا ان کے دفتر پہنچا۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ پر بیٹھتے ہی اتنے بے تکلف ہو گئے کہ مجھے ایسا لگا۔ جیسے اسد صاحب سے برسوں کا یارانہ ہے۔ کچھ لوگوں کی شخصیت اتنی کرشماتی ہوتی ہے کہ بندے کو فوراً اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور یہ حصار بالاحصار کی طرح پکے اینٹوں اور سرخ مٹی کا نہیں بلکہ پھولوں کا ہوتا ہے، خوشبو کا ہوتا ہے اور اسد صاحب ہر وقت دوست احباب کے لیے خوشبو کا حصار اٹھائے پھرتے ہیں۔ صاحب نے چائے کا آرڈر دیا۔ میں نے کہا سر تکلف نہ کیجیے، کہنے لگے “تکلف کو تو ہم نے کب کا برطرف کیا ہوا ہے” اس بات کی سچائی بعد میں سامنے آ گئی جب انہوں نے اپنے خاکوں کا مجموعہ “تکلف بر طرف” اپنے آٹو گراف کے ساتھ عنایت کیا۔ یہ میرے بس کی بات نہیں کہ میں اسد صاحب کی ادبی خدمات پر بات کروں یا ان کی کسی کتاب کا قد ناپوں مگر ادب کے ایک ادنی’ طالب علم کی حیثیت سے جب میں نے ان کی کتاب “تکلف برطرف” کا صرف دیباچہ جسے انہوں نے خود لکھا ہے، پڑھا تو مجھے ان کی ادبی قد کاٹھ کا اندازہ ہو گیا اور حیرانگی بھی ہوئی کہ اتنے بڑے لکھاری کے ساتھ اتنی آسانی سے ملاقات کیسے ممکن ہوئی۔ آپ کی تصنیفات میں “تکلف برطرف” کے علاوہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عسکری تنظیم سازی، کاکول پریڈ، کاف ٹین، کیپ تان، صبحِ شہادت، در شک، آلھنا، نیم وا کھڑکی میں جلتا چراغ، بارشوں کے جنگل میں، وغیرہ شامل ہیں۔ افسانہ نویسی اور تنقیدی مضامین بھی لکھتے ہیں، شاعری بھی کرتے ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں بھی پیش پیش ہیں۔ کافی گپ شپ کے بعد مجھ سے کچھ سنانے کی فرمائش کی۔ میں نے اپنا ایک مختصر افسانہ سنایا۔ بڑی تعریف کی، ہمت بندھائی۔ میں سمجھا کہ مہمان سمجھ کر میرا دل رکھنے کے لیے تعریفیں ہو رہی ہیں۔ ورنہ من آنم کہ من دانم۔ مگر پھر خود ہی وضاحت کی کہ میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کر رہا بلکہ آپ کے افسانے میں جان ہے، واقعات مربوط ہیں، بنت اچھی ہے، جملے متاثر کن ہیں اور سادگی بھی ہے۔ آج کل اسد صاحب کا ایک اور ناول “پیشی” تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے جس کا پس منظر خانہِ خدا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم حج و عمرہ پر جاتے ہیں اور یہ سفر روح کا سفر ہوتا ہے۔ مقصود بھی روحانی فیض یابی ہے۔ جب ایک تخلیق کار اس سفر پر جاتا ہے تو اس کے احساسات کی جولانی اور خیالات کی اڑان کس حد کو چھوتی ہے یہ وہی جانتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج تک حج و عمرہ کے موضوع پر کسی نے ناول نہیں لکھا، سفر ناموں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، رپورتاژ بھی لکھے گئے، افسانے بھی مگر اس موضوع پر ناول لکھنے کی سعادت صرف اسد محمود خان صاحب کے حصے میں آئی ہے۔ دعا ہے کہ یہ ناول بھی جلد مکمل ہو کر منصہ شہود پر آجائے۔ اسد صاحب کے ساتھ اس یادگار نشست میں اتنی باتیں ہوئی کہ اٹھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا، پر کیا کریں وقت کی کمی تھی۔ جاتے جاتے میں نے کہا ” سر ہم” پیشی” کا انتظار کریں گے ” پہلے جملے میں “پیشی” سے مراد ملاقات تھی اور آخری جملے میں پیشی سے مراد آنے والا ناول ہے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
57880cookie-checkپیشی

کالم نگار/رپورٹر : احسان شہابی

Share This