پیلے پیلے پیرہن

پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودھے اودھے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیر ہن

ہمارے سامنے پھول تھے، ننھی پریاں  تھیں، قطاریں بھی تھیں،لیکن ان کے پیرہن صرف پیلے تھے- کیوں کہ آج ہمارا سکول yellow day منا رہا تھا۔۔ ایف سی سکول اینڈ کالج  “کھیل کھیل میں تدریس” کے سنہرے اصول کی پیروی کرتے ہوئے ہر تعلیمی سال کے شروع ، وسط اور آخر میں منٹوسوری کلاسز کے ننھے منے  طلباؤ طالبات کے لیے “رنگوں کے دن ” کا اہتمام کرتا ہے۔۔ آج کا دن بھی ان ہی میں سے ایک تھا۔ سارے بچے زرد کپڑوں میں ملبوس تھے۔
ساتھ لائے ہوئے کھلونے بھی  اسی رنگ کے تھے۔ کمرہ جماعت میں  سنہرے پیلے رنگوں کے غبارے اڑ رہے تھے۔ اس سنہرے ماحول میں بچوں کے معصوم چہرے چمک رہے تھے- وہ مطمئن تھے- اپنے دوستوں سے اپنی استانیوں سے- ان کو کوئی نہیں ڈراتا، ان کو کوئی نہیں ڈانٹتا-ان کو پیار سے سیکھایا اور پڑھایا جاتا ہے- ان کو بور نہیں کیا جاتا- ان کے محنتی اور اپنے کام میں ماہر استانیاں کھیل کھیل میں  سب کچھ پڑھا دیتی  ہیں- اس لیے ابھی سے ان کے چہروں پر خود اعتمادی  صاف دکھائی دیتی ہے-


بچے کی شخصیت کی تشکیل میں ماحول، والدین، ہمجولیوں اور سکول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے-ماہرین نفسیات کہتے ہیں بچے کی شخصیت کی تشکیل کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد کی دنیا  کو دیکھنا شروع کر تا ہے- سمجھدار والدین اسی وقت بچے کے رجحانات کو مثبت رخ دینے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں. آہستہ آہستہ بچے کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کے حواس کے کام کرنے کی صلاحیتیں بھی بڑھتی جاتی ہیں- بچہ ایک ماہر نقال ہوتا ہے، وہی کچھ بولتا ہے جو اس کے سامنے بولا جاتا ہے، وہی کرتا ہے جو دیکھتا ہے- بچے کے دماغ کی مثال صاف ستھرے سلیٹ کی ہے جس میں ہم اپنی مرضی سے جو چاہے لکھ سکتے ہیں- بچے کی  شخصیت کی متوازن تشکیل کے لیے وا لدین اور اساتذہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ ذہنی تربیت، کردار سازی اور شخصیت سازی بچے کی ابتدائی عمر میں زیادہ گہرا، راسخ اور پُر اثر ہوتا ہے- اس لیے تعلیم وتربیت کے یہ ابتدائی مرحلے یعنی منٹوسوری کلاسز بچے کی آنے والی زندگی اور کیریئر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں. بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں تعلیم تو ہے مگر تربیت کی طرف توجہ بہت کم دی گئی ہے- بچے کو پڑھایا جاتا ہے، معلومات کا بھاری بوجھ اس کے دماغ میں ٹھونسنے کی کوشش کی جاتی ہے- بچہ رٹا لگا یاد کرتا رہتا ہے- رٹہ بازی کے اس عمل میں اساتذہ اور والدین تربیت  کو بھول جاتے ہیں یا بچوں کو پڑھاتے ہوئے تشدد سے کام لیتے ہیں، ان کو ڈرایا، دھمکایا جاتا ہے۔
سزا اور تشدد بچے کی شخصیت کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں- اس کے معصوم گال پر لگا  ضرب در اصل ان کی روح پر لگتا ہے، بچہ سہم جاتا ہے، ڈر جاتا ہے اور یہ خوف اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے- خود اعتمادی جاتی رہتی ہے- بولتے ہوئے یا پڑھتے ہوئے جھجک، ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے- غصہ اور چڑچڑا پن اس کے مزاج میں شامل ہو جاہے۔ اسی طر ح بچہ متشدد مزاج واقع ہوتا ہے اور شرارت، توڑ پھوڑ کے ذریعے انتقام لینے کی کوشش کرتا ہے- کچی عمر میں والدین، اساتذہ اور ماحول بچے کو جو کچھ دیتے ہیں ۔بڑے ہو کر بچہ وہی کچھ لوٹا دیتا ہے- اگر جوان اولاد ضعیف العمر والدین کا کہا نہیں  مانتی ہیں ان کی نافرمانی پر اتر آتی ہیں تو یہ انہی کی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے- کیوں کہ

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے لوٹا رہا ہوں میں

کہا جاتا ہے کہ بچے لاڈ پیار سے بگڑ جاتے ہیں-.! جی ہاں  اگر لاڈ پیار حد سے بڑھ جائے تو بچے اس کا نا جائز فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرتے ہیں- مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ لاڈ پیار کی جگہ غصے اور سختی سے کام لیا جائے بلکہ   بچے کے ساتھ متانت اور سنجیدگی سے پیش آنا چاہیے اور بقدر ضرورت ہلکی سی سرزنش سے کام بخوبی آگے چل سکتا ہے-

Zeal Mobile Reporter

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This