چترال کی تاریخ میں شاہ شمس کی اسلامی دعوت کا تذکرہ (قسط 2)

شاہ شمس کے ایک رفیق و مرید جن کا نام ملائے روم بتایا جاتا ہے۔ اس کی اولاد قبیلے کے پاس قران مجید کا ایک قلمی نسخہ موجود ہےجس کے عین وسط میں راقم نسخہ جس کا نام ملا محمود بیگ درج ہےنے یہ روایت فارسی زبان میں یوں تحریر کی ہے

“بابا ہایب بہ ہمراز شمس مذکور در کھوستان (قدیم زمانہ میں بالائی چترال کو کھوستان کے نام سے بھی یاد کیا گیاہے۔)  خاض موضع لون آمدند وآتش ذدہ، بزرگ برشش یاران خود فرمود “اے یاران من رفتم یا در ہفت سال و یادر ھفت ماہ و یادر ھفت روز خواہم آمدشماآتش را پوف نکردہ یعنی گل خن را خراب نہ کرداباشید پس از رفتش ہمگی رفتند مگر مسمیٰ بابا ھایب سرمست باقی ماند تا ھفت ماہ ھفت روز تمام شدہ بود بزرگ شاہ شمس در آمد وھمو باباھایب رابھل کرد (چترال کے مقامی زبان کہوار میں نیک دعا دینے کو بہیل کرنا کہتے ہیں۔)کہ تو فرمودہ دن رابجا کردی تا ھفت روز تر امھتری لایق است”

ترجمہ: بابا ایوب شمس مذکور کے ہمراہ کھوستان کے ایک خاص مقام لون آگئے جہاں لنگر انداز ہونے کے بعد بزرگ نے اپنے ۶ ساتھیوں کو فرمایا اے یاروں میں یہاں سے چلتا ہوں سات سال یا سات ماہ یا سات روز بعد واپس آونگا تم لنگر کی آگ بجھائے بعیر اور لنگر کو خراب کیے بغیر یہاں رہو ان کے جانے کے بعد دوسرے ساتھی سب ادھر ادھر چلے گئے مگر صرف بابا ایوب سرمست پیچھے باقی رہ گئے یہاں تک کہ سات مہینے سات دن بعد بزرگ شاہ شمس واپس آگئے اور اس بابا ایوب کو نیک دعا دی  اور فرمایا کہ تو نے میرا حکم بجا لایا تمھیں سات دن کی مہتری مبارک ہو۔

شاہ شمس یا شمس الدین نامی ایک بزرگ کا گزر چترال کے علاوہ شمالی علاقہ جات میں اشکو من اور ہنزہ کی طرح ہونے کے بارے میں بھی روایت ملتی ہے اس بارے میں ایک دوسرے تاریخ  نویس جناب عبداللہ جان ہنزائی صاحب نے اپنی تاریخ میں بحث کی ہے

اس حوالے سے ایک اور محقق پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر محمد اسلم نے یوں  لکھا ہے۔

ترجمہ: شمس سبزواری اور اسماعیلی مبلعین نے بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں گلگت اور ہنزہ میں اسماعیلی مکتبہ فکر کی تبلیع کی تھی اب تک ان علاقوں میں اسماعیلیوں کی اکثریت ہے۔

اے جی چنارانے لکھا ہے کہ سید پیر شمس الدین ثانی کشمیر ،ہندوکش ، اور کھوستان میں سید کمال الدین ثانی موج دریا اور سید شہاب الدین ثانی مست دریا کے ساتھ ملکر نور بخشی طریقہ جاری کیا، ان کے مریدین اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے  ۔

“تاریخ عہد عتیق ریاست ہنزہ “کے مصنف مرحوم وزیر قدرت اللہ بیگ کا خیال ہے کہ یہ بزرگ نور بخشی فرقہ کے ایک پیشوا  شمس الدین عراقی تھے۔ جن کی وفات ۱۵۲۶ء میں ہوئی ہےجو گلگت اور ہندوکش  سے گزرے ہیں ۔

تاریخ کشمیر کا ایک اقتباس بھی نہایت توجہ طلب ہے محمد دین فوق لکھتا ہے کہ “سید محمد دین کا لقب شمس الدین عراقی مرزا سلطان حسین والی خراسان کے ہاں ایک معزز عہدے پر فائز تھے، وہ اپنے والی ملک کی طرف سے سلطان حسن شاہ شاہمیری کے آخری سال میں بطور سفیر کشمیر آئے تھے، آپ یہاں آٹھ سال تک مقیم رہے۔ اور چونکہ شیعہ تھے، اپنے مذہبی عقائد کی تبلیغ کا ان کو بہت خیال تھا لیکن یہاں بادشاہ اور ان کے رعایا سب اہل سنت  والجماعت تھے اس لیے نہایت پوشیدہ طریقے سے شیعہ مذہب کی تبلیغ کرتے رہے اندر ہی اندر آپ بابا علی نجار کا خلیفہ بابا اسماعیل  اور چاڈ دورہ کے جاگیردار ورلیس ملک موسیٰ دینہ کو اپنا ہم عقیدہ بنایا۔

ڈاکٹرمنظور علی کی تالیف و تدوین تاریخ “قراقرم ہندوکش” میں بھی صفحہ ۲۱۰ پر تفصیل سے بحث ہوئی ہے اور یہی روایت بیان ہوتی ہے ۔

استاذ محترم ڈاکٹر عزیز اللہ نجیب نے ماضی قریب میں کابل کا دورہ کیاتھاان کے مطابق کابل کے نواح میں ایک اور شمس الدین جانباز نامی بزرگ کا مقبرہ موجود ہے جن کی وفات ۱۳۸۹ء میں ہوئی ہے چونکہ چترال بدخشان کے ساتھ الحاق کی وجہ سے ہمیشہ بدخشان کی اسلامی فکر سے اثر پذیر رہا ہے لہٰذا مذکورہ شمس الدین جانباز کا چترال سے گزرنا بھی ممکن ہے۔

تاریخی حوالوں   کے مطابق ان مذکورہ و متعلقہ شمس الدین نامی بزرگوں کی تاریخ وفات  ذیل کے مطابق ہیں ، ان تاریخی ادوار کا اندازہ  کیا جاسکتا ہے تاکہ تاریخ چترال کی روایات سے اندازہ و تعین کرنے میں آسانی ہوسکے۔ جلال الدین رومی کے مرشد شمس الدین تبریزی کی تاریخ وفات ۱۲۴۷ء ہے۔ اسماعیلی داعی حضرت شمس الدین سبزواری تبریزی ۱۳۵۶ء میں وفات پاچکے ہیں، اور شمس الدین جانباز کی وفات جیسا کے ذکر ہوا  ۱۳۸۹ء میں ہوئی ہے جبکہ شمس الدین عراقی جو خراسان کے تیموری سلطنت کی طرف سے سفیربن کر کشمیر گئے تھے کی وفات ۱۵۲۶ء میں ہوئی تھی۔

یہاں دو باتیں اگرچہ عنوان سے زیادہ  متعلق نہیں ہیں۔ مگر چترال کی تاریخ کے حوالے سے ضرور قابل ذکر ہیں۔ وہ یہ کہ محمد دین فوق کی روایت سے ان دو باتوں کو تقویت ملتی ہےاور چترال میں بابا ایوب مرزا کو تیموری شہزادہ بتایا جاتا ہےجو شاہ شمس کے ساتھ یہاں وارد ہوئے ہیں۔ نیز ان کا سن ورود اغلب انداز کے مطابق ۱۵۲۰ء  اس کے قریب ہے۔ اور وہاں شمس الدین عراقی جو تیموری ریاست سے بطور سفیر کشمیر کی طرح گئے وہ بھی ۱۵۲۰ء کے قریب ہےکیونکہ ۱۵۲۶ء میں ان کی وفات کشمیر میں ہوئی ہے۔ لہٰذا دوسری بات جو یقین کے قریب تر لگتی ہےیہ کہ تیموری شہزادہ ان کی حلقہء ارادت اور وفد میں شامل ہوا ہوگا۔

نیز ارشادوارادت کا یہ سلسلہ ہی تھا جس نے بعد میں شاہ بریا ولی کی دعا کی بدولت بابا ایوب کی اولاد کی سنگین علی کے لیے حکومت کے حصول کو ممکن بنانے میں معاون  ثابت ہوئی ۔

شاہ شمس اور بابا ایوب کے علاوہ ایک عالم دین فرد بھی شامل تھا ۔جسے ملَائے روم اور بعض دانشمند بھی کہتے ہیں۔ لیکن واضح رہےملَا دانشمند رستاقی ایک دوسری شخصیت ہے۔ جنہوں نے بھی تاریخ اسلام میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ عام روایت ہےکہ ملائےروم شاہ شمس کے رفقا اور مریدوں میں سے تھے ۔ جسے چترال کے مختلف ایریاز میں رہنے والے دانشمند خیل قبائل اپنا مورث اعلیٰ مانتے ہیں۔ چترال کے تاریخ میں اس خاندان نے اسلامی تعلیمات کو پھیلانے میں جو کردار ادا کیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
78110cookie-checkچترال کی تاریخ میں شاہ شمس کی اسلامی دعوت کا تذکرہ (قسط 2)

کالم نگار/رپورٹر : خلیفہ سیدالکریم

Share This