الیکشن 2018تجزیاتی رپورٹ

عام انتخابات کی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پورے ملک کے بر عکس ہمارا حلقہ انتخاب ہر لحاظ سے منفرد رہا ہے ۔اس کی کئی ایک وجوہات ہوسکتے ہیں، البتہ حالیہ الیکشن میں لوگوں کے رویوں میں تبدیلی کچھ اس طرح سے واضح ہو کر سامنے آئے جن کی روشنی میں ان کی نفسیات کو سمجھنے میں آسانی ہوئی، چترال کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے یہاں کے لوگوں کی تنہائی پسندانہ سوچ کو گزشتہ 35 سالوں کی پسماندگی ، محرومیوں اور نا انصافیوں سے تعبیر کرتے ہیں، جن کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی اکژیت حالات حاضرہ سے واقفیت کے باوجود نا امیدی کے عالم میں نتائج سے بے نیاز ہوکر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔
2002 سے منعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چترال کی 40 فیصد آبادی  کٹرمذہبی ذہنیت کا مالک ہے،ان کا ووٹ ہر الیکشن میں کسی نہ کسی صورت مذہبی جماعتوں کو جاتا ہے اسی طرح چترال کی 40 فیصد آبا دی روشن خیال اور ترقی پسندانہ سوچ رکھتی ہے ان کا ووٹ تقسیم ہوکر بائیں بازو کے سیاسی جماعتوں کے حق میں استعمال ہوتا ہے،جبکہ چترال میں 20فیصد لوگ ایسے ہیں جو قوم پرستی ،علاقہ پرستی اور رشتہ داری کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
اس مرتبہ سیاسی جماعتوں نے چترالی عوام کی ان تمام خصوصیات کو مد نظر رکھ کر اپنے اپنے امیدواروں کا چناؤکیا،جس کی بنیاد پر عوام کی اکثریت نے جماعتی وابستگیوں اور نظریات کو سامنے رکھ کر اپنے حق رئے دہی استعمال کیاجو کہ کسی حد تک خوش آئند تھا۔
علاقائی اور فکری تناظر میں اس الیکشن کا جو دوسر امثبت پہلو سامنے آیاوہ یہ تھا کہ مختلف اُمیدواروں کی طرف سے اپنے ذاتی مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ابھارنے کی بھرپور کوششوں کے باوجود سنی اکژیتی علاقہ دروش اور چترال تحصیل میں مجموعی طور پر اسماعیلی امیداروں کو 9000کے قریب ووٹ ملے،اسی طرح اسماعیلی اکثریتی علاقے تحصیل مستوج ،لوٹ کوہ اور کھوت یو سی میں مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کے حق میں مجموعی طور پر 6000 سے زائد ووٹ ڈالے گئے جو 2013 کے مقابلے میں ۳ گنا زیادہ ہیں، اس الیکشن کا تیسرا مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ قومیت اور علاقہ پرستی کے نام پر ووٹ مانگنے والوں کو عوام نے مکمل طور پر مسترد کردیا۔
مجموعی طور پر تحصیل مستوج اور تحصیل تورکہو کے عوام کی اکثریت نے ملکی صورت حال اور حالات حاظرہ سے متاثر ہو کر قومی مفاد کی خاطر اپنا ووٹ کاسٹ کیا جو کسی حد تک علاقے کی ترقی کی خاطر درست فیصلہ تھا۔
علاقائی سطح پر الیکشن 2018 کے منفی پہلووں کا اگر جائزہ لیا جائے تو امیدواروں کے توقعات سے زیادہ جھوٹ فریب اور منافقت کا دلچسپ نقشہ سامنے آجاتا ہے۔مسلم لیگ ن کے امیدوار شہزادہ افتخارالدین سے ایک ہزار اختلاف کے باوجود اس بات پر کوئی شک نہیں کرسکتا کہ چترال کو اندھیروں سے نکالنے کیلئے گولین گول کی بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل ہونے سے پہلے ہی چترال کو فراہمی میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے،جس کا بر مالا اظہار اس وقت کے واپڈا چیف اور پیسکو کے نمائندے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بارہا کر چکے ہیں،شہزادہ صاحب اپنی اس بہترین کاوش کے عوض میں دروش اور چترال کے عوام سے بھرپور حمایت ملنے کے حوالے سے قدر ےمطمئن تھا۔شہزادہ صاحب کا دوسرا قابل قدر عوامی خدمت 3ارب 24 کروڑ روپے کا میگا پروجیکٹ تورکہو روڈ کی دوبارہ تعمیر کی وفاقی حکومت سے منظوری تھی جس کی خاطر شہزادہ صاحب نے دن رات محنت کی ،اس کا اعتراف چیف انجینئر CNW نے 2017میں تورکہو روڈ کی تعمیر کے حوالے سے اس وقت کے ایم پی اے سردار حسین سے ملاقات میں کیا،اتفاق سے اس میٹنگ میں  خود  موجود تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس میگا پروجیکٹ کیلئے منظور شدہ فنڈز کا وفاق سے صوبے کو منتقلی انتہائی مشکل کام تھا جو کہ افتخار صاحب کی انتھک کوششوں سے ممکن ہوا،شہزادہ صاحب نے اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں تورکہو کا تفصیلی دورہ بھی کیا جہاں  پر شہزادہ صاحب کا شاندار استقبال کیا گیا،علاقے کے عوام اور اکابرین نے تورکہو روڈ کی تعمیر کے حوالے سے شہزادہ صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ زبردست تعریفیں اور محبت کا اظہار کیا، بد قسمتی سے ان کی محبت اور تعریفیں ووٹ کی شکل میں سامنے نہ آسکا۔
گزشتہ چند سالوں سے ANPکے مرکزی اور صوبائی قیادت کے مسلسل دورہ چترال اور اپنے دور اقتدار میں ضلع چترال کی ترقی کیلئے شروع کردہ ترقیاتی کاموں کی تشہیر کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ پہلے کی نسبت چترال کے عوام اور ANP کے درمیان  قربتیں بڑھ گئیں ہیں ،صاف نظر آرہا تھا کہ چترال کے عوام میں   ANPکیلیے نرم گوشہ پیدا ہوا ہے جو یقیناًالیکشن کے دن ووٹ کی صورت میں نظر آئے گا،چترال شہر میں بائی باس روڈ کولے کےہر دوسرا شخص ANP کی تعریف کر رہا تھا، اس خوش فہمی میں کہ بائی پاس روڈ نے چترال کے عوام کا دل جیت لیا ہے ۔ANPامیدواروں نے اپنے حلقہ انتخاب تورکہو اور موڑکہو کو اپنے برادری کے رحم وکرم پر چھوڑ کر چترال ٹاؤن میں ڈیرہ لگایااور بائی پاس بائی پاس کہتے رہے،ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ25جولائی کے دن چترال ٹاؤن کے عوام نےANPامیدواروں کو بائی باس کیا۔
اس الیکشن کا ایک اور دلچسپ کردار آل پاکستان مسلم لیگ کا امیدوار ساہیوال پنجاب کے چوہدری ڈاکٹر محمد امجد تھا جو محسن چترال پرویز مشرف کا نام لیکر نئے عزم کے ساتھ تقریباََ 300گاڑیوں کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے چترال شہر میں داخل ہوا، حسب روایت موصوف کا شاندار استقبال کیا گیا۔الیکشن مہم کے دوران ریلیوں میں شامل گاڑیوں،جلسوں میں حاظرین کی تعداد اور کھانے پینے کے بندوبست کو دیکھ کر APML کا پلڑا سب پر بھاری نظر آرہاتھا۔ڈاکٹر امجد کا چترال سے الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق موقف تھا کہ چترال کے عوام کی بھرپور فرمائش اور مشرف کی خصوصی ہدایت پر وہ الیکشن میں حصہ لے رہا ہے،چترال کے لوگوں نے جس طرح 1988 میں یہاں سے بیگم نصرت بھٹو کو کامیاب کرایا تھا اسی طرح مجھے بھی بھاری اکثریت سے کامیاب کر کے مشرف سے محبت کا ثبوت دینگے۔الیکشن سے چند دن پہلے ڈاکٹر امجد سے ملاقات کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ چوہدری صاحب سمجھتے ہیں کہ چترال میں سیاسی قیادت کا شدید بحران ہے اور خدا نے ان کو اس قوم کا مسیحا بنا کر ساہیوال سے بھیجا ہے،ایک ایسا چوہدری جس کو اس کے گاؤں والوں نے کبھی نہیں پوچھا ،چترال میں وی آئی پی پروٹوکول کو انجوائے کر رہا تھا۔الیکشن کیمپین کے دوران مختلف علا قوں میں روایتی اور غیر روایتی طریقوں  سےچوہدری صاحب کا پر تپاک استقبال کیا گیا، ایک مقام پر تو چوہدری صاحب کو سفید چغہ پہنا کر شاہین  جیسے نایاب پرندے کو لاکر ان کے ہاتھ پر بٹھایا گیا توضرور چوہدری صاحب کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہوگی کیوں نہ ساہیوال کو چھوڑ کرچترال کا چوہدری بن  جائے اس خیال کے ساتھ ہی چوہدری صاحب نے چترال میں اپنے لیے 20کینال کا گھر اور اسلام آباد میں چترالیوں  کیلئے دو کینال کا گھر بنانے کا اعلان کیا۔ چوہدری صاحب کے مطابق موڑکہو کے مقام پر ان کے جلسے میں 5000افراد نے شرکت کی ، انہوں نے ٹیلیفون پر پرویز مشرف سے وعدہ کیا وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ملکر اے پی ایم ایل کو ووٹ دینگے ۔اس حساب سے چوہدری صاحب کو تحصیل موڑکہو سے 10000ووٹ ملنے تھے،مشکل سے صرف 400افراد نے چوہدری صاحب کی دعوت کو حلال کیا

۲۶ جولائی کی صبح انتہائی ناامیدی کے عالم میں چوہدری صاحب کا آخری بیان تھا ،میں پرویز مشرف کو محسن چترال اور چترالیوں کو مشرف کا شیدائی سمجھ کر NA1 سے الیکشن میں حصہ لیا تھا ،معلوم ہوگیا چترالی عوام کا پرویز مشرف سے محبت زبان کی حد تک ہے جبکہ ان کے دل کسی اور کے ساتھ ہیں۔
پی پی پی کے سابق ایم پی اے اپر چترال سردار حسین نے اپنے دور اقتد ار میں پسماندگی کو مد نظر رکھ کراپنے لیے مختص فنڈ ز اور سپشیل فندز کا 80% تحصیل موڑکہو میں خرچ کیا ،جن میں لوٹ اویر روڈ، کوشٹ لنک روڈ، سہت روڈ، کشادگی وریجون تو تریچ روڈ ،لون واٹر پائپ لائن پروجیکٹ،کوشٹ موژدہ پائپ لائن پروجیکٹ،نیشکو زیزدی واٹر چینیلائزیشن ،ہائر سیکنڈری سکول لوٹ اویر ، گرین گودام ،ہائر سیکنڈری سکول نیشکو ،گرین گودام تریچ ان کے علاوہ کئی پرائمری سکول اور صحت مراکز کی مرمت کے ساتھ 100سے زیادہ 5سے لیکر 10لاکھ تک کے چھوٹے چھوٹے پروجیکٹ شامل ہیں ۔
موڑکہو کی طرف خاص توجہ دینے پر اور ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے پر سردار حسین ایم پی اے کو اس علاقے میں زبردست عوامی پزیرائی ملی جس کی بنا پر سردار حسین خود کو تحصیل موڑکہو کا ہر دل عزیز لیڈ ر سمجھنے لگا ،ان دنوں ایک پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں عوام کی طرف سے زبردست استقبال اور تعریفی جملوں سے متاثر ہو کر جنرل سیکرٹری پی پی پی اپر چترال نے موڑکہو کو لاڑکانہ کا نام دیکر سردار حسین کو چترال کا بھٹو قرار دیا،لوگوں کی اس جنونی کیفیت سے متاثر ہو کر پی پی پی امیدواروں سلیم خان اور حاجی غلام محمد نے خصوصی انتظام کر کے سابق ایم پی اے سردار حسین کو گلگت بلتستان سے واپس بلایااور موصوف کو تحصیل موڑکہو میں کرامات دیکھانے کا خصوصی ٹاسک سپرد کردیا۔26 جولائی کی صبح پتہ چلا کہ تحصیل موڑکہو میں ڈالے گئے 25000ووٹوں  میں سے پی پی پی کے حصے میں صرف 3400ووٹ آئے ہیں۔ ان کے متعلق پی پی پی امیدوار حاجی غلام محمد صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے 3000ووٹ ان کے اپنے ذاتی ہیں جو کہ 2013کے الیکشن میں بھی ان کے حق میں استعمال ہوئے تھے۔ باقی 400ووٹ پارٹی کے نظریاتی کارکنان کے تھے۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ بونی شہر کے اس پار واقع چھوٹے سے گاوں آوی لشٹ میں بھی پیش آیا جہاں پر ایک سو سے بھی کم کے آبادی کے لیے سردارحسن نے دو کروڑ ر وپے کا واٹر پائپ لائن پروجیکٹ کی تکمیل کے ساتھ 40,40لاکھ کے دو سسپنشن بریجسز اور پانچ پانچ لاکھ کے تین منصوبے مکمل کئے تھے ، اس گاؤں کے لوگوں نے ایم پی اے صاحب کو یقین دلایا تھا کہ ان کا ووٹ ساتھ پشتون تک پی پی پی کے حق میں استعمال ہو گا، بدقسمتی سے ان کا عہدو پیمان بھی تبدیلی کی نظر ہوگیا۔
حالات و واقعات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگیا کہ ہماری اکثریت ہمیشہ خدمات اور کردار سے زیادہ ذاتی پسند اور نا پسند ، نفرت کی بنیاد  پرقائم پروپگنڈوں کو کارکردگی اور اہلیت پر فوقیت دیتے ہیں۔جو کہ تہذیبوں کے اس جدید معاشرے میں جہاں رنگ نسل اور فرقے سے زیادہ اہلیت اور کردار کو ترجیح اور اہمیت حاصل ہے میں ایک لمحہء فکریہ ہے۔
نوٹ:۔میرے کسی جملے اگر کسی کی دل ازاری ہوئی ہو تو پیشگی معذرت خواہ ہوں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
78370cookie-checkالیکشن 2018تجزیاتی رپورٹ

کالم نگار/رپورٹر : ایس این پیرزادہ

Share This