چترال کی تاریخ میں شاہ شمس کی اسلامی دعوت کا تذکرہ (قسط 1)

“خذرہ اور اویر کلاں، دو اہم مراکز دعوت”

“ڈاکر مبارک علی پاکستان میں تاریخ کے بہت ہی مایہ ناز اسکالر شمار ہوتے ہیں۔ تاریخی عنوانات پر ان کی تقریباً بیس سے ذائد کتابیں تاریخ پبلیکیشنز لاہور سے شایع ہو چکی ہیں۔ اپنی ایک کتاب میں وہ لکھتا ہے ۔کہ

“ہر شہر(علاقے) کی دو خصوصیات ہوتی ہیں ایک تو اس کی قدامت اور دوسری اس کی تاریخی حیثیت،  کسی بھی شہر (علاقے) کی قدامت کا اندازہ اس کےتاریخی آثارسے ہوتا ہے۔اگر ان آثار کی دریافت پوری طرح نہ ہو تو اس صورت میں قیاسات اور تخیلات اس کے گرد دیو مالائی قصے کہانیوں کا ایک ہالہ بنا دیتے ہیں کہ جن کی وجہ سے شہر اور اس کے قدیم آثار رومانوی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔یہی صورت حال مورخوں کے ساتھ ہوتی ہے۔  اگر ان کے پاس تاریخی حقائق نہ ہو ں تو اس صورت میں وہ اپنے تخیل کی زور سے ایک دیو مالائی تاریخ کی تشکیل کرتے ہیں ان دونوں صورتوں میں شہر کی تاریخ ٹھوس حقائق کی بجائے تصورات  و تخیلات پر ہوتی ہےکہ جن میں تاریخ چھپی ہوئی اور اندھیروں میں گم رہتی ہے”۔

اکثر شہر(علاقے)کی عظمت بیان کرنے کے لیے اس کے بانی دیوی یا دیوتا قرار پاتے ہیں یہ شہر کبھی آسمانی قوتوں کے باعث رحمت  بن جاتے ہیں۔ تو کبھی یہ عذاب الہیٰ وقہر کا شکار ہوجاتےہیں لیکن اکثر  شہر (علاقے) کے بارے میں تحریری ، تاریخی مواد موجود ہو اور اس کی بنیاد اور ترقی کی دستاویزات ہوں تو اس صورت میں شہر (علاقے) کی تاریخی حیثیت ابھر کرسامنے  آتی ہے۔ مورخ ان حقائق کی بنیاد پر شہر کی تاریخ لکھتے ہیں۔تو شہر(علاقے)اپنی جامع ، ٹھوس اور مکمل صورت میں تاریخی شکل اختیار کرلیتا ہے۔لیکن شہر کی تاریخی حیثیت کو اس وقت تسلیم کیا جاتا ہے کہ جب اس نے سیاست ، علم وادب ، معیشت اور کلچر (ثقافت) میں اضافے کیے ہوں، کیونکہ اس بنیاد پر کسی شہر کی اپنی روح تشکیل پاتی ہے۔جو اسے دوسرے شہروں (علاقوں) سے ممتاز کرتی ہے۔اس لیے شہروں(علاقوں)کی اہمیت یا تو اس وجہ سے ہوتی ہے کہ انہوں نے سماجی ، ثقافتی اور فکری طور پر نمایاں کردا رادا کیا ہویا وہ جعرافیائی طور پر دفاع  اور معیشت کے لیے  اہم رہے ہوں۔”

بالکل بعینہ چترال کی تاریخ و ثقافت اور فروغ و دعوت اسلام پر شاہ شمس نامی بزرگ اور آپ کے ساتھ آئے ہوئے دوسری شخصیات کی آمد نے بہت دیر پا اور زرین نقوش چھوڑے ہیں جو زبان زد  عام وخاص ہونے کے باوجود اس عنوان اور مسلَمہ روایات پر اب تک کوئی تفصیلی اور تحقیقی بحث تحریری صورت میں نظر سے نہیں گزری اور نہ ان کے دونوں مراکز دعوت کے علاقوں خذرہ اور اویر کالاں کو وہ اہمیت حاصل رہی جو اشاعت اسلام کے حوالے سے ان کو حاصل ہو نا تھا چنانچہ ان کی مرکزیت اور شہرت  کو ان کا مقام دلانا ایک اخلاقی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی حقیقت کا اظہار بھی ہے۔

چنانچہ زیر نظر   مضمون میں چند زبانی روایات اور غیر مرتب اقتباسات  کو یکجا کر کے پیش کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے اہل قلم و کرم حضرات جو تاریخ سے شعف رکھتے ہیں اس روایت کو تاریخی لبادے میں محفوظ کرنے کے لیے اپنے قلم کو مھمیز دیں  گے۔ اس مضمون میں شاہ شمس الدین نام کے ان چند دوسرے بزرگوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہےجن کا تعلق تاریخ اسلام یا تاریخ تصوف کی روشنی میں کسی نہ کسی طرح ایران ، بدخشان ، کشمیر، اور شمالی پاکستان جس میں چترال بھی شامل ہےکی اسلامی دعوت سے رہاہو۔

جیسا کہ  ذکر ہواچترال کے دو اہم علاقے خذرہ یا اژور اور اویر کلاں “لوٹ اویر”شاہ شمس کی دعوت کے اہم مراکز رہ چکے ہیں۔ ذیر نظر مقالہ ان علاقوں کی تاریخی اہمیت کو بھی اجاگر کرے گی۔

روایت میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک درویش بزرگ جس کا نام شاہ شمس تھا، اپنے چند  محبَین اور ساتھیوں کے ساتھ درہ لٹکوہ کے راستے چترال میں وارد ہوئے گرم چشمہ سے ہوتے ہوئے پہلے اژور (خذرہ) میں آکر لنگر انداز ہوئے ۔ان کا قیام گاہ جیسے بعض خانقاہ اوربعض لنگر کہتے ہیں چند قدیم نوادرات کے ساتھ تا ہنوزمحفوظ ہے۔اگرچہ ان درویشوں کی یہاں قیام کا دورانیہ درست معلوم نہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے یہاں اسلامی دعوت کے حوالے سے اپنی سرگرمی ضرور انجام دی ہےجس کے اثرات تا ہنوز قائم ہیں اژور میں مختلف مقامات پہ ایسے جگہوں کی نشاندہی کی جاتی ہے کہ انہوں نے یہاں سے بالائی چترال کی طرف ہجرت کی تھی۔ یوں اویر کلاں میں انہوں نے اپنا مرکز دعوت قائم کیا، گویا شاہ شمس کی دعوت کے دوسرے مرکز ہونے کا شرف سرزمین لوٹ اویر کو حاصل ہے یہاں بھی ان کا قیام گاہ یا لنگر ماضی قریب تک باقی تھابہر حال یہاں سے درویشوں یا داعیان اسلام کا یہ گروہ آپس میں تقسیم ہوجاتے ہیں اور چترال کی تاریخ و ثقافت پر انمت نقوش مرتب کرتے ہیں۔

اب ہم یہاں ان اقتباسات و روایات کو حوالوں کے ساتھ نقل کر دیتے ہیں جو اب تک تحریری صورت میں اس روایت کو ہم تک پہنچانے میں مدد دی ہے۱۹۹۶ء میں چترال کے ایک علمی خاندان  سےتعلق رکھنے والے تاریخ نویس جناب اخونزادہ مرزا فضل واحد بیگ بنِ مفتی مرزا عبدل حکیم بیگ نے ایک کتاب “تاریخ تعارف اقوام” شائع کی جس میں انہوں نے شاہ نوئےقبائل کے خاندان کا تعارف کراتے ہوئے یوں رقم طرازہوا ہے۔

“یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بابا ایوب ۱۵۲۰ء بمطابق ۹۲۶ء میں پیر شمس الدین سبز واری کے ہمراہ بحیثیت ایک درویش علاقہ لون میں وارد ہوئےبابا ایوب علاقہ ہرات افعانستان سے بدخشان لٹکوہ اجور( جسے قدیم زمانہ میں خذرہ کہا جاتا تھا) سے ہوتے ہوئے پہلے علاقہ اویر ہو پہنچے ۔ان کے ساتھ پیر شمس سبزواری کے علاوہ چند دیگر ساتھی بھی تھے اس قافلے نے پہلے اویر میں لنگر ڈالا اور کچھ عرصہ وہاں قیام کرنے کے بعد اپنے ایک ساتھی کو وہاں چھوڑ کر خود لون کی طرف روانہ ہوئے جس ساتھی کو انہوں نے علاقہ اویر میں چھوڑا تھا اس کی ذمہ داری “خانقاہ “کی رکھوالی تھی اس کی اولاد اب بھی اویر میں موجود ہے جن کو شیخ کہتے ہے۔پیر شمس سبزواری کا “خانقاہ”اور اس کے ذاتی استعمال اور ضروریات زندگی کی چند اشیاء اب بھی اویر میں موجود ہے۔ کتاب کے صف ۷۵ پر خاندان کٹوریہ کے تعارف کے زمرے میں بھی شاہ شمس کا تذکرہ مکرر ہوا ہے۔

جاری ہے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
77490cookie-checkچترال کی تاریخ میں شاہ شمس کی اسلامی دعوت کا تذکرہ (قسط 1)

کالم نگار/رپورٹر : خلیفہ سید الکریم

Share This