بڑوں کے حصار میں

اسے آپ ہماری خوش بختی کہیں یا ہمارے مہربان میجر اسد محمود خان کی مروت کہ موصوف کی دعوت پر حلقہ احباب ذوق پشاور کے چند مشہور ادبی ستارے ادھر قلعہ بالا حصار میں ایک پر رونق شام ادب کے نام کر لئے۔۔۔۔۔۔مجھےبرقی پیغام سے اطلاع دی گئی کہ حال ہی میں امریکہ پلٹ مشہور کالم نگار, شاعر اورترقی پسند تحریکوں کے روح رواں ناصر علی سید کی سربراہی میں چند دیگر چنیدہ ادباء و شعراء PRO سے ملنے صدر دروازے تک پہنچ چکے ہیں۔ میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا کیونکہ ایک ادیب کی جو تعظیم وتکریم میرے مزاج کا خاصہ ہے وه کسی دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ہر گز دستیاب نہیں ہو سکتا۔ میری خوشی دیدنی تھی کیونکہ عصر حاضر کے باکمال ادیبوں کا استقبال میرے فرائض منصبی میں شامل ہو گیاتھا۔ دفعتاً ایک سفید کار آکے رکی اور ناصر علی سید، ڈاکٹر عتیق الرحمان اور پروفیسر حسام حُر گاڑی سے اترے علیک سلیک کے بعد میں نے سلسله کلام آگے بڑھانے کی خاطر ناصر علی سید سے برجستہ اخباری کالموں میں بے قاعدگی کی وجہ پوچھی جواب آیا کہ بیٹاگزشتہ چار پانچ مہینوں سے امریکه میں تھا اب آپ کی شکایات کے ازالے کے لئے آ ہی گیا ہوں لو جی آج شائع ہو چکا۔۔۔ پی آر او (پبلک ریلیشن آفیسر) کے دفتر میں ڈاکٹر اویس قرنی اور شکیل نایاب پہلے سے تشریف فرما تھے۔ اسد محمود نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا، مہمان میزبان بغلگیر ہوئے مہمان بیٹھنے لگے تو اسد محمود خان نے برجستہ میرا تعارف کرایا کہ یہ بھائی میرا، چترال کا ایک خوش نوا شاعر ہے میری تو ہنسی چھوٹ گئی ” یہ منہ اور مسور کی دال” بہرحال مہمانوں نے بیٹھنے کو کہا پر میں نے پیشہ ورانہ فرائض کا عذر پیش کرکے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو ہی گیا کیونکہ علم قلیل کے ساتھ اتنے بڑے ادبی ستاروں کی محفل میں مخل ہونا رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف ہی تھالیکن مہمانوں نے بیک آواز کام نمٹا کے واپس آجانے کا حکم دے ڈالا۔ میں نے کچھ پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے بعد آرام کرنے کا اراده کر ہی رہا تھا کہ میڈیا سیل کے سٹاف مجھے آس پاس کی غلام گردشوں میں تلاشنے لگے پہلے تومیں نے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھی لیکن “میڈیا والے” تو پیچھے ہی پڑ گئے تھے اور مجھے چارو ناچار ہتھیار ڈالنا ہی تھا سو میں نے ڈال دیا۔ یہ خوبصورت ادبی محفل PRO آفس سے نکل کر قلعہ بالا حصار کےجنوب مشرقی بُرج منتقل ہو چکی تھی۔ گل عکاسی کی ٹھنڈی چھاؤں میں عصر حاضر کے یہ مشہور ادبی ستارےپشاوری قہوے کی چسکیاں لیتے خوش گپیوں میں مصروف تھے مجھ جیسے ادنی طالب علم کے لئے بھی کرسی مختص تھی سو میں نے سنبھال لی۔ ڈاکٹر اویس قرنی کو نظامت کے فرائض سونپ دیے گئے صدارتی خطبے کے لئے ناصر علی سید کو چنا گیا روایت کے مطابق ادب کے سب سے ادنی طالب علم یعنی مجھ نا چیز کو تعارف کے ساتھ کچھ اشعار نذر محفل کرنے کا حکم ملا سو میں نے گل وگیر آواز میں بجا لایا خدا خدا کرکے میری قافیہ پیمائی جیسی شاعری کی باری گزر گئی لیکن منوں کے حساب سے داد سمیٹ لینا میری خوش نصیبی کی ایک اور دلیل تھی۔ پہلے تو میں سہم سا گیا تھاکہ یہ نشست صرف دل رکھنے کے بجاۓ اگر تنقیدی ہوتی توخیر نہیں تھا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا مکمل فراخدلی کے ساتھ میری حوصلہ افزائی کی گئی جوکہ ایک اعزاز ہی ہے بعد میں میری درخواست پر ناصر علی سید نے پروفیسر حسام حر کو میرا “اتالیق “مقرر کر دیا۔ وما بعدڈاکٹر عتیق الرحمان نے نظم اور چند منتخب اشعار پڑھ کر سنایا اور بھر پور داد سمیٹا۔ ایک دو غزلیں شکیل نایاب صاحب نے بھی سنائی اور ہم ہائے ہائے کرتے رہ گئے پروفیسرحسام حر بگڑتی صحت سے نالاں ہر صوتی جھلک کے اسرارورموز پر بحث کرتا رہا۔ صدارتی خطبے سے پہلے اسد محمود خان کو منتخب افسانہ پڑھ کر سنانے کا حکم ملا ایک تازه افسانہ “بلاتکارک لمحوں پر دستک” پڑھ کر سنایا اور ادیبوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا سبھی اسد کے عمده اسلوب,الفاظ کے بہترین چناؤاور کہانی کاری کے معترف نکلے , ڈاکٹر اویس قرنی بھی ایک افسانہ پیش کیا اور عرصے تک ہم سب کو مبہوت کئے رکھا اور غزلیں بھی سنائی۔۔۔ لیکن ان کے اصل روپ سے شناسائی بعد میں ہوئی وه تو گائیکی میں بھی ید طولی رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ناصر علی سید کی مدح میں موصوف کا ایک ویڈیو ٹریک سوشل میڈیا میں وائرل بھی رہا ہے اسے بھی ترنم میں پڑھا آپ کی آواز میں جادوئی تاثیر ہے دو چار دفعہ موصوف کی سریلی آواز نے تو کانوں میں رس گھول کے ہی رکھ دیا اسکے بعدصدر محفل کی باری آئی ایک دو دل کو چھو کر گزرنے والی غزلیں عنایت کرنے کے بعد صدارتی خطبے سے نوازا اور آج کے اس پر رونق محفل میں شامل تمام ادب پاروں اور اشعار پر سیر حاصل بحث کی اور مجھے ریاضت و محنت سے کام لینے کا درس دیا ۔ پروفیسر حسام حر کی فرمائش پر حسب منشاء چاۓ اور کافی کا دور چلا چاۓ کے بعد ڈاکٹر عتیق الرحمان نے خصوصی دعایئہ کلمات پیش کئے جس میں حسام حر صاحب کی صحت یابی کی خصوصی دعا شامل تھی اس عزم کے ساتھ ہمارے یہ معزز مہمان رخصت ہونے لگے کہ جلد یا بدیر چودھویں کی چاندنی رات میں افسانے سنانےکا پروگرام اسی وینیو پر ضرور ہو جائے۔ دهیرے دهیرےصدر دروازے تک پا پیاده معزز مہمانوں کے ساتھ چلتے ہوۓ میں اپنی ادبی قد کاٹھ میں بھر پور اضافہ محسوس کر رہا تھا۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
74410cookie-checkبڑوں کے حصار میں

کالم نگار/رپورٹر : نصیب رنجی

Share This