ہماری ذہنیت – ایک پیغام

فی الوقت: “اہم یہ نہیں کہ آپ سچ اور حقائق پر مبنی بات کررہے ہیں. اہم یہ ہے کہ آپ لوگوں کی پسند کی بات کررہے ہیں یا نہیں…”

لوگ کہتے ہیں کہ سچ بولنا چاہیئے. مگر جب بولا جاتا ہے تو بُرا لگتا ہے. اب ایسی سچائی کہاں سے لائیں جو سب کے لیے بیک وقت قابل قبول ہو اور وہ سچ ہی کیوںکر ہوگا جو تلخ نہ ہو؟ جھوٹوں کو ہم نے کسی کو ناراض کرتے ہوۓ نہیں دیکھا ہے. ضمیر فروشوں کو ہم نے حق بات پر اختلاف کی جگہ خوشامد کرتے اور دن کو رات ٹھہراتے پایا ہے۔

اس لیے اگر واقعی میں جب ہمیں سچ سننا پسند ہے یا پھر کسی نہ کسی معیار، سطح اور حد پر ہماری خواہشات اور پسندو ناپسند سے بالاتر سچ اپنا معروضی وجود رکھتا ہے تو پھر اختلاف کو برداشت کرنے کا سلیقہ آنا چاہیئے۔ مگر اختلاف براۓ اختلاف نہیں ہونا چاہیئے۔ الزامات اور دوسروں کی ذات پر حملہ کرکے ہوسکتا ہے ہماری انا اور نفرتوں کو تسکین ملے. مگر اجتماعی مسائل دلیل و منطق اور مکالمے سے حل ہوتے ہیں۔ آپ اپنا نقطہ نگاہ بتا دیجئیے، میں اپنا موقف پیش کرتا ہوں۔ جہاں وزن زیادہ ہوگا وہی دلیل جیت جاۓ گی اور وہ جیت آپ کی یا میری نہیں بلکہ حق و سچائی کی ہوگی۔ اگر دونوں دلائل یکساں اہمیت کے حامل ہوں تو ہم دونوں کا آزادی کے ساتھ اپنی اپنی راہ لینا اخلاق کے عین موافق ہے۔

میری ناقص راۓ میں اس معاشرے اور ملک کا سب سے بڑا المیہ معاشی پسماندگی نہیں بلکہ ہمارے رویوں اور سوچوں کی ناپختگی ہے۔ مادی اور مالی ترقی سے پہلے بہرحال ذہنی اور سماجی رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ کارخانہ لگانے سے بیشتر اس کے ابجد کا تو علم ہو۔

دوسری طرف دو سال پہلے کی شلوار آج کے لیے ”آؤٹ اف فیشن” قرار پاتی ہے۔ آپ پانچ سال پہلے بال کٹوانے کا انداز آج نہیں دہرا سکتے۔ دس سال پہلے کا طرز زندگی آج کے لیے موزوں نہیں رہتا۔ بیس سال پرانا لکڑی کا ہل لے کر آج وہ زرعی پیداوار حاصل نہیں ہوسکتی جس سے لاکھوں بڑھتی ہوئی آبادی کو کھلا پلایا جاۓ۔ ایسا اس لیے نہیں کہ بیس سال پہلے کی چیز خراب تھی۔ دراصل ہوسکتا ہے کہ اس وقت کی مناسبت سے وہی چیز بہتر تھی۔ مگر آج کے لیے وہ ناکافی اور غیر موثر ہوجاتی ہے۔ تو پھر بتائیے کہ سو سال یا کئی سو سال پہلے کی قبائیلیت، ذہنیت اور عدم برداشت ہمیں کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے؟ کیا ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ گھوڑا گاڑی پر بیٹھ کر چاند کا چکر مارا جاۓ؟ اگر گھوڑا گاڑی سے خلا کا سفر تو کیا چند سو کلومیٹر اس زمین پر چلنا ممکن نہیں تو غیر ترقی یافتہ خیالات و تصورات اور بےتکے رویوں سے ہم معاشی و مادی ترقی کا خواب کیوںکر دیکھ سکتے ہیں؟ مادی ترقی کسی بھی لحاظ سے معاشرے کی علمی، تہذیبی اور اخلاقی ترقی کا شاخسانہ اور نتیجہ ہی تو ہوتا ہے۔

اس لیے مثبت تبدیلی صرف چاہنے سے نہیں آتی۔ اس کے لیے ہمیں اپنے سوچوں اور رویوں میں تعمیری بدلاؤ لانا لازمی ہے۔ جمہوریت کے لیے جمہوری اقدار پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں دوسروں کے لیے روا رکھنا بھی ضروری ہے۔ تبھی اسے جمہوریت کا نام دیا جاسکتا ہے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
38070cookie-checkہماری ذہنیت – ایک پیغام

کالم نگار/رپورٹر : جی کے صریر

Share This