این اے ون کا نمبر ون

سیاسی وابستگی کے معائب میں سب سے بڑا عیب شاید یہ کہ بندہ سیاسی معاملات میں غیر جانبدرانہ تبصرہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ کھل کر بات کی جائے تو “غدار” اور پاس لحاظ رکھے تو “جانبدار”۔     بہرحال ایک سکہ بند ”جماعتی “کے سیاسی تبصرے کی وقعت کا ادراک ہونے کے باوجود اس ساری دھینگا مشتی میں ہمارے لیے دم بخود رہنا بھی ممکن نہیں تھا ، اس لیے کچھ نہ کچھ تو کہنے کی جسارت کر ہی لیتے ہیں۔ چاہے کوئی غدار کہے ، جانبدار کہے یا سہولت کار۔۔۔۔۔

واقعہ یہ ہے کہ اِس بار این اے 1 میں جو معرکہ بپا ہونے جا رہا ہے، وہ ماقبل کے انتخابی دنگلوں سے ذرا مختلف رنگ لیے ہوئےہے۔ چار پیشہ ور “ریاستی” مدمقابل ہونے کی وجہ سے جہاں جنگل میں منگل رچا ہوا ہے ، وہاں تبصرہ نگاروں اور تجزیہ کار وں کو پیش گوئی میں ہزار دقتوں کا سامنا ہے۔ کون مائی کا لعل ہوگا جو شہزادہ افتخار، عبدالاکبر چترالی، عبدالطیف اور سلیم خان جیسے کہنہ مشق” سیاست گردوں” کے ٹکرا میں قبل از وقت خامہ فرسائی کرکے خود کو غیر معتبر ٹھہرانے کی کوشش کرے۔ پھربعض پارٹیوں کے اندرون سے “امیدواری” کی امید باندھے کئی سورماؤں کے خوابوں کی عدم تکمیل سے جو ہلچل اور شور و غل مچا ہوا ہے، وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے میں قبل از وقت کسی نتیجے تک پہنچنا دشوارتر ہوکر رہ گیا ہے۔ دیکھا جائے تو اپر چترال کے مستوج اور لوئر چترال کےگرم چشمہ کی سیاست بالکل مختلف رخ پر موجزن نظر آتی ہے۔ ان ہر دو علاقوں میں پارٹی سے بڑھ کر علاقہ اور برادری کے جادوکا سر چڑھ کر بولنا نہ صرف نا خوشگوار ہے بلکہ مستقبل میں نظریاتی سیاست کے لیے پیام مرگ بھی ۔ اور اس طلسم ہوشربا کا ہر دو طرف کے سورما ادراک بھی رکھتے ہیں، اور اپنے تئیں اس کا ” انتظام “بھی فرما رہے ہیں۔لہٰذا اِس وقت کسی دھند لکا اور ملگجا نتیجے تک پہنچنے کے لیے تجزیہ کار کو چار و ناچار گزشتہ انتخابی نتائج ہی پر نظریں جمانا ہو گا ۔ اس مجبوری کے پیش نظر جب پیچھے کی طرف رخ کرتے ہیں توبلا مبالغہ ایم ایم اے کی پوزیشن کافی مضبوط اور مستحکم نظر آتی ہے۔ “مشرف دوہو” کے رنگ لیے 2013کے انتخابات میں عبدالاکبرچترالی 22 ہزارکے آس پاس ووٹ لے اڑے تھے جبکہ اُس وقت کے ان کے حریف اور اب کے حلیف ہدایت الرحمان سولہ ہزار! یہی ووٹ اگر کچھ اضافہ کے بغیر بھی ایک پلڑے میں پڑ گئے تو کامیابی میں بظاہر کچھ مشکل نظر نہیں آتی۔ البتہ اس کا سارا انحصار ہے دونوں پارٹی ووٹروں کے باہمی اعتماد اور اتحاد کو کامیاب کرنے کے جذبے پر ہے۔ اگر چہ اب والی ایم ایم اے میں 2002 کے مقابلے میں جذبوں کی حدت کا فقدان تو نظر آتا ہے، مگر کسی ٹھوس رخنہ سے اب تک اس کا گریباں مامون نظر آتاہے۔ ایم ایم اے کے ظاہری استحکام سے انبساط پاتے ہی پی ٹی آئی کے جوانوں کی سرشوری اور سب کچھ کر گزرنے کا جذبہ نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس جانفشانی اور پامردی سے پی ٹی آئی کے جوان معرکہ آرائی میں مصروف ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا پھریرا ہر جا اویزاں ، اور اشتہار ہر سمت نمایاں نظر آرہا ہے، ایسے میں عبدالطیف کی قسمت کا ستارہ بھی چمکتا ہی دکھائی دیتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کے جوانوں کی محنت اور جذبہ اس بار کام آئے ، اورتبدیلی کا نعرۂ مستانہ کامیابی پر منتج ہو۔ مگر درون خانہ چپقلش اور بعض سرکردہ رہنماؤں کی جدائی اور عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ایسا ہونا مشکل لگتا ہے۔ پی پی پی کے سلیم خان بھی اس” بازی گری” میں کچھ کم ید طولیٰ نہیں رکھتے، وہ ‘مکرر’ ایم پی اے رہنے کے بعد این اے کی سیٹ پر قسمت آزامائی کرنے نکلے ہیں۔ اگر چہ سلیم خان صاحب اس بار بھی “پی کے ” ہی کے متمنی تھے، مگر ایک “حادثہ طربیہ” نے انھیں اپنی اس درینہ خواہش سے دستبردار کرکے “این اے” کی طرف لڑھکنے پر مجبور کردیا ہے۔ موصوف اپنے مخصوص طریقہ سیاست سے لوٹ کوہ کے ووٹ لوٹ لینے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ اگر گزشتہ انتخابات کی طرح وہ اس بار بھی اس علاقے میں جھاڑو پھیرنے میں کامیاب ہوگئے، تو باقی “ندی نالوں “کے ملاپ سے وہ ہلچل مچا نے کی پوزیشن رکھتے ہیں۔ بصورت دیگر ان کی ناؤ کے بیچ منجدھار پھنس کر رہ جانا مبرم لگتا ہے۔ کیونکہ ‘مستوج ‘کی سیاست اندرونی ‘مسائل’ کی وجہ سے اس بار ان کے حق میں سازگار نہیں لگتی اور باقی علاقوں میں ان کے ووٹ فیصلہ کن حیثیت کے حامل نہیں ۔ جہاں تک شہزادہ افتخار صاحب کی بات ہے، گزشتہ انتخابات کے حوالے سے عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ “ان کی کامیابی کے پیچھے پرویز مشرف کی ہمدردی کے ووٹوں کی کارفارمائی تھی” یہ تاثراگر درست نہیں تو کیا پرویز مشرف کا شور محض ایک غلغلہ تھا؟ مگر زمینی حقائق اس تاثر کے غلط ہونے کی تصدیق نہیں کرتے ، کیونکہ پرویز مشرف سے چترالیوں کی عقیدت ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو شہزادہ افتخار کے حق میں 2013 میں جو ووٹ آئے تھے، قبل ازیں ان کے والد محترم شہزادہ محی الدین صاحب کئی دفعہ اس سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوتے رہے ہیں اور بالخصوص 2008 کے جنرل الیکشن میں تو وہ بتیس ہزار سے اوپر ووٹ لے اڑے تھے، اس تناظر سے دیکھا جائے تو 2013 میں ان کے حق میں پڑنے والے انتیس ہزارووٹ کسی دوسرے تیسرے کی مرہون منت نہیں ،بلکہ ان کے ازلی، ابدی اور غیر متبدل ووٹ ہیں،جو تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ ہمیشہ اس خاندان پر قربان ہوتے آئے ہیں۔ اگر فی الحقیقت 2013 کے حاصل کردہ ان کے ذاتی ووٹ تھے ، تو اس بار نون لیگ کے ڈھائی ، تین ہزار ووٹوں کے اضافہ سے وہ نہ صرف مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں، بلکہ تھوڑی سی محنت سے وہ سب کے دانت بھی کھٹّے کرسکتے ہیں۔ اور اگر وہ کامیابی پرویز مشرف مرہون منت تھی تو اب کی بار شہزادہ صاحب کا شمار کسی” حساب کتاب “میں نہیں لگتا ۔باقی رہے ڈاکٹر امجد صاحب، اس صاحب اور اس کی پارٹی کا معاملہ عجیب ہے، چترالیوں کی مشرف نوازی کا چرچا سن کر بڑے چاؤ اور لگاؤ کے ساتھ یہ صاحب ان کی” پرویزی” محبت سمیٹنے آئے ہیں۔ مگر اس بار پرویزی محبت کہیں جادو دکھاتی نظر نہیں آتی، اس لیے ان کی کامیابی کے امکانات تقریبا تقریبا مفقود ہیں۔ کسی پارٹی کی طرف سے چترال جیسے علاقے میں باہر سے کسی بندے کی نامزدگی کا یہی مطلب ہے کہ وہ اہل چترال سے بے پناہ محبت و عقیدت کے متقاضی ہیں۔ ایسے میں گر ناکامی ہوئی ، تو چترالیوں سے پرویز مشرف کی یگانت و محبت کا جو رشتہ اُستوار تھا اس میں ضرور دراڑ آئے گی۔اے پی ایم ایل کی ضلعی ذمہ داراں پر لازم تھا کہ وہ بالائی قیادت کو چترال کی بدلتی صورتحال سے آگاہ کرتے۔ اور صاف صاف بتا دیتے کہ اہل چترال کے دلوں میں پرویزی عقیدت کا وہ جذبہ باقی نہیں رہا، یا جو شور سنا جارہا ہے تھا، وہ کوئی دائمی جذبہ نہیں بلکہ ایک وقتی غلغلہ تھا۔ بہر حال کمانڈو پرویز کو کیا خبر کہ ایک آدھ گھنٹے کی بارش سے چترال جون ، جولائی میں بھی جنوری کا روپ دھار لینے والی بستی ہے۔ وہ بھی اس بار کے نتائج سن کر ضرور کہیں گے

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
74390cookie-checkاین اے ون کا نمبر ون

کالم نگار/رپورٹر : فدا محمد

Share This