سری لنکا کی سیرقسط ۲

تو بات ہورہی تھی سری لنکا کی سیر کی جہاں میں نے  سری لنکا کے باسیوں کی جو خصوصیات دیکھی  وہ قارئیں کی نذر ہے۔

دھیمی آواز:

 سری لنکا  کے لوگوں کی ایک عادت   مجھے بہت پسند آ ئی وہ گفتگو کے دوران انتہائی دھیمی آواز میں گفتگو کرتے ہیں ۔  دورانِ سفر آپ سر لنکا کے باسیوں کو  بازاروں میں، ہوٹلوں  میں غرض  ہر  جگہےمیں  دھیمی آواز میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہوئے پاؤ گے۔وہ اگر میوزک بھی سن رہے ہو تو آواز  انتہائی دھیمی کرکے سنیں گے تاکہ کوئی اور ڈسٹرب نہ ہو ۔ہم زیادہ اونچی آواز میں باتیں کرتے ہی  خجالت محسوس  کرتے تھے  اور اس دوران لوگ  ہماری طرف دیکھنے لگتے تھے ۔

صفائی

سری لنکا کے لوگوں کی ایک  صفت یہ بھی ہے کہ وہ صفائی پسند ہیں۔ ساحل سمندر،بس  آڈوں ، بسوں کے اندر ،چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں  اور عام جگہوں پر آپ کو کچرے کے ڈھیر نظر نہیں آئیں گے۔ پلاسٹک کے تھیلے جگہ جگہ بکھرے نظر نہیں آئیں گے۔ 

ایجنٹ :

ایک بات جو مجھے پسند نہیں آئی وہ ہیں ہر جگہ دکھائی دینے والے منہ زور اور ڈھیٹ ایجنٹ یا گائیڈ ۔ سیاح زیادہ ہونے کی وجہ سے ہرجگہ ایجنٹ آپ کو نظر آ ئیں گے ۔آپ کسی علاقے  ،ہوٹل یا بس آڈے یا ٹیکسی کا پوچھے تو وہ فوراً  آپ سے برگیننگ  شروع کرے گا۔   ایجنٹ حضرات  اتنے ہٹ دھرمی اور ذبردستی سے پیش آتے  کہ بندے کا دل اُ چاٹ ہو جاتا۔اور دل چاہتا کہ بندہ یہ علاقہ ہی چھوڑ کر بھاگ جائیں۔

ٹیکسی والے سے کوئی راستے کا  بھی پوچھے تو وہ بارگینگ کرنا شروع کردیتاہے ۔ہیٹن  سٹی سے کولمبو  آنے کے لیے  ہم ہیٹین کے ٹرین سٹیشن کے سامنے انتظار میں تھے ۔ سٹیشن میں دوپہر کا وقفہ تھا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے ٹیکسی والوں نے ہمیں تقریبا یرغمال بنالیا، اور سروس آفر کرنے لگے۔ میں نے ریٹ کا پوچھا تو سری لنکن ۱۵۰۰۰ ہزار  بتایا گیا ۔میں نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔ وہاں پر کافی انگریز لوگ بھی انتظار میں تھے ۔ ٹیکسی والوں کا اصرا ر ختم نہ ہوا تومیں نے اپنی جان چھڑانے کیلئے ۳۵۰۰  روپے کہہ دیاتوٹیکسی والے نے کہا فی کس ؟میں نے کہا نہیں ۵ بندوں کا ۔یہ تقریبا آٹھ گھنٹے کا سفر تھا۔ تو وہ حیران ہوکے پرے ہٹ گئے۔ میرا جواب سن کر وہاں پر موجود انگریز لوگوں کی بھی ہنسی چھوٹ گئی ۔ پھر ٹوک ٹوک (رکشہ) والے آ گئے۔ عموما ہمارے ہاں دُور کے سفرکیلئے رکشہ والے راضی نہیں ہوتے لیکن وہاں کے رکشہ والے دور کے سفر پر بھی جاتے ہیں۔ میں نے ان کو کہا ٹوک ٹوک (رکشہ)کیلئے میں ۱۵۰۰ روپے دونگا۔تو وہ بھی دور ہ ہٹ گئے۔اس طرح اُن سے بھی ہماری جان چھوٹی۔

سری لنکا کا  محکمہ ریل:

سری لنکا کے ریل کی بوگیان اتنی جدید اور آرام دہ نہیں ہیں۔ اگر ہم پاکستان ریلوے سے ان کا موازنہ کریں تو ریل کی بوگیان،ٹرین کے اندر سیٹین ،ریلوے سٹیشن کی عمارتیں  سب پاکستان کے مقابلے  کی نہیں  ہیں۔ لیکن جب ہم ریلوے کے اصول ضوابط،وقت کی پابندی اور بوگی کے اندر کی سہولیات کی بات کریں تو وہ ہم سے آ گے ہیں۔ ہم نے آٹھ گھنٹے کا سفر ٹرین کےذریعے کیا۔ اس دوران واش روم  میں پانی کی کوئی کمی نہ ہوئی۔ ریل لیٹ نہیں ہوا۔  ٹرین میں سوار ہونے کے بعد کسی نے ہمارا ٹکٹ چیک نہیں کیا۔بلاوجہ کہیں تاخیر نہیں ہوئی۔

پولیس اور فوج:

 سری لنکا کی ایک اور چیز ہماری دلچسپی کا باعث بنا وہ ہے عوامی جگہوں میں پولیس اور فوجی اہلکاروں کا نظر نہیں آنا، بس اکا دکا کسی دور کونے میں  اپنی مخصوص جگہے میں بیٹھے ہوئے آپ کو ملیں گے اور دوسری بات ان میں پولیس اور فوجی ہونے کا غرور  کا شائبہ تک نہیں

وہ چوکی پر  بیٹھے ہوئے آرام سے اپنی ڈیوٹی سر  انجام دیتے ہیں۔ مجھے حیرت اس با ت   پرہوئی کہ چند سال پہلے تک کا سکیوریٹی کی وجہ سے حساس ملک اب اتنا تبدیل ہوچکا ہے کہ جہاں سکیوریٹی والوں کی ضرورت ہی پیش  نہیں آتی۔

میرے اس سارے مشاہدہ کا نچوڑ یہ ہے کہ ملکی نظام کو بہتر بنانے کےلیے صرف پیسے کی ضرورت  نہیں ہوتی۔ نہ کوئی ملکی نظام اکیلے عوام اور حکومتی مشینیری کے ذریعے ہی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ اگر حکومت قانونی نظام کو بہتر بناکر حکومتی لوگ خود اس پر عمل کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام اس نظام کو قبول نہ کریں۔ اگر عوام کو اپنی حکومت پر اعتماد ہوں تو بہت سی چیزیں بے غیر پیسے کے بھی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ آخر میں اپنے گروپ کے دوستوں فخرالدین اخونذادہ ،زبیر توروالی ،طالب جان  اباسندھی ،امیر حیدر کا شکریہ  ہم نے ایک ایک لمحے کو انجوائی کیا اور ساتھ  اپنی تنظیم   “فورم فار لینگویج انیشیتٹیوذ اسلام آباد “کے منتظیمن کا بھی دل کی گہراِئیوں سے شکریہ کہ  انہوں نے اس سفرکو ہمارے لیے ممکن بنایا۔

Zeal Mobile Reporter
Share This