کہانی گولین گول بجلی گھر کی

یہ کہانی    نہ صرف گولین گول بجلی گھر کی ہے  بلکہ چترال کی انتظامیہ اور سیاسی کرتا دھرتاؤں کی ناکامی کا نوحہ بھی ہے

علاقے میں بجلی کی نا گفتہ بہہ صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے سرحد رورل سپورٹ پروگرام نے ۲میگاواٹ بجلی گھر بنانے کا عزم ظاہرکیا۔ پاور ہاوس کےلیے مختلف سائیڈ دیکھے گئے آخر کار گولین گول  بیرموغ ایریے کو اس پراجیکٹ کےلیے چناگیا۔ کامرس کالج چترال میں اس پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب ہوئی۔ لوگوں نے  خوشی کا اظہار کیاکہ  جلد یا بدیر چترال ٹاون میں بجلی کی سہولت میسر آئے گی۔ پاؤر کمیٹی والوں نے وقتا فوقتابجلی گھر کے سائیڈ کا دورہ کرتے رہے۔سیاسی لیڈر وں سے لیکر علماء تک   اس سائید کا وزٹ کیا یہ عوام کی طرف سے اس پراجیکٹ کو اون کرنے کا اظہار تھا۔ ہر ایک نے کام کے معیار کو تسلی بخش قرار دیا۔یہ  پراجیکٹ  پایہ تکمیل تک پہنچنے میں  اپنے ٹائم فریم سے زیادہ وقت لیا ۔ اسے ادارے کی کمزوری  کہا جاسکتا ہے ۔ جس علاقے میں یہ پاؤرہاؤس  بن رہاتھا اس علاقے کے لوگوں کی طرف سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاا اور ساتھ قدرتی آفات کی وجہ سے   بھی کام میں خلل پڑا۔ یہ ایک الگ بحث ہے  ۔ کام میں تاخیر کی وجہ سے ادارے کو  لوگوں کی تنقید کا بھی  سامنا رہا۔

آخر کار بجلی گھر مکمل ہوا ،یہاں  سے سیاست شروع ہوتی ہے جب یہ بجلی گھر بن رہاتھا چترال کامرس کالج کےصحن میں  افتتاحی اجلاس میں اعلان ہوا تھا کہ یہ بجلی گھر صرف اور صرف ٹاون کیلیے ہے یہ ٹاون کی بجلی کی ضروریات پوری کرے گی۔ اس پاؤر ہاؤس سے ٹاؤں سے باہر بجلی نہیں دی جائے گی۔ اس وقت چترال کامرس کالج کے صحن میں سب علاقوں کے لوگ موجودتھے  وہ  خاموش رہے کچھ نہ بولے اس کا مطلب   وہ اس وقت مان گئے تھے۔

جب بجلی گھر بن گئی سرحد رورل سپورٹ پروگرام نے اپنی ذمہ داری پوری کی پاؤر ہاؤس سے لےکر نیچے مین روڈ تک اپنے تار بھی بچھادیئے ، توکوہ کے سیاسی زعماء  میدان  میں آگئے ۔ اللہ اللہ کرکے یہ مسئلہ حل ہوا تو چترال کی  مقامی حکومت ڈسٹرکٹ انتظامیہ ،ضلع ناظم ، ایم پی اے، ایم این اے  ہر ایک نے اپنے ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے سارے بوجھ ایس ار ایس پی پر ڈال دیئے۔ حالانکہ مسئلہ اتنا تھا ۔ پاؤر ہاؤس سے بجلی پیداہورہاتھا ۔ ادارے نے اپنے ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مین لائن تک اپنی بجلی پہچادی ۔ تو ہمارے سیاسی لیڈران کا کام یہ بنتا تھا کہ جو جو حکومتی ادارے جس جس کے ماتحت ہیں ان سے بات کرکے ، مسئلے کو اجاگر کرکے چترال ٹاون میں بجلی پہنچانے میں ادارے کی مدد کرتے ۔ لیکن ہمارے سیاسی کھلاڑی مسئلے کو الجھاکر لوگوں  کو فرسٹریشن کا شکار کرکے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی۔ کچھ انتشار پسند لوگوں  نے ادارے کے خلاف اتنا پروپکنڈہ کیا کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ گولین گول میں بجلی کا کوئی وجود ہی نہیں ہےیعنی کہ پاور ہاوس اپنا وجود ہی نہیں  رکھتاہے۔ایس ار ایس پی والے جھوٹ بول رہے ہیں۔بہت عرصے بعد  اس گومگو کی حالت میں ایک گروپ کے ساتھ ہمیں بھی گولین گول جانے کا اتفاق ہوا تو ہم نے دیکھا کہ پاؤر ہاؤس چل بھی رہا ہے اور مقررہ دو میگاواٹ سے کچھ زیادہ ہی بجلی پروڈیوس کررہاہے ۔ ریکارڈ سے پتہ چلا کہ ہم گولین گول بجلی گھر میں پانچ گھنٹے گزارے وہاں 2.2 میگا واٹ بجلی ٹھیک ٹھاک پیدا ہورہی ہے  اور یہ مشین کے ریکارڈ( مکمل ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ )کے مطابق کافی عرصے سے کام کررہاہے۔آپ مشین جھوٹ یا مبالغہ آرائی نہیں کرے گا ۔2.2 میگاواٹ بجلی پاؤر ہاؤس سے پیڈو کی لائین تک بلا تعطل پہنچ رہی ہے وہاں سے گرڈ اسٹیشن جوٹی لشٹ پہنچ کے واپڈا کے حوالے ہوجاتی ہے ۔بہت سارے یونٹ واپڈا والوں نے مفت میں استعمال بھی کی ہے۔

پاؤر ہاؤس سے بجلی پیدا ہوکے گرڈ سٹیشن پہنچنے کے بعدیہ واپڈا اور پیڈو کی ذمہ داری ہے کہ وہ  ترسیل اور تقسیم کا طریقہ کار وضع کرے۔ اب واپڈا کے کھمبے  یا واپڈا کی جو  خراب تاریں ہیں ان کی وجہ سے بجلی صارفین تک نہیں پہنچ رہی ہے ۔ یہ خراب تاریں  ایس آر ایس پی کی بجلی کے آنے کے بعد “اور زیادہ “خراب  ہوگئیں ہیں ۔اس میں پیچیدگی کیاہے واپڈا والے لائن ٹھیک کریں اور پیڈو بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ کا مسئلہ حل کریں تو بجلی بغیر تعطل سے عوام کو مل جائے گی۔ لیکن اس کے لیے تمام ذمہ دار اداروں کو اپنی نیتیں ٹھیک کرنی ہوگی۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ بجلی کے جتنے حکومتی ادارے یہاں پر ہیں  ان کا کام کیاہے۔

لائن اگر خراب ہیں لائن  ٹھیک کرے لائن درختوں کے ساتھ ٹچ کرتے ہیں تو وہ ادارے کے لائن مین کس لیے ہیں وہ لائن کا معائنہ کرکے دیکھے ۔  ضلع ناظم کا کا م ہے کہ وہ عوامی مفادا ت کے کام میں رکاوٹ نہ آنے دے۔ اگر کوئی کام ادارجاتی طورپر صحیح نہ ہورہاہوں وہ حکام بالا تک پہنچائے۔ ایک عوامی نمائندہ اب یہ بات کرکے اپنی جان نہ چھڑاسکے گا کہ فلان ادارے ہمارے انڈر میں نہیں ہیں بات نہیں مانتے ۔ اگر کوئی عوامی نمائندہ یہ بات کررہاہوتاہے تو وہ اپنی نااہلی کو عیان کررہاہوتاہے۔ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ روزانہ کے حساب سے اداروں کی کاردگی کو جانچے۔ اچھاکام کرنے پہ شاباش اور برے کام پہ سرزنش کرے تو کوئی  وجہ نہیں کہ ادارے  کام نہ کریں ۔

ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ڈسڑکٹ انتظامیہ کیلیے سوچنے والی بات یہ ہے کہ گولین گول بجلی گھر سے دو میگاواٹ بجلی گرڈ میں شامل ہونے کے بعد بجلی کا نظام پہلے سے بہتر ہوناچاہیے تھا۔ اب تو بجلی کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہے۔ اس سے پتہ چلتاہے کوئی نہ کوئی  سیاست  ہورہی ہے  ایس آر ایس پی کی سوچ یہ  ہوسکتی ہے کہ چترال ٹاؤں کو بجلی کی بلا روک ٹوک فراہمی ہو  اور ادارے کی نیک نامی ہو ۔یہ ایک مثبت سوچ ہے ۔دوسری منفی سوچ جس کو ہم  کھوار میں “پولی ”  سیاست بھی کہہ سکتے ہیں ۔کسی نے کسی طریقے سے اس پاؤر ہاؤس سے بجلی کی ترسیل نہ ہوں۔ لوگ عذاب میں مبتلارہے۔ یہ منفی سیاست کرنے والے جلد یا بدیر لوگوں کے سامنے عیان ہونگے ۔ ان کی سیاست اپنی موت آپ مرجائیگی ۔ سیاست عبادت ہے ۔ عبادت میں اخلاص نہ ہوں تو وہ دکھاوا ہے۔ دکھاوے کی عبادت اللہ کو منظور نہیں ہے۔ آخر میں اسلام کا ایک سادہ سا پیغام  یہ ہے کہ” نیکی اور بھلائی کے کام میں ایک دوسرے سے تعاون کرو” اسلام کے اس آفاقی پیغام کو سامنے رکھتے ہوئے قوم کی بھلائی کے اس پراجیکٹ میں ایس ارایس پی  کی مدد کرکے جو کمی بیشی ہیں ان کو پورا کرکے عوام کو فائدہ پہنچانا چاہیے۔ ورنہ آنے والے وقت میں کوئی سوشل ورک کرنا چاہے گا تو اس کو ۱۰۰ دفعہ سوچنا ہوگا۔

Zeal Mobile Reporter

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This