ایک واقعہ ایک کہانی

لیدڑ یا رہنما کے بارے میں ایک مفکر کا قول ہےکہ  “لیڈر یا رہنما وہ ہے جو اگے چلے تو عوام اس کے ساتھ ہوں اگر  لیڈر کےساتھ عوام نہ ہوں تو وہ رہنما  نہیں بلکہ واک کررہاہوتاہے”۔

سیاست یا سیاسی لوگوں کے اوپر لکھنا میرا مشعلہ نہیں ہے اور نہ میں اندھا ہوکر کسی رہنماکے   ماننے کو اپنے اوپر لازم سمجھتاہوں ۔ لیکن قوم کے  بڑے ہونے کے ناطےسیاسی لوگوں  کی   عزت کرتاہوں اور کرنا بھی چاہیے۔ان  ساری باتوں کے باوجود چترال کے اندر رونماہونے والے دو اہم واقعات نے مجھے میڈیا میں کھلے عام یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ چترال میں کوئی سیاسی رہنما موجودہ وقت میں اس قابل نہیں ہے جو کسی  غیر معمولی حالت میں ہماری رہنمائی کرسکے ۔وقت آنے پر  اپنی  ذاتی مفاد  اور پارٹی سیاست سے بالاتر ہوکر صرف عوام کی  بہبود اور اپنی عوام کی بالائی اور علاقے کی امن کیلئے سوچے۔ کوئی مانے یا نہ مانے،میں ایک  عام  آدمی  اور معاشرے کے ایک فرد کی  حیثیت سے   اپنے  ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ چترالی قوم کا موجودہ و قت میں کوئی رہنمانہیں ہے ۔ سارے مفاد پرست ،اپنے ضمیر کے  غلام ، لکیر کے فقیر ،جائز ناجائز کام کے    کریڈٹ لینے والے ، کند ذہن ہیں ۔ ان لیڈر وں میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے ایک عام آدمی پارٹی سیاست، برادری ،مفادات سے بالاترہوکر  اپنا لیڈر مانے۔

اب میں اس واقعے کی طرف آتاہوں۔   شاہی مسجد میں ایک واقعہ رونما  ہوجاتاہے۔ ایک شخص جمعے کے دن اٹھ کے  (نعوذباللہ )عین نماز کے وقت  رسالت  یا امامت کا اعلان کرتاہے۔ لوگ جذبات میں آتے ہیں  اس ملعون کو مارنے کیلئےآگے بڑھتے ہیں جوکہ ہر ایک مسلمان کے ایمان کا تقاضاہے۔ خطیب شاہی  جامع مسجد کمال ہوشیاری سے اس ملعون کو قتل ہونے سے بچاتاہے  اور پولیس کےحوالےکرتاہے۔ ملعون کو  پولیس حوالات میں بند کیاجاتاہے۔ یہ بات لوگوں کو پتہ چل جاتاہے ۔لوگ جذبات میں آتے ہیں پولیس سٹیشن کے اوپر پتھراؤ کرتے ہیں ۔ پولیس تھانےکےشیشے اور املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ خطیب صاحب کی گاڑی کو جلایاجاتاہے۔ آنسو گیس فائر ہوتی ہے ۔ کچھ لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں ۔ یہ پورا  واقعہ ہے اس دن کا۔

رات کو ایس پی صاحب ایکشن میں آتاہے۔ باہر سے پولیس کے جوان بلائے جاتےہیں۔ پورے تھانے کو مقامی پولیس کو بے دخل کرکے چترال سے باہر کے آئے ہوئے پولیس  کے اہلکاروں کے حوالے کیاجاتاہے دفعہ ۱۴۴نافذ کیا جاتاہے۔ اپنی طرف سے ایک ہنگامہ برپا ہے۔تمام سیاسی نمائندے،صوبائی اسمبلی کے ممبرانسے لیکر قومی اسمبلی کے ممبر تک، علاقے کے کونسلر سے لے کر ضلع ناظم تک سب منظر سے غائب ہوجاتے ہیں ۔صرف  پولیس والے نظر آتے ہیں۔لیڈر حضرات صرف  اخبارات کو پریس ریلیز جاری کرتے ہیں   اور اس واقعے کی مذمت کرتےہیں اور کچھ نہیں۔

دوسری طرف پولیس والے ہر ایک راہگیرکو پکڑتے ہیں ،حوالات میں ڈالتے ہیں،قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتاہے ۔کسی کو چھوڑتےہیں کسی کو بند کرتےہیں۔ کوئی قاعدہ قانون نہیں۔ جنگل کا قانون ہے، پولیس گردی ہے ۔ آخر میں کچھ کو چھوڑا جاتاہے اور کچھ کے اوپر دہشت گردی کے دفعات لگائے جاتےہیں ۔ بنوں جیل بھیج دیاجاتاہے۔ یہ مسئلہ ایک حساب سے  سیٹل ہوجاتاہے ۔ حالات معمول پر آتے ہیں تو پھر ہمارے سیاسی لیڈر حضرات کو اپنی سیاست چمکانے کاخیال آتاہے۔ اپنی اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے پریس کانفرنس کرتے ہیں ، بسکٹ لیکر جیل پہنچتے ہیں اخبارات میں بیان بازی شروع  ہوتی ہے اور  انگلی کٹواکر  شہدا  میں شامل ہونے والوں کی تصاویر سے فیس ُبک  تک بھرجاتاہے۔ مژدہ سنایاجاتاہے  قیدی آج رہاہوئے کہ کل رہاہوئے ایک عرصہ بیت جاتاہے۔ اس کہانی کو یہاں  پرچھوڑتے ہیں اورقیدیوں کی طرف آتے ہیں ۔

اس واقعے میں قیدیہ لوگ کون ہیں ؟ان کا تعلق چترال ٹاؤن اور مضافات  کے گاؤں سے  ہیں   ۔اس واقعے سے پہلے ان   قیدیوں کےاوپر   ان کے متعلقہ تھانوں میں کوئی  ایک بھی الزام نہیں کہ یہ کوئی غیر قانونی فعل میں ملوث ہیں،پولیس کے اوپر حملوں میں یا کوئی حکومتی دفتر جلانے میں  ملوث ہے یا دہشت گرد ہیں۔

یہ  سارے محنت کش، کوئی دوکاندار ،کوئی طالب علم ، کوئی نچلے درجے کاسیاسی کارکن یاسرکاری ملازم۔ان کے متعلقہ تھانوں میں کوئی ایک بھی کریمنل ریکارڈ نہ ہونے کے باوجود     ایک دن میں  یہ  سارے دہشت گرد کہاں  سے  نکل آئے۔ایک چھوٹے سے واقعےمیں سارے دہشت گرد کیسے ہوگئے ۔ مجھے تو قانون کی کتاب “فوجداری قانون” کا  ایک سیکشن  یاد آرہاہے ،  بہت پہلے پڑھاتھا۔ سیکشن نمبرتو یاد نہیں ہے   سیکشن کا عنوان کچھ یوں تھا ” “sudden provocationاگرکسی کو  اچانک کوئی ایسی بات کہی جائے   یا اس کے سامنے کوئی ایسا فعل سرزد ہوجائے۔ جس کی وجہ سے وہ اچانک جذبات میں آکر کسی کو قتل بھی کردے  جس میں اس بندے کی نیت یا منصوبہ بندی شامل نہ ہوں تو اس ایکٹ کے تحت اس کی سزا میں نرمی برتی جاتی ہے۔کیونکہ وہ اردتا  ً اس کام کو کرنے کیلئے کوئی منصوبہ  نہیں بنایاتھا  یا نیت نہیں تھی۔  ہوسکتاہے کہ یہ صرف قانون کی کتاب میں درج ہوں عمل کیلئے نہ ہوں یا پیغمبر ؑکی شان میں گستاخی یا اعلان رسالت کو وہ بہت ہلکے لیتے ہوں۔

ان ساری چیزوں کے ہوتے ہوئے ہماری سیاسی رہنماوں کی طرف سے ایک حساس مسئلے کو سیاست کی نذر کیاجاتاہے۔ اپنی پارٹی مفاددیکھا جاتاہے   یا ان لوگوں کوجو قیدی ہیں  معاشرے میں وہ اہمیت نہیں جو ہماری سیاسی رہنماوں کو الیکشن میں فائدہ پہنچاسکے اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان لوگوں میں سے کسی کا کسی کے ساتھ ذاتی رنجش ہوں۔ بات کچھ بھی ہوں لیکن  ہمارے رہنماوں نے اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے نااہل ثابت کیاہے۔ میں یہ بات ماننے کیلئے تیارنہیں ہوں کہ ایس پی صاحب  نے ہماری سیاسی  لوگوں کا کہانہیں مانا۔ واقعات  و حالات بتاتے ہیں جس وقت پولیس میں بھرتی ہوں تو ایس پی ان  لیڈروں کا مان لیتاہے۔ سی این ڈبلیو میں ٹھیکے کا مسئلہ ہوں تو ان کےمنظور نظر بندے کو مل جاتاہے ۔ اگر کسی ڈیپارٹمنٹ میں چوکیدار بھرتی کراناہوں  ان کی پھرتی دیدنی ہوتی ہے۔ اگر کوئی ان کا نہ مانے توپریس کلب حاضر ہوجاتے ہیں ۔ اس حساس مسئلے پر کوئی پریس کانفرس کرکے ، ہڑتال کی کال دیکھ کر ، وفد کی شکل میں ایس پی سے ملکر کوئی کوشش کی ۔ بالکل نہیں۔ ہوسکتاہے کہ ہمارے لیڈر بھی اس حالت میں ڈرے یا سہمے ہوئے ہو یا کوئی اور مسئلہ ہو۔ لیکن چترال کے تمام رہنماوں نے اپنے کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔ چترالی عوام کو مایوس کیا۔ عام حالت میں بڑے بول بولنا کوئی بڑی بات نہیں۔ لیکن لیڈر وہ ہے جو ایسے حالات میں لوگوں کی رہنمائی  کریں اپنے ملک علاقے  لوگوں کے بہتر مفاد میں بولڈ اسٹپ لے تو وہ لیڈر ہوتاہے۔ ایک لیڈر کو دو چیزوں کا لازمی ادراک ہونا چاہیے ایک علاقے کی ثقافت اور دوسرا قومی غیرت۔ ان دونوں کا ادراک کسی کو نہ ہوں تو وہ ایک قوم کا اچھا لیڈر نہیں بن سکتا۔ مجھے لگتاہے کہ  ہمارے موجودہ لیڈرز حضرات میں ان  دونوں کی کمی  ہے۔ دوسرا واقعہ پھر کبھِی سہی۔۔

Zeal Mobile Reporter

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This