سی پیک اور ہماری شناخت (پہلی قسط)

جلد  یا بدیر ہماری قسمت  بدلنے والی ہے۔ ہم بحیثیت  قوم پوری پاکستانی  ہونے  جارہےہیں ۔ یہ اللہ کا فصل ہے کہ  اب ہم پر مصیبتوں سے نکل آئیں گے ۔چترال میں ترقی کا ایک دور شروع ہونے والاہے۔تبدیلی کا آغاز ہونے والا ہے ۔اس تبدیلی کے بہت سارے ثمرات  ہونگے جن سے ہم فائدہ اٹھائیں گے  لیکن اس تبدیلی کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں جن پر ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے ۔  بحیثیت  قوم ،ایک زبان بولنے اور ایک ہی علاقے کےباسی ہونے کے ناطے ہمیں ان تبدیلیوں  کے منفی اثرات  سے نبٹنے  کیلئے اور اس تبدیلی کا سامنا کرنے کیلئے   منصوبہ بندی اور غورو فکر کی ضرورت ہے ۔ جن کا تعلق ہماری شناخت،تہذیب  ثقافت اور زبان سے ہے۔ منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ معاشی فوائد بھی حاصل ہوں اور ہماری شناخت بھی برقرار رہیں۔  موجودہ حالات میں  چترال کے لوگوں کا تعلق بیرونی چترال سے بہت محدود پیمانے پر ہے ۔ ہماری زبان اور ثقافت  کا ملن   ابھی تک ملک کے دوسری  ثقافتوں اور زبانوں سے نہیں  ہواہے۔ سال کے تقریباً ۶     مہینے ہم ملک کےدوسرے حصوں سے کٹے  رہتے  ہیں  اگر درست  جائزہ لیا جائے تو پورے سال ہم اپنے دائرے میں دنیا جہاں سے بے خبر زندگی گزاررہے ہیں۔ہمارا واسطہ  بیرونی دنیا سے بس اتناہے کہ  ہمارے دوکاندار سال میں دو دفعہ پشاور جاتے اور اشیاء خوردونوش لاکے ذخیرہ کرلیتے ہیں  اور ہم لوگ اس پر گزارہ کرتے ہیں ۔گرمیوں کے موسم میں  جان ہتھیلی پر  رکھ کر کچھ سیاح یا کچھ سخت جان کاروباری حضرات یہاں  آتے ہیں  یا اسی تعداد کے حساب سے لوگ باہر جاتے ہیں ۔ راستے اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ بازارمیں دوسرے علاقے سے آنے والے لوگ بہت کم ہیں ۔  پیسے کی ریل پیل نہ ہونے کے برابر ہے روزانہ کی بنیادپر بڑی مارکیٹ سے چترال کے کاروباری حضرات کا رابطہ نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہماری روایت  ثقافت اور زبان گلوبل ائزینشن کے اثر ات سے محفوظ رہی ہے۔ ہماری شناخت  کو ایک چترالی اور ایک کھو کی حیثیت سے ابھی تک  کسی بھی طریقے سے  چیلنج کا سامنا نہیں ہےجو تھوڑے بہت باہر کے لوگ چترال  میں ہیں وہ بھی ہماری طرح کم پیسے والے  کم تعلیم یافتہ ہیں ان کی وجہ سے ابھی تک  ہمیں ثقافتی یا زبان کے بارے میں کوئی خاص چیلنج درپیش نہیں ہیں۔باہر اسے آئے  زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو مزدوری کیلئے آئے پیسے کمائے   کاروبار کی اور یہاں  پر مستقل سکونت اخیتار کی۔ اپنوں سے دور ہونے کی وجہ سے ہمارے  معاشرے میں رچ بس گئے  اور اپنے اب کو چترالی کہلانے پر فخر محسوس کرنے لگے۔

اب یہ منظرجلد یا بدیر  تبدیل ہوتاہوا نظر ارہاہے ۔مستقبل قریب میں لواری ٹنل اور سی پیک کے متبادل روڈ  کی وجہ سے ہمارا واسطہ اپنے ملک کے بڑے شہروں سے ہی نہیں بلکہ غیر ملک کے اقوام سے پڑنے والاہے ۔اب  چترال کا تعلق اور کاروبار بیرونی دنیا سے روزانہ کی بنیاد پر استوار ہوجائے گا۔  لوگ کاروبار،ملازمت اور سیروتفریح کیلئے ائیں گے ۔  اس بار چترال آنے والوں کا تعلق  بڑے کاروباری خاندانوں سے ہونگے ۔جب وہ کاروبار کےلیے سوچیں گے تو صرف اور صرف  پیسے کیلئے سوچیں گے۔ جب سیاح کے طور پر بھی ائیں گے تو وہ صرف اپنی پسند کودیکھیں گے۔ ان کے سامنے یہ سوال نہیں ہوگا کہ علاقےکے لوگوں کی   رسم رواج کیاہے۔ کس چیز کو پسند کرنے ہیں کس چیز کو پسند نہیں کرتے ۔ جدید دنیا کے اخلاقیات میں  وہ طاقتوار ہے جس کے پاس پیسہ ہیں وہ سب کچھ ہیں اور جس کے پاس پیسہ نہیں ہیں تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ صرف اور صرف اپنے مفاد کو جانتے ہیں   ۔نہ  بیرونی دنیا سے آنے والوں کا تعلق علاقے کی ثقافت، تہذیب اور زبان سے ہوتاہے۔ اب  یہ وقت ہے ہم بحیثیت چترالی  اور کھو    قوم  آنے والے    چیلنجیز کیلئے تیاری کریں۔ اس وقت اگر ہم بحیثیت قوم اپنے اپ کو سنبھالا نہ دیا  تو مستقبل قریب میں ہم اپنی شناخت کھودیں گے۔ یہ جوساری سہولت یا آسائشیں  ہمیں میسر ہونے کو ہیں  وہ سہولت ہمیں میسر تو ہونگےلیکن ہم بحیثیت  قوم اپنی شناخت کھودیں گے۔اگرمستقبل قریب میں ہم نے  ان چیزوں کاخیال نہیں رکھا تو اس کا اثر ہماری زبان اور ثقافت پر ہوگا۔ہم بحیثیت انسان تو زندہ رہیں گے زندگی کی آسائشیں بھی بہت پائیں گے لیکن آج جس چیز کے اوپر ہم فخر کررہے ہیں  اپنی الگ شناخت، اپنی زبان، ثقافت و تہذیب ۔ہم  گلوبل دنیا کا حصہ بن کر اپنی شناخت کھودیں گے۔ مطلب ہم اپنی شناخت ،زبان تہذیب و تمدن کھودیں گے۔

زبان وثقافت ایک زندہ چیز ہے ۔ معاشرے اور ماحول کے مطابق تبدیل ہوتاہے ۔ لیکن اس تبدیلی اور ماحول کے اثر سے اپنی شناخت کومعدوم ہونے سے  بچانا ، اپنی روایت کو محفوظ کرنا ایک زندہ  قوم کی نشانی ہے۔ تاریخی اعتبارسے دیکھے تو   زبان اور ثقافت کی ترقی اور معدوم ہونے میں بہت سے عوامل کارفرماہوتے ہیں ان میں  سب سے  اہم عوامل  تعلیم، دولت اور آمدورفت  کو گنا جاتاہے۔  ان تین چیزوں کا تعلق اگر ایک انسان کی اپنی ذات سے ہے تو اتنا ہی تعلق معاشرے سے بنتاہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کربیٹھے منصوبہ بندی کریں۔ جدید دنیا سے اس تعلق کو ہم اپنی زبان و ثقافت کی ترقی اور مضبوطی کیلئے استعمال کرسکیں اس کے لیے ضروی ہے کہ چترالی خاص کر علاقے کی اکثرینی قوم کھو کی حیثیت سے  دوسرے ۱۳ لسانی گروہوں   کو ساتھ    مل کر اپنی لسانی اور ثقافتی شناخت کو بچانے ،ترقی دینے اور دوسروں تک پہنچانےکیلئے ابھی  سےپیش بندی کریں۔ کسی بھی ثقافت  اور زبان اپنی تعدا د اپنے بولنے والوں کی نہیں بلکہ اپنی اہمیت  ، خوبی اور ویلیوز کے بنا زندہ اور خامیوں کی بنا معدوم ہوتی ہیں ۔ اچھی اوصاف اور لوگوں کے اپنی ثقافت اور زبان سے محبت ان کو آگے بڑھاتی ہیں  اگر ہم دنیا کی طرف دیکھے  تو انگریزی کی مثال ہمارے سامنے ہیں انگریزی بولنے والے تعداد میں کم ہونے کے باوجود ساری دنیا   کو اپنا باجگزار بنائے ہوئے ہیں ۔ دنیا کے ہرکونے کے لوگ انگریزی زبان سیکھنے کو اپنے لیے فخر محسوس کرتے ہے۔کیونگہ  انگریز لوگوں نے اپنی زبان اور ثقافت کو لوگوں کے سامنے مثبت انداز میں پیش کی ہیں  ۔

اس لیے یہ ہمارا فرض بنتاہے کہ ہمارے اوپر   ثقافتی یلغار ہونے  سے پہلے ہم اپنی طرف سے سوچے کہ اپنی ثقافت ،تہذیب تمدن اور زبان کو بچانے کیلئے ہم کیاکرسکتے ہیں سی پیک سےمعاشی  فائدہ بھی  حاصل کرسکے اور ثقافتی یلغار سے بھی  بچ سکے۔ کھوثقافت  اور تمدن میں یہ خوبی ہے کہ ہم اپنے اچھی خصوصیات  اچھے اوصاف کی وجہ سے دنیا میں ایک مقام رکھتے ہیں ۔ اس لئے یہ وقت ہے کہ ہم مغلوب ہونے کے بجائے کھو ثقافت کو غالب کریں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
26200cookie-check سی پیک اور ہماری شناخت (پہلی قسط)
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This