کثیراللسانی تعلیم

مجھے اپنی پانچویں جماعت کی انگریزی حروف تہجی کی کتاب میں دی گئی ایک تصویر اب بھی یاد ہے اس میں ایک گنجے آدمی کے ہاتھ میں تیر تھا اور سامنے انگریزی میں لکھا تھا“Zulu”۔آج تک مجھے معلوم نہ ہو سکا یہ زُولو کیا چیز ہے۔ ماہرین تعلیم جب یہ کہتے ہیں کہ بنیادی تعلیم یا ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ قومی زبان یا بین الاقوامی زبان کی اہمیت سے ناواقف ہیں یا وہ قومی زبان کو کم اہمیت دیتے ہیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے جب ایک بچہ اپنی ماں بولی میں کوئی چیز سیکھ لیتاہے تو اس مہارت کو استعمال کر کے وہ دوسری زبان بہت آسانی سے سیکھ سکتا ہے۔ مادری زبان میں تعلیم دینے سے بچے میں تجسس، سوچنے، سننے اوربولنے کی استعداد بڑھ جاتی ہےیہی مہارتیں بچہ دوسری زبان میں استعمال کرسکتا ہے۔بچے کی یہ مہارتیں اس کو قومی زبان اور بین الاقوامی زبان سیکھنے اور ان زبانوں کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔بچے اس مہارت کو آگے کی کلاسوں میں جاکر دوسری اور تیسری زبان میں تعلیم کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس طریقہ تدریس کو “کثیراللسانی تعلیم” (multilingual education)یعنی کہ ایک سے زیادہ زبانوں کے ذریعے دیاجانے والا تعلیم کہا جاتا ہے۔ماں بولی کو ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کرنے کے کئی طریقے ہیں جو اس کالم میں زیر بحث آئیں گے۔ ماں بولی کو ذریعہ تعلیم بنانے کا آسان طریقہ یہ ہےکہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ زبان کے ساتھ کتابوں میں دیئے گئے معلومات بھی بچے کے اردگرد موجود ماحول کے مطابق ہوں ۔ حتی کہ ماہرین تعلیم کے مطابق ابتدائی جماعت کی کتابوں کی تصویریں بھی نونہالوں کےلیے اجنبی نہ ہو۔اس طرح ایک بچہ دل لگاکر، بغیر ہجکچاہٹ کے سکول میں پڑھے گا ۔غور کرے گا اور کچھ مشکل ہوا تو وہ استاد کی مدد سے سمجھے گا۔ پھر مرحلہ وار طریقہ کار کے مطابق مادری زبان میں سیکھی ہوئی مہارتوں کے ذریعے دوسری زبان کو بھی صحیح طریقے سے سمجھ کر سیکھتا چلا جائے گا۔ اس طریقہ کار کے مطابق جوں جوں ایک بچہ اگلی کلاسوں میں جاتاہے تو مادری زبان میں کم اور قومی و بین الاقوامی زبان میں تعلم زیادہ ہوتی جاتی ہیں یوں ایک بچے کے نازک ذہن اور تخلیقیت متاثرہوئے بغیر ماں بولی کی مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے معیاری تعلیم حاصل کیاجاتاہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتاہے تاکہ ایک معصوم بچے کو معیاری تعلیم میسر ہوں،بچے کی سوچنے سمجھنے کی استعداد بڑھیں۔ عملی زندگی میں ایک بچہ خود سےسوچ کر اپنے راستے کا تعین کریں۔یہ طریقہ (Mother tongue based multilingual education )یعنی ماں بولی کو بنیاد بناکر دیا جانے والا تعلیم کہلاتا ہے۔
ماں بولی کی تدریس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک ساتھ ماں بولی اور دوسری زبان (Language 1 and language 2)میں تعلیم شروع کی جائے ۔ اس کےلیے طریقہ کار یہ اختیار کیاگیاہے کہ کتاب میں دی گئی معلومات ایک ہی ہونگی لیکن دو زبانوں میں  ۔ مطلب جو کتاب ایک بچہ ماں بولی میں پڑھتاہے وہ ہی کتاب ایک بچہ قومی زبان میں بھی پڑھے گا۔ اس کی پڑھائی کا طریقہ کار اس طرح دلچسپ ہے کہ ایک استاد کتاب کا ایک سبق ماں بولی میں پڑھائےگا اس کے بعد دوسرا استاد وہی سبق دوسری زبان میں پڑھائے گا ۔ سبق وہی ہوگا صرف زبان دوسری ہوگی۔ یہاں بھی ساری معلومات بچے کے ماحول سے لیے گئے ہوتے ہیں ۔ جس ثقافت اور زبان سے وہ بچہ واقف ہے۔ اس لیے زبان مختلف ہوتے ہوئے بھی بچے کو وہ سبق مشکل نہیں لگتا ہے۔ کیونکہ ایک تو وہ سبق پہلے اپنی زبان میں پڑھاہے دوسری یہ کہ وہ ساری معلومات جو کتابوں میں دیئےگئے ہیں اس کی اپنی ثقافت اور علاقے سے متعلق ہیں ۔ اس طریقے سے بچے کیلئے ماحول کو موافق بناکر اس کی ذہنی نشونما اور تخلیقیت کو پروان چڑھائی جاتی ہے اس طرح درسی کتابیں بچے پر بوجھ بن جانے کی بجائے ہلکے پھلکے اور خوشگوار انداز میں بچے کو علم کی طرف راغب کرتی ہیں ۔ اس طریقے سے بچہ اپنی ثقافت اور زبان کے ساتھ دوسری زبان بھی آسانی کے ساتھ سیکھ لیتاہے۔
اس حوالے سے ایک طریقہ کار خیبر پختونخواہ کی حکومت کا بھی ہے جو انہوں نے پانج زبانوں پشتو، ہندکو، کھوار، سرائیکی اور انڈس کوہستانی کےلیے اپنایاہے۔ جس میں قاعدہ سے لیکر انٹرمیڈیٹ تک ہر کلاس میں مادری زبان میں ایک کتاب شامل کی ہے۔ جس سے ایک بچہ اپنی زبان ، ثقافت ، رسم رواج اور تاریخ کے متعلق پڑھنےکے قابل ہوجائے گا اور ساتھ ساتھ زبان اور ثقافت کی بہت سی چیزیں محفوظ بھی ہوجائیں گی۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک بچہ کہیں جاکے اپنی ثقافت اور زبان کو پیش کرتے ہوئے نہیں شرمائے گا۔ ورنہ پاکستان میں چھوٹی زبانوں اور ثقافت کے ختم ہونے میں ایک اہم عنصر یہ بھی ہے کہ وہ اکثریتی آبادی کی زبان کے سامنے اپنی زبان بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔ اس طریقہ سے معیار تعلیم اور شرح تعلیم کے اوپر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ذریعہ تعلیم دوسری زبان ہی رہے گا البتہ زبان کی ترقی اور ثقافت کو محفوظ کرنے میں اس کا اثر دیر پا گا۔
ان تمام باتوں کے باوجود پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے دستور کچھ نرالاہے۔ یہاں پر تعلیم اس زبان میں دی جاتی ہے جس زبان سے نہ بچہ واقف ہے اور نہ استاد جو کتاب پڑھایا جاتاہے نہ اس کی زبان بچوں کی ہےاور نہ وہ معلومات ہماری ثقافت اور تاریخ سے متعلق ہیں۔ حتی کہ کتابوں میں جو تصویریں دیئے ہوتے ہیں وہ بھی بچوں کے دیکھے بھالے نہیں ہوتے ہیں۔اس لیے بچہ سمجھ کر پڑھنے کے بجائے رٹہ یا نقل کا سہارا لیتا ہے جس سے اس کی تخلیقیت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔اب بھی وقت ہے کہ زبان دانی یا زبان سیکھنے اور علم حاصل کرنے میں فرق کو سمجھا جائے کیونکہ علم حاصل کرنے کی لیے تخلیقیت درکار ہوتی ہے لیکن زبان دانی کیلئے ایک سے دوسالہ مشق کی ضرورت ہی کافی ہے۔

Zeal Mobile Reporter

تبصرہ

  1. احسان شہابی
    دقیق تحقیق کےبعد لکھا ہوا بہترین مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This