ماں بولی اور معیارتعلیم

ہم آئے دن ماہرین تعلیم کا یہ رٹہ رٹایا جملہ سنتے ہیں اور اخبارو رسائل میں پڑھتے ہیں کہ پاکستان کا تعلیمی نظام فرسودہ ہے نصابی کتابیں موجودہ زمانے کی ضروریات کو پورا نہیں کرتیں۔ جو بچے ہمارے اعلی تعلیمی اداروں سے پڑھ کے نکلتے ہیں وہ بھی تحقیقی اور علمی ذہن نہیں رکھتے ۔صرف رٹے رٹائے پر اکتفاکرتے ہیں ۔ لیکن اس سب کے باوجود ہمارے اہل دانش ، اہل ارباب اختیار اور ماہرین تعلیم اس نظام میں بنیادی تبدیلی لانے پرتیارنہیں ۔ پاکستان ایک بین الاثقافتی ملک ہے ۔ اس مملکت خداداد میں تقریبا ۷۹ زبانیں بولی جاتی ہے ۔ کسی زمانے میں دنیا کے اکثر بین اللسانی ملکوں میں جہاں ایک سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں معیاری تعلیم کا مسئلہ درپیش تھا بچے سکول نہیں جاتے تھے ،جو جاتے تھے وہ سکول سےبھاگ آتے تھے یاوالدین کے دباؤ کی وجہ سے سکو ل آتے تھے لیکن پڑھائی ان کی سمجھ سے باہر ہوتی تھی کیونکہ ابتدائی ادوار میں جس زبان میں ان کو پڑھایا جاتا تھا وہ زبان اُن کے لیے اجنبی تھی ۔اس وجہ سے بچے کی ذہنی صلاحیت متاثر ہوتی تھی ۔بچے کے اپنے ذہن سے کچھ کرنے اورسوچنے کا عمل مکمل طور پرمفقود ہوجاتا تھا۔ اس صورت حال میں ماہرین تعلیم نے سر جوڑ کے بیٹھ گئے اور تحقیق کی تو اس نتیجے پر پہنچے جب تک بنیادی تعلیم ماں بولی (مادری زبان) میں نہ ہوں تعلیم کا معیار بڑھ نہیں جائے گا۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے جب تک بچے کی ذہنی نشونما کلاس روم میں صحیح طریقے سے پروان نہ چڑھے ، بچے میں تخلیقیت پیدا نہیں ہوگی ۔جب بچے میں تخلیقیت کی کمی ہوگی تو بچے اپنے ذہن سے نہیں بلکہ کسی دوسرے کے ذہن سے (مطلب رٹہ لگا کے ) متاثر ہوگا۔ بچے میں تخلیقیت پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ بچے کیلئے ایسا ماحول بنایاجائے جوبچے کو اپنے ذہن سے سوچنے،سمجھنے ،سوال کرنے اور جانچنے کا موقع دے ۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ سکول میں جو نصاب پڑھایا جائے وہ آسان ہو اورعام فہم ہو ۔ مثالیں اس کی اپنی ثقافت اورمعاشرے سے لی گئی ہوں جس سے ایک بچہ واقف ہوں۔ استاد جب ابتدائی کلاسوں میں سبق پڑھائے توبچے کا ذہن بدیسی زبان کے مشکل الفاظ ،گرائمر کی باریکیوں میں نہ پھنسے۔ استادجو زبان استعمال کریں بچہ وہ زبان سمجھے،پھر بھی بچے کےلیےکوئی مشکل ہوں تواستادسے سوال کریں ۔ کلاس میں بچے اپنی زبان میں ایک دوسرے سے گفتگوکریں۔ تب ایک بچے کی ذہنی صلاحیت پروان چڑھےگی ۔

ماں بولی میں پڑھانےکے برعکس جب سکول کے پہلے دن ہی ایک اجبنی زبان میں لکھی ہوئی کتاب بچے کو تھمایا جائے اور استاد اجنبی زبان میں سبق پڑھانا شروع کردے۔تو بچہ اجنبیت محسوس کرےگا – شروع میں ہی گھر سے مانوس ماحول سے مختلف اپنے آپ کو ایک نئے ماحول میں پائے گا۔ اجنبی زبان اور بالکل ہی مختلف ماحول ایک معصوم جان کے لیے بوجھ بننا شروع ہوجائے گا۔ اس وجہ سے اجبنی زبان اور نیا ماحول بچے کے نازک دماغ کیلئے ایک بوجھ بن جائے گا تو اس ماحول میں ایک بچے کو استاد کی پڑھائی  سمجھ نہیں آئے گی ۔ استاد کے سوالات کا جواب نہیں دے پائے گا ،وہ استاد سے سوال کرسکے گا اور نہ ہی استاد کی ہدایت کو صحیح طریقے سمجھ سکے گا۔ یوں بچہ سکول میں اپنے آپ کو ایک قیدی تصور کرے گا۔ نتیجہ یہ نکلےگا کہ بچہ یا تو سکول سے بھاگ کر اپنی جان چھڑالے گا یا پھر گھر والوں کے دباؤ یا ڈر کی وجہ سے سکول تو آئے گا لیکن بچہ کچھ بھی سیکھ نہ پائے گا اور اس طرح ان کی تخلیقی صلاحیتیں مکمل طور پر ختم ہوجائینگے ۔ بچہ تخلیق اور تحقیق کو چھوڑ کر رٹہ لگانا شروع کردے گا۔جب سکول کا پہلا دن ایک بچے کو سیکھنے اور جانچ کے عمل سے دور رکھے گا تو لازمی  بات ہے یہ اثر بچے کی پوری عمرپر پڑے گا۔

پچھلے کچھ سالوں سے صوبہ خیبر پختونخواہ میں پرائمری سے لے کر انٹر میڈیٹ تک مادری زبان میں تعلیم دینے کے لیے نصاب بنانے کا عمل جاری ہے۔اب تک پانچ زبانوں میں یہ کام ہوچکا ہے اور اس نصاب کو سامنے رکھتے ہوئے درسی کتابوں پہ کام جاری ہے۔لیکن یہ محدود پیمانے کا کام ہے اول سے لیکر انٹرمیڈیٹ تک ہر کلاس میں ان زبانوں کی ایک ایک کتاب شامل ہوگی ۔اب ضرورت اس امر کی ہے ماں بولی کو پرائمری کلاسوں میں ذریعہ تعلیم (medium of instruction (کا درجہ دیا جائے تب مطلوبہ مقاصد پورا ہوسکتے ہیں ورنہ یہ بھی تعلیم میں دوسرے تمام تجربات کی طرح ایک تجربہ ہی ہوگا۔
جب تعلیم گھر کی زبان سے شروع ہوتی ہے تو اس میں بچوں کے لیے بہت آسانیان ہوتی ہیں جیسا کہ بچے کاالفاظ کو سمجھنے،جاننے ،بولنے ،ہجہ کرنے کا شوق شروع دن سے ہوتاہے۔ وہ بہت جلدی ، استاد سکول اور ماحول سے مانوس ہوجاتاہے۔۔کیونکہ جس ماحول میں وہ پڑھائی شروع کرتاہے کافی چیزیں گھر سے دیکھ کے سمجھ کے آتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔اس ساری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین تعلیم کی آراء جاننے کے بعد دنیا میں شرح تعلیم کو بڑھانے ،معیاری تعلیم کو رواج دینے اور ثقافتی تنوع کو برقرار رکھنے کیلئے 2001میںUN’s Educational, Scientific and Cultural Organisation(UNESCO) اپنی ایک قرارداد کے ذریعے مادری زبان میں تعلیم کو بچے کا بنیادی حق کےطور پر ماناگیاہے۔ اس قرارداد پرحکومت پاکستان نے بھی دستخط کی ہے اس لیے یہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہےکہ مزید انگریزی زبان پر تجربات کرنے کے بجائے بنیادی تعلیم ماں بولی میں دینے کیلئے نظام واضع کیاجائے کیونکہ UN کے چارٹر کے قانون کے مطابق حکومت پاکستان اپنے اس ذمہ داری کو پورا کرے اور مملکت پاکستان میں شرح تعلیم کے ساتھ معیار تعلیم بھی بہتر ہوں۔

Zeal Mobile Reporter

تبصرہ

  1. شفیق احمد
    بہت خوب فریدصاحب ،آپ نے معیار تعلیم کی راہ میں اصل رکاوٹ کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے ،کیونکہ پاکستان میں غلامانہ ذہنیت کے مالک باسیوں کو اتنی آسانی کے ساتھ نہیں سمجھا سکتے ہیں کہ تعلیم کسی مادری یعنی” کہوار” اور قومی زبان “اردو” میں بھی دے سکتے ہیں ۔میں نے اپنے ایک مضمون مین اسی حوالے سے ا شارہ دے چکا تھا کہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنا روز بروز پیچیدہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ ایک پاکستانی بچے کو ایک جملہ بولنے کے لئے تین زبانوں پر عبور حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ ایک طالب علم سوچتا اپنی مادری زبان میں ،بولتا ،اردو زبان میں اور لکھتا انگریزی زبان میں ہے ۔لہذا ایک پاکستانی طالب علم کی توانائ زبان سیکھنے میں صرف ہوتی ہے ۔اسی بنأپر سوچنے کا موقع کم میسر آنے کی وجہ سے طالب علم کے تحلیقی صلاحیت متأثر ہوتی ہے لہذا طلبأ ، متفرق ماحول سے تنگ آکر درسگاہوں سے بیزار دیکھائی رہے ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ عدالت عظمی نے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے قومی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کافیصلہ سنانے کے باوجود ،اسی واضح فیصلے کو ماننے سے انکار کر کے مزید آئین شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔آپ نے اپنے مضموں میں مادری زبان کے ساتھ اردو ذریعہ تعلیم کی افادیت کے بارے میں اشارہ نہیں دیا ہے کیونکہ اردو زبان ہمارے لئے انگریزی کی نسبت زیادہ مانوسیت حاصل کر چکی ہے ۔ماہرین تعلیم مادری زبان مین تعلیم کو موثر طریقہ تدریس تسلیم کر چکے ہیں لہذا ہمین ماہرین کی رائے کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This