Supreme Court Dam Initiative
Farida

تعلیم نسوان اور چترال (قسط نمبر۲)

کیرئیرکونسلینگ : اگردیکھا جائے توتعلیمی ترقی کی رکاوٹوں میں اب تک کے مسا ئل میں ایک اوراہم مسئلہ طلبہ کے لیےکیرئیرکونسلینگ کے موا قع کا نہ ہونابھی ہے۔ میں اگراپنی مثال لےلوں تومجھے بچپن سےہی اردو ادب سے فطری لگاؤتھا۔ کہا نیاں لکھنے پڑھنے،نظموں اورغزلوں سے بےحد دلچسپی تھی مگرہم پرسائنس پڑھنے کا بھوت سوارہوگیااوربس اسی سوچ میں آرٹس کے مضامین سے جان چھڑا لی۔ یوں وقت گزرتا گیاسکول اورکالج میں سائنس مضامین لیکن میرا لگاؤوہی کہانیوں ،افسانون ، نظموں اور غزلو ں کے ساتھ اورمظبوط ہوتا گیا۔ اخبارات اور  مضمون نویسی کے ساتھ  رشتہ بھی جوڑچکا تھا اورساتھ ساتھ چھوٹی موٹی شاعری بھی شروع ہو چکی تھی۔ جب گریجویشن کرلی تب اندر کا جذبہ با ہر کی سرسری لگاؤ پرغالب آنے لگا مگراس وقت بہت دیر ہو چکی تھی اورمجھَے شدت سے اس بات کا احسا س ہو رہا تھا کہ کاش وقت پرمجھے گا ئڈینس اورکونسلینگ مل جاتی توآج میں اپنے شوق کواوروسعت دےدیتی۔ میری صلاحتیں پختہ  ہوجاتیں مگرافسوس اپنی صلا حیتوں کوپہچان کرانہیں اپنا نے میں بہت دیر کردی ۔یہی حال ہمارے آج کے طالب علمو ں کا بھی ہے۔انہیں گھرو ں میں ایسے مواقع میسر ہیں اورنہ ہی تعلیمی اداروں میں۔اساتذہ اوروالدین دونوں کو چا ہیئے کہ وہ بچوں کو ان کی دلچسپی اورشوق کے حساب سے پڑھائیں اورآگے مضا مین بھی اس حساب سے انتخا ب کرنے میں ان کی مدد اورراہ نما ئی فرمائیں ۔ ان کو اپنے انتخا ب میں آزاد چھوڑے تا کہ وہ اپنے اندر کے رجحان کو دریا فت کرسکیں تاکہ ان کا شو ق کیا ہے؟ اورآگے وہ کن شعبوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

دوسرا اہم مسئلہ تعلیمی اداروں میں سائیکلوجیکل کونسلینگ کا فقدان ہے۔ دانشورکہتے ہیں کہ ‘جان ہے تو جہان ہے’لہٰذا اس با ت کا خیال رکھناانتہائی ضروری ہے کہ بچیوں کا جسما نی طورپرصحت مند ہونے کےساتھ ساتھ ذہنی طور پربھی صحت مند ہونا ضروری ہے تا کہ وہ آگے جا کرایک صحت منداورمفید فرد کے طور پرمعاشرے میں اپنا کردارادا کرسکیں ۔افسو س اس بات کا ہےکہ چترال کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں سائیکالوجیکل کونسلینگ کے موا قع بالکل میسر نہیں ہیں اور نتیجتاً سالانہ کئی بچیاں ہاراسمینٹ کی وجہ سےیا امتحان میں کم نمبرآنے یا والدین کے تھو ڑے سے ڈانٹ ڈاپٹ کی  وجہ سے خودکشیاں کرلیتی ہیں۔سائیکلوجیکل کونسلینگ سے مراد

  •  Counseling( مشا ورت )
  • Student mental health advice(  طلبا کی ذہنی صحت کے متعلق مشورہ )
  • Mentoring( را ہنما ئی )
  • Peer support( ہم مرتبہ کی حمایت)

کوئی بھی تعلیمی ادارہ کونسلینگ کے حوالے سےاگران چارپواینٹس پرعمل کرے تو کونسیلنگ کے حوالے سے بچیوں کے کا فی مسا ئل حل ہو سکتے ہیں اوراس حوالے سے چترا ل میں کچھ ادارے اور پروجیکٹس بھی کام کر رہے ہیں ان سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

چترا ل کی سرزمین قابل اوربا صلاحیت بچیوں سے بھری پڑی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ کو ئی غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہے تو کوئی معاشی ومعاشرتی وجوہات کی بنا پرتو کو ئی زمانہ ومعاشرے کے فرسودہ روایا ت کی وجہ سے ان تمام وجوہا ت میں سے ایک اور اہم وجہ بچیوں کی کم عمری میں شا دی بھی ہے جسکی وجہ سے بچیاں تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔ایک رپوٹ کے مطابق پاکستان کم عمری کی شادیوں کے حوالے سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے اور چترال میں بھی یہ رجحان کا فی زیادہ ہے جس کی وجہ سے کئی بچیا ں تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔(جاری ہے)

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
115700cookie-checkتعلیم نسوان اور چترال (قسط نمبر۲)

کالم نگار/رپورٹر : فریدہ سلطانہ فَری

Share This