نتیجہ

مرشد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ نیتجہ آنے کے بعددل گرفتہ،غمگین ، اور ذہنی تناؤ سے دوچار کمرے سے باہر نہیں آتا۔موبائل بند ہے۔ دوستوں سے رابطہ نہیں کرتا۔ میں نے کہامرشد نے امتحان نہیں دیا نیتجہ آنے پر اس کو کیا پریشانی ہے؟ پھر میں نے سوچاآج مرشدسے ملنے اس کے گھرجانا چاہیئےغالب نے بھی کہا تھا “تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیئے “جب و ہاں پہنچا تو وہی منظر تھا۔مرشد کمرے سےباہر آیاتو چہرے پر اداسی تھی میں نے مبارک صادق کا  شعر پڑھا

“وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکرلڑکھڑائے شکست کھائے
لبوں پر آپنے  وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا کمال یہ ہے

مرشد کے چہرے پرتھوڑی سی رونق آگئی اس نے مبارک صادق کا مطلع سنایا

خسراں رت پہ گلاب لہجہ بنا کے رکھناکمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دیاجلانا،جلا کے رکھناکمال یہ ہے

میں نے کہا  ویلڈن مرشد!تمہیں کیا ہوا،مرشدبولامیرا یار پریشان ہے اس کے نمبر بہت کم آئے ہیں  میں نے پوچھا کون؟ مرشد نے بتایاکہ اسامہ نے امتحان دیا تھا90فیصد سے اوپر نمبر لینے کی امید تھی باپ نے کہا تھا اگر تمہارے نمبرحوران سے کم آئےتو کالج  میں داخلہ نہیں کروں گا۔ ماں نےکہا تھااگر تم نے گلدانہ سے کم نمبر لیئےتو دودھ نہیں بخشونگی۔ اسامہ کے نمبردونوں سے کم آگئے۔ ماں باپ نے گھر سے نکال دیا۔ ماموں کے ہاں اس کو سر چھپانے کی جگہ ملی ہے۔ میں نے کہا ماں باپ  کی غلط تربیت، برے الفاظ  اور ناروا پابندیوں کی وجہ سےنیتجہ آنے پر بہت سے لڑکےخود کشی کرتے ہیں۔ بچیاں دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیتی ہیں۔  ایسے واقعات کی ایف۔ آئی ۔ آر ماں باپ کے خلاف درج ہونی چاہیئے۔ مرشد نے میری  بات کی تائیدکی  اس نے دوسرا واقعہ سنایاجو پہلے واقعے سےزیادہ غمگین کردینے والا تھا مرشد نے کہا میرے چچازاد بھائی کی بھی ایک پیاری بچی ہے،  پھول جیسی بچی ہے ۔ کے جی میں پڑھتی ہے۔ نیتجہ نکلا تو وہ روتی ہوئی گھر آئی۔  ماں سے چھپ کے دادی کے پاس گئی اور دادی سے کہا میں فرسٹ نہیں آئی۔ میری ماں نے کہا تھااگر تم فرسٹ نہیں آئی تو گھر مت آناسیدھا دریا کے پاس جاکراپنا بستہ وہاں رکھدو، دوپٹے کو بھی رکھدو، کپڑوں اور جوتوں سمیت دریا میں چھلانگ لگاؤ۔ اگر گھر آگئی تو مار مار کر تمہارا کچومرنکال دونگی۔ دادی جان !میں دریا میں چھلانگ لگانے سے پہلے اپن مُنے بھائی کو بوسہ دینا چاہتی ہوں۔ ایک بارمُنےکو چوم لونگی پھر جاکر دریا میں چھلانگ لگادونگی۔  مرشد کی بات کاٹتے ہوئےمیں نے کہا وہ ماں ان پڑھ اور جاہل ہوگی۔ مرشد نے کہایہ بات نہیں  اس کی ماں دوسرے سکول میں ٹیچر ہے باٹنی میں ایم ۔ ایس ۔ سی ہے۔  بی ۔ ایڈ اور ایم۔ایڈ کی ڈگریاں اس کے پاس ہیں۔  میں نے کہا پھر تو وہ خطرناک آن  پڑھ ہے۔ اگرچہ ڈگری اس نے لی ہےمگر ڈگری اس کوذرہ  برابرفائدہ نہیں دیا۔  یونیورسٹی جاکر اس نے کچھ بھی نہیں سیکھا۔ مرشد نے سوال داغ دیا۔ ہمارے ہاں ماں باپ اپنے بچوں کو نمبروں اور گریڈوں کے چکرمیں کیوں الجھاتے ہیں؟ میں جواب دیتا ہوں لالچ اور صرف لالچ کی وجہ سے ایسا کرتے  ہیں۔م اں باپ کا یہ خیال ہےکہ اولاد ذیادہ نمبر لے گی تو زیادہ پیسے  لائیگی۔  ماں باپ کو اولاد کی زندگی سے کوئی غرض  نہیں۔  ان کو زیادہ سے ذیادہ دولت کمانے کی فکر ہوتی ہے۔  او ر اس فکر میں وہ دوسروں  کی اولاد کے ساتھ اپنی اولاد کا موازنہ کرتے ہیں مرشد بھی مجھ سے اتفاق کرتا ہےاور پوچھتا ہے کہ ہم نمبروں اور گریڈوں کے اس چکر سے کب چھٹکارا پائیں گے؟ میں نے مرشد کے اس سوال کا بھی وہی جواب دیا۔ جب ماں باپ روپے ،  پیسے اور دولت کے لالچ کی جگہ اولاد کی زندگی اور جان کو عزیز جانیں گے تب ہم اس قسم کےفضول مباحثوں اور چکروں  سے چھٹکارا پاسکیں گے۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
98280cookie-checkنتیجہ

کالم نگار/رپورٹر : ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

چترال کی معروف شخصیت اور کالم نویس ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی جنہیں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے بلاشبہ چترال اور چترالیوں کے لیے قابل فخر اور جانا پہچانا نام ہے۔ زیل نیوز ڈاکٹر صاحب کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور زیل نیوز کے لیے کالم نویسی کو باعث فخر سمجھتا ہے۔
Share This