یادوں کی بارات

یادوں کی بارات حضرت جوش ملیح آبادی کی خود نوشت سوانخ عمری ہے۔ آج مرشد ایک عجیب مسئلہ لیکر آیا تھا۔ مسئلے کو سن کر میری یادوں کی بارات آگئی۔ اور آتی گئی۔ مرشد نے کہا میرے سکول میں افواہ پھیلی ہے کہ آئندہ امتحان میں نقل کی اجازت نہیں ہوگی۔ لڑکے حیراں ہیں اگر نقل کی اجازت نہیں ہوگی تو امتحان کیسا ہوگا؟ میں نے مرشد سے کہا بیٹھو میں تمہیں کہانی سناتا ہوں۔ میری طالب علمی کے زمانے میں امتحان کے اندر نقل کا نام کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس زمانے میں فوٹو اسٹیٹ نہیں تھا۔ عدالتی مسل کو ہاتھ سے نقل کرکے دوبارہ لکھ کر محفوظ کیا جاتا تھا۔ اس کے اوپر نقل از اصل لکھ کر اس پر افسر کے مہر کے ساتھ اس کے دستخط ہوتے تھے۔ ۱۹۶۳ء میں لقدادہ مردان کے ایک لڑکے کو پکڑا گیا۔ لوگ حیران رہ گئے کہ امتحان کے اندر نقل از اصل لیکر کس طرح آگیا۔ اس کا چچا بڑا افسر تھا مگر اس کو نہ بچا سکا۔ ۳ سالوں کے لیے اس پر پابندی لگائی گئی کہ امتحان نہیں دے سکے گا۔ مرشد حیران ہوا۔ حیران ہو کر پوچھا تمہارا اسکول کیسا تھا؟ میں نے کہا میرے اسکول کا نام انیگلو ورنیکلر سٹیٹ ہائی سکول تھا۔ بازار کے پیچھے گولدور چوک کے قریب اس کی عمارت موجود ہے آج کل اس کو سیٹنیل ہائی سکول کہتے ہیں۔ میرے سکول میں ۶ ہزار کتابوں کی لائبریری تھی۔ جو برباد ہو چکی ہے۔ میرے سکول میں ہر سال سکاوٹنگ کا کیمپ لگتا تھا جسے بند کردیا گیا ہے۔ میرے سکول میں ٹینس کورٹ تھا جہاں پولیٹکل ایجنٹ میرے اساتذہ کے ساتھ ٹینس کھیلنے کے لیے آتا تھا۔ اس کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے۔ میرے سکول میں کھیلوں کے تین بڑے بڑے میدان تھے۔ ایک فٹبال کے لیے تھا۔ دوسرا ہاکی کے لیے تھا تیسرے میدان کے نصف حصے پر باسکٹ بال کے پول لگے ہوئے تھے۔ نصف حصے پر والی بال کا نیٹ لگا ہوا تھا۔ پورے چترال کے عوام و خواص تفریح کے لیے سہ پہر کو میرے سکول آتے تھے۔ مرشد نے درمیان میں بات روک کر سوال پوچھا، وہ میدان آج کل کہاں ہیں؟ میں نے کہا پھر ایسا ہوا کہ چترال ضلع بن گیا ضلع بنے کے بعد سیمنٹ، سریا اور جستی چادروں والے لوگ آئے انہوں نے کھیل کے میدانوں میں سیمنٹ، پتھر اور لوہا اگایا۔ اونچی اونچی عمارتیں بنا کر کھیلوں کے میدانوں پر زبردستی قبضہ جمایا۔ سیمنٹ اور سریا والوں نے میرے سکول کے خوب صورت ہال کی شکل بھی مسخ کر دی۔ ہال کا خوب صورت سیٹج برباد کرکے دروازے کے بغل میں مسخروں کا بدصورت سٹیج بنا دیا۔ اپنی سکول کی یہ حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مرشد نے اس پر نیا سوال داغ دیا کہ وقت گذرنے کے ساتھ بہتری آنے کے بجائے زوال اور بدتری کیوں آئی؟ میرے پاس اس زوال کے تین جوابات تھے میں نے کہا ان میں ایک جواب کو منتخب کر لوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ۱۹۷۰ سے پہلے قانون تھا۔ اصول تھے۔ ۱۹۷۰ کے بعد قانون کی موت واقع ہوئی۔ اصولوں کو دفنا دیا گیا۔ فیصلے چترال میں ہوتے تھے۔ اس لیے عمارتیں اچھی جگہ بنتی تھیں۔ زمین کو ضائع نہیں کیا جاتا تھا۔ ۱۹۷۱ء کے بعد چترال کے تمام فیصلے پشاور، سوات اور اسلام آباد میں ہونے لگے۔ سکولوں کی لائبریریاں بند کر دی گئیں۔ کھیل کے میدانوں کو عمارتوں میں بدل دیا گیا۔ قدیم دور کی خوبصورت عمارتوں کو توڑ کر ان کن کی جگہ بدصورت عمارتیں بنائی گئیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ افسروں کے اختیارات منتخب نمائندوں کو دیدیے گئے۔ انہوں نے ہر چیز کا بیڑہ غرق کر دیا۔ مرشد پھر حیران ہوا۔ حیرانی میں پھر پوچھ لیا۔ کیا اس زمانے میں نقل نہیں ہوا کرتا تھا؟ میں نے کہا بالکل نہیں ہوتا تھا۔ نقل کا تصور نہیں تھا۔ مرشد نے کہا تبھی اس زمانے کے لوگ بڑے لائق ہیں۔ میں نے کہا ۱۹۶۲ء میں تیسری جماعت کا طالب علم استاد محترم محمد شریف خان مرحوم کا شاگرد پولیٹکل ایجنٹ اور ڈپیٹی کمشنر کے نام درخواست لکھتا تھا۔ آج کل میٹرک پاس کرنے کے بعد ایک طالب علم ایک دن کی چھٹی کے لیےپرنسپل کے نام درخواست نہیں لکھ سکتا۔ مرشد پھر حیران ہوا۔ میں نے کہا مجھ سے نہ پوچھو میں قدم قدم پر تمہیں حیران کردونگا۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
63190cookie-checkیادوں کی بارات
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Share This