چترال بازار میں پارکنگ کے مسائل کا حل

چترال بازار میں سرکاری عمارات اور نجی تعمیرات کی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے کار پارکنگ بہت بڑا مسئلہ بن گیاہے ۔ ڈیڑھ دو سال بائی پاس روڈ پر پارکنگ کی جگہ ملتی تھی، گزشتہ 6مہینوں سے پریڈ گراؤنڈ کے زیر تعمیر حصے کو پارکنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ پیریڈ گراؤنڈ کی تعمیر مکمل ہوئی تو یہ بھی بند ہوجائے گا۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال، عدلیہ اور ضلعی انتظامیہ کے دفاتر، پولیس لائن اور دیگر اہم دفاتر، بینک، ڈاک خانہ وغیرہ کے قریب گاڑی یا موٹر سائیکل پارک کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ پولیس آنکھیں بند کرے تو کسی بھی جگہ گاڑی کھڑی کی جاسکتی ہے ۔ پولیس آنکھیں کھول کر قوانین پر عمل کرے تو چھاؤنی پل سے لے کر چیو پل تک گاڑی پارک کرنے کی جگہ نہیں ملتی، سب سے بڑا مسئلہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ہے ۔ گزشتہ 30 سالوں کے اندر چترال ٹاؤن اور بازار کے اردگرد شہری عمارتوں کی اتنی توسیع ہوئی ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں رہی۔ زمین کی قیمت 1988ءمیں 50ہزار روپے فی مرلہ تھی، 2018ءمیں ایک مرلہ زمین 3 لاکھ روپے کا ہوگیا ہے ۔ دکانوں کے نرخ اس سے بھی زیادہ ہیں ۔ اگر1988ءمیں چترال کے عوامی نمائندے منصوبہ بندی کرتے تو آج یہ مسائل نہ ہوتے ۔ لیکن چترال ٹاؤن کے عوام جس طرح 2018ءمیں قیادت سے محروم ہیں 1988ءمیں بھی قیادت سے محروم تھے۔ 30سالوں میں یہ محرومی دور نہیں ہوئی ۔ اب لوگ سیاسی قیادت سے اس قدر مایوس ہوچکے ہیں کہ سیاسی قیادت کے سامنے کسی مسئلے کا نام ہی نہیں لیتے۔ان کو معلوم ہے کہ سیاسی قیادت ان کے مسائل حل نہیں کرے گی۔ سول اور فوجی حکام اگر چاہیں تو چترال میں پارکنگ کا گھمبیر مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔ اگلے دو سالوں کے اندرچترال بازار کے علاقے میں تین مقامات پر پارکنگ پلازے بنائے جاسکتے ہیں۔ شاہی مسجد کے سامنے قدیم موٹر خانہ کی زمین پر 5منزلہ پلازہ تعمیر ہورہا تھا محکمہ آثار قدیمہ نے اعتراض کرکے کثیر المنزلہ پلازے کی تعمیر رکوادی ہے ۔ اس مقام پردو تہہ خانوں کے ساتھ گراؤنڈ فلور پر ڈیڑھ ہزار گاڑیوں کے لیے پارکنگ کی گنجائش نکل سکتی ہے ۔ پیر محلہ بائی پاس روڈ پر اسی طرح کا پارکنگ پلازہ بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ ایسا ہی ایک پارکنگ پلازہ اتالیق بازار میں بنایا جاسکتا ہے ۔ نئی سبزی منڈی کے قریب اس کی بڑی گنجائش ہے۔ ان مقامات پر پارکنگ پلازوں کی تعمیر پر 2018-19ءمیں دو ارب روپے کا خرچہ آئے گا۔ اگر 5 سال بعد زمین لینے کی کوشش کی گئی تو 10ارب روپے میں بھی زمین دستیاب نہیں ہوگی ۔ اسی طر ح ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا نقشہ غلط بنانے کی وجہ سے کار پارکنگ کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اگر سی اینڈڈبلیو دفتر کے سامنے اندرونی گیٹ مقرر کرکے بیرونی گیٹ کے لیے زرگراندہ کی طرف سے اتالیق پل تک سڑک بنائی جائے  تو یہ راستہ چلڈرن ہسپتال کے ساتھ بھی مربوط ہوجائے گا۔ گاڑیوں کے لیے آنے جانے کے دروازے الگ الگ مقرر ہونے سے ٹریفک کی روانی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ ڈپٹی کمشنر ارشادعلی سودھر، ڈی پی او منصور امان اور کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل معین الدین اگر ایک دن وقت نکال کر چاروں مجوزہ مقامات کا دورہ کر کے صوبائی حکومت کو تجویز دےدیں تو 2018-19کے سالانہ بجٹ میں چاروں سکیمیں آسانی سے ڈالی جاسکتی ہیں ۔ اس وقت بجٹ تیاری کے مرحلے میں ہے۔ مئی کے آخری ہفتے میں بجٹ پیش ہونا ہے۔ چترال کے عوام اپنے منتخب نمائندوں سے مکمل مایوس ہوچکے ہیں ۔ کیونکہ گزشتہ 30سالوں کے اندر عوامی نمائندوں کے خصوصی فنڈ کا 180ارب روپیہ چترال کے نام پر خزانے سے نکالا گیا۔ اس رقم کی ایک بھی عوامی سکیم پورے چترال میں نظر نہیں آتی۔ 30سالوں میں 180ارب روپیہ 4 لاکھ اور 5لاکھ کی چھوٹی چھوٹی ناکارہ سکیموں کے نام پر اِدھر ُادھر تقسیم کیے گئے ۔ عوام کو ا ن سکیموں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ چترال بازار اور اس کے اطراف میں پارکنگ کے مسئلے پر اگر ڈی سی صاحب ، ایس پی صاحب اور کرنل صاحب نے توجہ نہ دی تو کوئی اور اس مسئلے کو کبھی حل نہیں کرے گا۔

 

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
60550cookie-checkچترال بازار میں پارکنگ کے مسائل کا حل

کالم نگار/رپورٹر : ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Share This