مار خور کی سینگوں کا جادو

آج مرشد آیا تو اس کے ہاتھ میں تصویر تھی۔ خوبصورت تصویر میں مارخور کا سرنظر آرہا تھا۔ اس کی سینگیں نظر آرہی تھیں۔ سینگوں کے پیچھے چند آدمی بیٹھے تھے۔ نیچے لکھا تھا ایک پرمٹ والے غیر ملکی شکاری نے ٹرافی کا شکار کھیلا۔ 47انچ سینگیں ہاتھ آگئیں۔ مرشد کا غم یہ ہے کہ مارخور کا شکار کیوں کھیلا جاتا ہے۔ مارخور کی حفاظت ہونی چاہئیے۔ یہ ایسا جانور ہے جس کو چترال کا قیمتی اثاثہ کہا جاتا ہے۔ میں نے مرشد کے ہاتھ سے تصویر لیکر اس پر غور کیا تو مرشد کے تحفظات میری سمجھ میں آگئے مگر میرے تحفظات پھر بھی مرشد کی سمجھ میں نہیں آئے۔ مرشد کہتا ہے کہ مارخور کی حفاظت ضروری ہے۔ میرے تحفظات یہ ہیں کہ مارخور کی حفاظت اس دن تک کرو جس دن پرمٹ والا شکاری آئے۔ شکاری آیا تو مارخور اس کے حوالے کرو۔ حفاظت کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ ٹرافی بن جائے، نیلام ہوجائے، پرمٹ جاری ہوسکے اور شکاری آکر اس کا شکار کھیلے۔ مرشد اس بات پر حیران ہے کہ آخر یہ ٹرافی غیر ملکی ہی کیوں لے جاتا ہے؟ مرشد کو سمجھانے کے لیے مواد بہت ہے مگر الفاظ میرا ساتھ نہیں دیتے۔ میں مرشد کو کیسے سمجھاؤں اور میں مرشد کو کیسے بتاؤں کہ غیر ملکی ہی ٹرافی کا شکار کیوں کھیلتا ہے؟ میں مرشد کو کس طرح سمجھاؤں گا کہ 10وادیوں کی آبادی نے ملکرمارخور کو پالا پوسا، اس کی حفاظت کرکے 9سال یا 10سال کی ٹرافی تک اس کو ہاتھ لگانے نہیں دیا۔ اس دن کے لیے حفاظت کی تھی کہ ٹرافی 47انچ کا ہوجائے اور شکاری آکر اس کا شکارکھیلے۔ میں مرشد کو کیسے بتاؤں گا کہ شکاری اکثر غیر ملکی ہوتا ہے کیونکہ ٹرافی کی قیمت پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ دس لاکھ روپے ہوتی ہے۔ اس رقم کے عوض پرمٹ جاری ہوتا ہے اور بہت کم پاکستانی ایسے ہوتے ہیں جو ایک ٹرافی کے لیے اتنی رقم خرچ کرسکتے ہیں۔ اس لیے اکثر غیر ملکی پرمٹ لیتے ہیں۔ میں مرشد کو کیسے سمجھاؤں کہ پرمٹ کے اس رقم کا 25فیصد حکومت کے اکاؤنٹ میں جاتا ہے جبکہ اس کا 75فیصد کمیونٹی کی تنظیم کو ملتا ہے اور تنظیم اس رقم کو عوام کے بہبود پر خرچ کرتی ہے۔ بھلا میں مرشد کو کیسے سمجھاؤں کہ ٹرافی کی رقم کمیونٹی کے لیے ترغیب کا ذریعہ بنتی ہے۔ اپنے اجتماعی فائدے کو دیکھ کر کمیونٹی مارخور کے ریوڑ کی حفاظت کرتی ہے۔ کسی سال دو مارخور کسی سال چار مارخور ٹرافی کے لیے نیلام کرتی ہے اور اچھی خاصی رقم کما لیتی ہے۔ میں مرشد کو کیسے سمجھاؤں کہ ٹرافی کی وجہ سے چترال کی مختلف وادیوں کے اندر جنگلوں میں مارخور کی نسل بڑھ رہی ہے اور ہر سال اس کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے۔ مرشد تصویر کو ہاتھ میں لیکر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ بیرون ملک سے شکاری آیا اور ٹرافی لے گیا۔ مرشد کی سمجھ میں یہ بات اب تک نہیں آئی کہ ٹرافی کی قیمت ایک کروڑ دس لاکھ روپے ہے جو کہ غیر ملکی ہی ادا کرسکتا ہے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
56510cookie-checkمار خور کی سینگوں کا جادو
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

Share This