پی کے 90

مرشد کو اس بات کا دکھ ہے کہ پی کے 90 نام کا جو حلقہ تھا اس حلقے سے صوبائی اسمبلی کا ایک ممبر منتخب کرکے ہم اسمبلی میں بھیجتے تھے وہ حلقہ ختم کردیا گیا ہے۔میں نے مرشد کو سمجھاتے ہوئے کہا کوئی بات نہیں ،ہمیں کسی اور حلقے کے ساتھ ملایا جائے گا ۔اس حلقے میں ہمارا ووٹ حساب ہوگا۔اس حلقے کا منتخب ممبر ہماری نمائندگی کرے گا مگر مرشد نہیں مانتا۔وہ کہتا ہے ،پاکستان مسلم لیگ (ن)کے لیڈروں نے بیان دیا ہے ،ہم پی کے 90 کو بحال کرا کر دم لیں گے۔میں نے کہا ،مرشد جی! یہ سراسر جھوٹ ہے ،مکر ہے ،فریب ہے ،دغا بازی ہے۔پاکستان مسلم لیگ (نون) نے قومی اسمبلی میں اکثریت کے بل بوتے پر چترال کی ایک سیٹ کو ختم کرنے کا بل پاس کیا۔قانون بنایا اور لکھ کر دے دیا کہ جس حلقے میں 6لاکھ 67 ہزار آبادی نہیں ہوگی وہاں صوبائی اسمبلی کی دو سیٹیں نہیں ہونگی۔اب یہ کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ ہم بحال کرائیں گے؟ مگر مرشد بات نہیں مانتا ۔وہ پینترا بدل کر کہتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈران نے پریس کانفرنس کیا ہے۔جماعت اسلامی اور اے این پی والوں نے بھی پریس کانفرنس میں اس بات پر شدید احتجاج کیا ہے۔ایم پی اے سردار حسین نے انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔جمعیت العلمائے اسلام (ف) نے بھی بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔میں کہتا ہوں مرشد جی اتنا معصوم بھی نہ بنو ،بچوں جیسی باتیں نہ کرو۔چترال کی ایک سیٹ کو ختم کرنے کے بل کو سب نے مل کر پاس کیا ہے۔سید خورشید شاہ اور سراج الحق بھی ان میں شامل ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن اور حاجی غلام احمد بلور بھی ان میں شامل ہیں۔مرشد کہتا ہے یہ بتاﺅ ہماری آبادی کیوں کم ہوگئی ؟ میں کہتا ہوں یہ بڑوں کی باتیں ہیں۔ یہ پروگرام صرف بالغوں کے لیے ہے۔ وہ ضد کرتا ہے تو مجبورًا اس کو بتانا پڑتا ہے۔دیکھو مرشد جی! بات یہ ہے کہ حکومت نے بہبود آبادی کا پروگرام دیا۔دیر اور کوہستان والوں نے اس کو نامنظور کیا۔حکومت نے کہا ! بچے دو ہی اچھے ، دیر ،کوہستان والوں نے کہا ،بچے دس بھی اچھے۔چترال والوں نے بچے دو ہی اچھے کو سینے سے لگایا ،حکومت نے دیر کوہستان والوں کو انعام میں زیادہ سیٹوں سے نوازا ،مرشد میری بات کاٹ کرپوچھتا ہے۔ کس کی حکومت نے نوازا؟ میں کہتا ہوں ،نواز کی حکومت نے نوازا۔مرشد خاموش ہوجاتا ہے۔تو میں اس کو بتاتا ہوں دیکھو مرشد جی ! یہ قانونی معاملہ ہے۔نواز حکومت نے ساری پارٹیوں کو ساتھ ملا کر قانون کا بل پاس کرکے پارلیمنٹ کے ذریعے پی کے 90 کی سیٹ ہم سے چھین لی ہے۔کسی ایرے غیرے ،نتھو خیرے کی بائیکاٹ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اب کچھ بھی نہیں ہو گا۔ مرشد کہتا ہے۔اس کا کیا مطلب ہوا؟ میں کہتا ہوں اس کا مطلب صاف اور واضح ہے۔پی کے الوداع ،
فیض نے کیا بات کہی تھی۔
میرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کردو
وہ جو قرض رکھتے تھے جاں پر وہ حساب آج چکا دیا
مرشد سخن فہم ہے۔واہ واہ کرکے خاموش نہیں ہوتا۔ کہتا ہے ، سید جون ایلیا نے بھی ایک بات کہی تھے۔
نہیں بنیاد کی کوئی بنیاد
یہی بابا الف کا ہے ارشاد

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
50550cookie-checkپی کے 90

کالم نگار/رپورٹر : ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

چترال کی معروف شخصیت اور کالم نویس ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی جنہیں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے بلاشبہ چترال اور چترالیوں کے لیے قابل فخر اور جانا پہچانا نام ہے۔ زیل نیوز ڈاکٹر صاحب کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور زیل نیوز کے لیے کالم نویسی کو باعث فخر سمجھتا ہے۔
Share This