چیونٹی کی رفتار

بحث یہ تھی کہ چیونٹی کی رفتار کیوں بد نام ہے؟کیچوے کی رفتار کیوں بدنام نہیں؟حالانکہ چیونٹی دوڑتی ہے تو بہت تیزدوڑتی ہے۔مرشد نے اس کا جواب دیا کہ خرگوش کے مقابلے میں ایک دوڑ جیتنے کے بعد کیچوے کی رفتار بدنامی کے بادلوں سے نکل آتی تھی اس لیے اردو میں چیونٹی کی رفتارکو بے کاری ،سستی اور کمزوری کی علامت کے طور پر پیش کیاجاتاہے۔ مرشدکہتاہے اگر پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کیچوے کی رفتارسے چلتی تو وفاقی حکومت کے خرگوش کو نیند میں چھوڑ کر اپنے اعلانات پر عمل درآمد کرتی۔ اپنے منصوبوں پر کام شروع کرتی مگر ہماری صوبائی حکومت چیونٹی کی رفتار سے دانا دانا کھینچ کرلارہی ہے۔ اس لیے اس کاکوئی منصوبہ ،کوئی کام نظر نہیں آتا۔ ہم نے کہا مرشد ایسی بات نہیں صوبائی حکومت نے ریشن میں ڈیزل جنریٹر فراہم کیا ہے۔مرشد نے قہقہ لگاکر ہنسے کے بعد بولاچیونٹی کی رفتار اسی کا نام ہے۔ ریشن کا چار میگاواٹ بجلی گھر ڈھائی سالوں میں دوبارہ بحال ہونا چاہئیے تھا ۔ڈیزل جنریٹر تو اگست 2015میں ریشن کے عوام کو ملنے چاہئیے تھے ۔ہم نے کہا مرشد!تم منفی سوچ رکھتے ہو ،ہرکام کا تاریک پہلو دیکھتے ہو۔
مرشدبولاایسی بات نہیں۔ریسکیو1122 کو دیکھوحکومت نے دسمبر 2015میں چترال سمیت چار اضلاع کے لیے ریسکیو1122کا اعلان کیا۔اب دسمبر 2017آیا اس کا پتہ بھی نہیں ہے کہ یہ منصوبہ کس کھو ہ میں ڈال دیا گیاہے۔یہ ایمرجنسی سروس کی بات ہے اگر حکومت ایمرجنسی سروس مہیا کرنے میں دو سال سے زیادہ عرصہ لیتی ہے تو دوسرے کاموں کا کیا حال ہوگا۔ ہم نے مرشد !یہ باتیں چھوڑو ۔ہم نے ریسکیو 1122کے بغیر اب تک گزارہ کیا ہے۔ آئندہ بھی گزارہ کر سکتے ہیں مگر مرشد ہماری جان نہیں چھوڑتا۔مرشد کہتا ہے کہ سب ڈویژن مستوج کو اپر چترال کا الگ ضلع بنانے کے سلسلے میں مئی 2017سے باتیں ہورہی ہیں۔7نومبر 2017کو وزیراعلٰی نے پولوگراؤنڈ چترال میں اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ میں اپر چترال کو ضلع بنانے کا نوٹیفیکیشن تمہارے منہ پر دے ماروں گا۔ ہم نے اپنا منہ نوشہرہ کی طرف کردیا ہے۔ ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ گزرا حکومت نے نوٹیفیکیشن ہمارے منہ پر نہیں مارا۔ہم مرشد سے ناراض ہوتے ہیں اور کہتے ہیں تم ہر کام میں کیڑا نکالتے ہو زرا دیکھو دروش تحصیل اور تحصیل مینونسپل ایڈمینیسٹریشن کا نوٹیفیکیشن آگیا ہے۔ گرم چشمہ اور موڑکھو تورکھو کی دو تحصیلوں کا اعلان ہواہے۔ وزیراعلٰی کے دفتر سے خط جاری ہوا ہے۔ مرشد پھر نفی میں سر ہلاتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ تین نئی تحصیلوں کی انتظامیہ کو یکم دسمبر سے پہلے کام شروع کرنا چاہئیے تھا۔ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا دفتر یکم دسمبر سے پہلے بونی میں قائم ہونا چاہئیے تھا۔ منہ پر دے مارنے کا یہ مطلب ہوتاہے جنرل فضل حق،جنرل افتخار حسین شاہ،اکرم خان درانی اور امیر حیدر خان ہوتی کے احکامات پر چوبیس گھنٹوں کے اندر عمل درآمد ہوتا تھا۔ اس لیے لوگ ان کو یاد کرتے ہیں۔ “نربچئے” کہتے ہیں ہم نے کہامرشد!یہ باتیں چھوڑو اب یہ بتاؤ امتحان کی تیاری کیسی ہے؟مرشد کہتاہے امتحان سے یا د آیا وزیراعلیٰ نے 7نومبرکو ڈی سی ہاؤس چترال میں یقین دلایا تھا کہ چترال کا الگ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن قائم کیا جائیگا مگر چھ ہفتے گزرنے کے باؤجود اب وزیراعلیٰ نے چترال بورڈ کے بارے میں کاغذکاایک پرزہ اپنے دفتر سے کسی کو نہیں بھیجا۔ہم نے کہا مرشد !اپنی حد میں رہو حد سے تجاوز نہ کرو،بڑی باتیں بڑے لوگوں کو زیب دیتی ہیں ۔مرشد کہتا ہے تم دیکھو چیونٹی کی رفتار سے چلنے والی حکومت اپنے کسی بھی اعلان ،کسی بھی وعدے کو عملہ جامہ نہیں پہنا سکے گی۔شاعر کہتا ہے ؂

میراکارنامہ زندگی کچھ میری حسرتوں کے سوا نہیں
یہ کیا نہیں ،وہ ہو نہیں،یہ ملانہیں،وہ رہا نہیں

 

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
46420cookie-checkچیونٹی کی رفتار

کالم نگار/رپورٹر : ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

چترال کی معروف شخصیت اور کالم نویس ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی جنہیں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے بلاشبہ چترال اور چترالیوں کے لیے قابل فخر اور جانا پہچانا نام ہے۔ زیل نیوز ڈاکٹر صاحب کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور زیل نیوز کے لیے کالم نویسی کو باعث فخر سمجھتا ہے۔
Share This