” پرنس کریم آغاخان میرے امام”

بریگیڈئر اقبال شفیع ۱۲ سال تک آغا خان فاونڈیشن برائے چین و پاکستان کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ آپ اپنی کتاب ‘تلاش منزل’ میں پرنس کریم آغا خان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں “ایک بار آپ مجھے لے کے پینسلوینیا یونیورسٹی لے گئے اور وہاں جو کام ہو رہے تھے وہ دیکھتے رہے۔ واپسی میں مجھ سے پوچھا ان کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ میں نے عرض کی کہ کاش اس طرح کے کام اسلامی ممالک خاص طور سے پاکستان میں ہوتے تو کیا اچھا ہوتا۔ اس کے جواب میں آپ مسکرائے اور فرمایا

“We are paying for the 1000 years of neglect” Brigadier!

موجودہ دور میں آغا خان یونیورسٹی کو دیکھ کے یوں لگتا ہے جیسے یہ یونیورسٹی آپ کے تدبر اور علم دوستی کا  منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک دو واقعات جو کہ اسی کتاب میں بیان ہوئے ہیں وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ کے دل میں انسانیت خاص کر کے عالم اسلام کیلئے جو درد ہے وہ کسی بھی اسلامی لیڈر کے پاس نہیں ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ ایک بار ہز ہائنس نے کہا کہ وہ چین کے صوبہ سنکیانگ کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ پروگرام بنایا گیا۔ آپ وہاں آئے۔ لوگوں کا مجمع ایک مسجد میں تھا۔ چونکہ مسجد اہل سنت والجماعت کی تھی تو امام بھی سنی تھے۔ میں نے ہز ہائنس سے عرض کی کہ اگر آپ جمعہ کی نماز اس مسجد میں پڑھیں گے تو اچھا رہے گا اور احتیاطاً عرض کی کہ یہ مسجد اہل سنت والجماعت کی ہے تو آپ مسکرائے اور فرمایا کہ “میں یہ جانتا بھی ہوں اور سمجھتا ہوں مگر آپ امام صاحب کے پاس جا کر میری طرف سے عرض کریں کہ میں اور میرے بھائی پرنس امیں آغا خان دونوں امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔” آپ لکھتے ہیں کہ لوگوں نے آپ کا پرتپاک استقبال کیا۔ جمعہ کی نماز ہز ہائنس اور پرنس امین آغا خان نے امام کے پیچھے پڑھی۔ جمعے کے بعد آپ نے ایک مختصر تقریر کی اور اس مسجد کی مرمت کیلئے فنڈز کی پیشکش کی اور بعد میں ایک سال تک مسلسل اس کام کا جائزہ لیتے رہے ۔ آگے آپ لکھتے ہیں “واپس آتے ہوئے درہ خنجراب اور ہنزہ کے اوپر سے گزرتے ہوئے آپ نے مجھ سے پوچھا کہ چترال اور گلگت کے لوگوں کی ترقی کیلئے کیا کیا جائے؟ میں نے کہا ان کا پہلا مسٔلہ آمد و رفت ہے اس کیلئے ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہے۔ آپ نے جلد ہی دو زبردست ہیلی کاپٹروں کا بندوبست کیا۔ دوسری بات جو میں نے کی وہ یہ تھی کہ اسلام آباد یا روالپنڈی میں بیٹھ کر چترال یا گلگت کے حالات کو کوئی صحیح طریقے سے نہیں سمجھ سکتا ہے۔ لہٰذا چترال اور گلگت میں آغا خان فاونڈیشن کے مراکز قائم کیے جائیں تاکہ قریب سے مسائل کو دیکھا جائے اور ان کے حل کیلئے لائحہ عمل بنایا جائے۔” آپ لکھتے ہیں کہ میرے مشورے پر AKRSP کی بنیاد رکھی گئی اور شعیب سلطان کی سربراہی میں یہ ادارہ عوام کی خدمت میں آج بھی کوشاں ہے۔ اوپر جن باتوں کا ذکر ہو ان سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ہز ہائنس ایک وسیع النظر اور زیرک انسان ہیں جو کہ ماضی کے متعلق بھی گہرا علم رکھتے ہیں اور مستقبل کے بارے میں بھی کچھ زیادہ ہی فکر مند ہے۔ ایک اور پہلو جو کہ اہم ہے یہ ہے کہ آپ مذہب اور فرقے سے بالاتر ہوکے مسلمانوں کی خدمت اور مستقبل سنوارنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد پرنس کریم آغا خان چترال کے دورے پر آرہے ہیں۔ اس کی آمد بہت حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے۔ ایک تو آپ کی آمد سے اسماعیلی مسلمانوں کو ایک مذہبی تسکین ملے گی اور ساتھ ہی ساتھ ترقی کی  راہیں کھل جائیں گی۔ یہاں خوگر حمد سے تھوڑا سا سا گلہ بھی سن لیں کہ اسماعیلی برادری نے امام کو صرف اپنا بنا کے دوسروں کو محروم کر دیا ہے جو کہ ناانصافی بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہز ہائنس کی امامت اور عالمگیریت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
42500cookie-check” پرنس کریم آغاخان میرے امام”

کالم نگار/رپورٹر : احتشام الرحمٰن

Share This