ریٹائرڈ وی سی ڈاکٹر خان مروت سے چند سوالات

افسانوی تاریخ کے سلسلہ وار مضامین کے قارئین سے معذرت کے ساتھ ایک مضمون شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شرینگل کے ریٹائرڈ وائس چانسلر کے تاریک دور کے بارے میں لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ قارئین ان صاحب کے دورِ سیاہ کو بھی افسانوی تاریخ کا ایک دور سمجھ سکتے ہیں۔۔
وائس چانسلر ڈاکٹر خان بہادر مروت صاحب!
فیس بک میں آپ کے پوسٹس اور کمنٹس پڑھنے کے بعد آپ سے چند ایک سوالات پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ جوابات کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔۔ ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ آپ کے پاس جوابات نہیں ہونگے۔۔
سوال نمبر1: اگر بقول آپ کے ہم فیکلٹی ممبرز ہی بے مروت تھے اور غلط تھے، اور اپنا حق مانگنے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے غلط قدم اٹھایا تو کیا گورنر سیکرٹریٹ، ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے بیوروکریٹس اور ہائیکورٹ و سپریم کورٹ کے ججز بھی بےمروت اور غلط تھے جن کا ہر فیصلہ ہمارے حق میں اور آپ کے خلاف آیا؟
آپ کو یاد ہوگا آپ سارے بیوروکریٹس اور ججز سے زیادہ جاننے کے دعویٰ دار تھے۔۔
سوال نمبر 2: چلیں بقول آپ کے ریگولر ہونے کیلیے دوبارہ ایسی ہی پراسس میں آنا لازمی تھا اور ہم نے آپ کی نہ مان کر غلطی کرلی تو ہمارے ساتھی ان لیکچررز کا کیا ہوا جنہوں نے آپ کی مانی تھی اور دوبارہ پراسس میں آگئے تھے؟ کیا ان کو آپ نے دوبارہ کنٹریکٹ کا آرڈر نہیں دیا؟ دو بار سیلیکشن بورڈ سے گزار کر آپ کے سنڈیکٹ نے کس ریگولیشن کے کس شق کے مطابق ان کو دوسری بار بھی کنٹریکٹ کا آرڈر دیا، جبکہ دوسری طرف فریش لوگوں کو ریگولر آرڈر تھمایا گیا۔ کس ریگولیشن اور سروس سٹیٹیوٹس کا کونسا نیک شق کارفرما تھا یا پیر صاحب؟
سوال نمبر 3: اگر ری پراسس میں آنا ریگولرائزیشن کیلیے خواہ مخواہ لازمی تھا تو اُن چند ایک فریش امیدواروں کو ریگولر آرڈر کیوں تھمایا گیا جو پہلی ہی بار اٹمپٹ کر رہے تھے؟ کیوں؟ وہ اپنے تھے؟ کیلی وال تھے؟ مرید تھے؟ مضبوط سفارشی تھے؟ یا کوئی اور ماورالعقل معاملہ یا محرک کار فرما تھا؟
چند سوالات ایک خیالی اور افسانوی یونیورسٹی سے متعلق ہیں، ویسے ہی آپ سے پوچھ لیتا ہوں:
سوال نمبر 4: آپ نے کسی ایسی یونیورسٹی کا سنا ہے جس میں ایک ہی اشتہار اور سیرئیل نمبر کے پوسٹوں پر بھرتی کرتے ہوئے مقررہ طریقہ کار سے ایک ہی طرح سب کو گزار کر بعض کو ریگولر آرڈر دیا جاتا ہو اور بعض کو کنٹریکٹ؟ نہیں سنا ہے سر؟ افسانہ ہے نا سر، افسانوں میں کچھ بھی ہوتا ہے۔۔ بہرحال میں نےحقیقت میں ایسا سنا بھی ہے اور دیکھا بھی ہے۔۔ اگر ثبوت چاہتے ہو تو اوپر کے تمام کیسسز کے دستاویز اسکین کرکے لگا سکتا ہوں۔۔ چلیں آگے بڑھتے ہیں۔۔
سوال نمبر 5: سر آپ نے کسی یونیورسٹی کا ہائی پروفائل ڈبل پی ایچ ڈی اور صوفی صفت وائس چانسلر ایسا بھی دیکھا ہے کہ جس کے ماتحت چند ایک نوجوان ملازمین کے ساتھ چار سال سے مسلسل امتیازی سلوک برتا جا رہا ہو اور وہ اپنے حق کے حصول کی خاطر اس وی سی سے باربار التجا کرکے ناکام ہونے کے بعد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں تو وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صوفی صفت وی سی ان کے تین ماہ کی تنخواہیں روکے رکھے؟ اور وہ ملازمین تین مہینے تک بغیر تنخواہ اور بغیر احتجاج کے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے رہیں؟ بہت صابر ہونگے وہ ملازمین، نہیں سر؟ آگے بڑھتے ہیں۔۔
سوال نمبر 6: آپ نے ایسا وی سی بھی نہیں دیکھا ہوگا، جس کے ماتحت کیمپس کے پیشرو ملازمین اپنا حق مانگ کے عدالت میں سائل ہوں اور وہ ان کے کیمپس کے کوارڈینیٹر کو فون کرکے کہے کہ یہ لوگ اگر کیپمس آجائیں تو ان کو پولیس کے حوالے کرو؟ اور خود ان کے خلاف کیس میں ہائی پروفائل وکلا ہائر کرکے یونیورسٹی کا بھاری پیسہ خرچ کرکے کیس کو تعطل کا شکار بناتا پھرے؟ آپ نے ایسا کوئی وی سی نہیں دیکھا ہوگا نا سر؟ بہت بے شرم و بے مروت ہوگا وہ وی سی۔۔ ہے نا سر؟
سوال نمبر 7: سر آپ نے ایسا وائس چانسلر بھی نہیں دیکھا ہوگا کہ اس کے ماتحت ملازمین جب انصاف مانگ کر عدالت میں ہوں تو انتقامی کارروائی کرتے ہوئے وہ وی سی ان کا تبادلہ کرائے، ان کو انتظامی پوسٹوں اور ذمہ داریوں سے بے دخل کرے، اور ان سے جونئیر موسٹ کنٹریکٹ لیکچرر کو ان کےاوپر کوارڈینیٹر مقرر کرے اور اس کو کہہ دے کہ ان کو تنگ کرو تاکہ یہ مجبور ہوکر عدالت سے پسپائی اختیار کریں اور دوبارہ میرے سامنے سجدہ التجا بجا لائیں؟
اور آپ نے یہ بھی نہیں سنا ہوگا کہ وہ نا اہل کوارڈینیٹر جب اس وی سی کی ڈکٹیشن پر چلتا ہے تو اس کو اسسٹنٹ پروفیسرشپ انعام میں مل جاتا ہے؟ اس سے وہ وائس چانسلر ان سائل ملازمین کو بتانا چاہ رہا ہوگا نا کہ اگر تم میری مانو گے اور میرے جوتے پالش کرو گے تو میں ایسا بھی کر سکتا ہوں، لیکن تم نے میری انا کے سامنے سجدہ بجا نہیں لایا اور اپنا حق مانگنے کی عظیم کوتاہی کی، توچلو اب بھگتو۔۔
سوال نمبر 8: سر کیا آپ نے ایسی یونیورسٹی بھی دیکھی ہے جس میں ایک بندہ اگر ایک پوسٹ، جس کے لیے وہ اپلائی کر چکا ہوتا ہے، کیلیے سیلیکشن بورڈ سے ریکامنڈ نہیں ہو پاتا تو فوراً اس کو اسی گریڈ کے دوسرے پوسٹ کیلیے اسی سیلکشن بورڈ سے دوباره گزار کر اس کو ریگولر آرڈر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسی پوسٹ کیلیے اس نے سرے سے اپلائی ہی نہیں کیا ہوتا ہے۔۔ دلچسپ ہے نا سر؟ افسانہ ہے سر، کچھ بھی ہوتا ہے افسانوں میں۔۔
سوال نمبر آخری: سر کیا آپ نے ایسا عجیب و غریب ضمیر والا وائس چانسلر دیکھا ہے جو سنڈیکیٹ کے میٹنگوں میں کورٹ کے آرڈر کے مطابق سائل ملازمین کے ریگولرئزیشن کے ایجنڈا آئٹم پر بحث نہ کرا کے سکِپ کرائے اور کہے کہ اس حوالے سے میں خود کوٹ کے ججز کو سمجھاونگا، اور بعد میں سنڈیکیٹ میٹنگ کے منٹس بالکل بھی ٹیمپر نہ کرے، اور ہائیکورٹ میں یہ لکھ کے جمع کرے کہ سنڈیکیٹ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان سائلین اور ان جیسے دیگر لیکچررز، جو صرف چند ایک تھے، کو ریگولر کیا گیا تو یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہوگی؟
آخری سوال: اس سوال کے جواب میں ڈوب مرو سر، چترال کیمپس کے بیچارے کلاس فورز جو گزشتہ چھ سات سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں ان کو آپ نے کیوں ریگولر نہیں کیا؟ ان کا کیا قصور تھا؟ وہ بھی آپ کے خلاف کورٹ گئے ہوئے تھے؟ دو سال پہلے آپ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ٹھیک ایک مہینے بعد آپ کو ریگولر کرونگا۔۔ دو سال گزر گئے، آپ کا سایہ بھی اٹھ گیا لیکن وہ ٹھیک دو مہینے نہیں آئے۔۔ شرینگل میں ان کے بعد لیے ہوئے اکثر کلاس فورز کو آپ نے ریگولر کیا جو بیس بیس اور اٹھارہ اٹھارہ ہزار روپے لے رہے ہیں، جبکہ چترال کیمپس میں ان کے ہم کاروں کو آٹھ، دس اور بارہ ہزار کی تنخواہ ملتی ہے۔۔ آپ کو پتہ ہے سر کہ وہ دن رات ہاتھ اٹھا اٹھا کر آپ کو بددعا دے رہے ہیں۔۔ مظلوم کی آہ سے آپ کی دکھاوے کی عبادات آپ کو نہیں بچا سکیں سر۔۔ ان بیچاروں کا جو استحصال آپ نے کر لیا، اس کی تلافی کس طرح سے کرو گے پیر صاحب؟
ان سوالات کے جوبات اپنے ضمیر سے پوچھیں سر۔۔ ہم نے جب اپنے حق کیلیے آواز اٹھائی تو آپ نے ہمیں پرابلمیٹِک اور ڈِ سپیوٹڈ کے ٹائٹلز سے نوازا، جو آج تک آپ کے چیلوں اور یونیورسٹی کے امپلائز کے ذہنوں پر سوار ہیں۔۔
سر! آپ تو کوتاہی اور غلطیوں سے پاک ہیں پھر بھی ہمارے خلاف ہر چینل اور عدالت میں ہار گئے، عجیب بات ہے۔۔ جو باقی ہے وہ اللہ کی عدالت ہے، دیکھتے ہیں اس میں کیا ہوتا ہے۔۔ اب پیچھے مڑ کے صرف ایک بار ضرور سوچو!
اور قرآن کی یہ آیت ضرور یاد رکھو:
وقل جاء الحق و زهق الباطل، ان الباطل كان زهوقا..
All shames upon you!

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
31460cookie-checkریٹائرڈ وی سی ڈاکٹر خان مروت سے چند سوالات
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This