چترال کی سڑکوں کے مسئلے پر بننے والا گروپ

ایڈوکیٹ وقاص چترال کے نوجوان وکیل ہیں۔ انہوں نے ان دنوں چترال میں سڑکوں کی ناگفتہ بہ حالت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک کوشش شروع کی ہے۔ یہ ایک خالصتا ً غیر سیاسی کوشش ہے، جسے نہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل ہے اور نہ یہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف ہے۔ اس کا مقصد عوام میں سڑکوں کے مسئلے کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا اور حکومت کو اس مسئلے کے حل کی طرف راغب کرنا ہے۔

ایک سوال بجا طور پر لوگوں کے ذہنوں میں آ سکتا ہے کہ اس قسم کی کوشش کے سلسلے میں جب لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونگے تو اس پر ان کے سیاسی رجحانات کا اثر پڑے گا۔ ایسا ضرور ہوسکتا ہے۔ جب حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا تو حکمراں جماعت اسے اپنی مخالفت سمجھے گی اور اگر حکومت کی مذمت نہیں کی جائے گی تو حزب اختلاف والے اسے حکومت کی در پردہ حمایت پر محمول کریں گے۔ ان حالات میں نہایت احتیاط سے کام کرنا ہوگا۔ بلا وجہ کسی کو برا بھلا نہیں کہا جائے گا بلکہ حقائق کی بنیاد پر دلیلوں کی مدد سے بات کی جائے گی۔

دوسرا سوال جو اس سلسلے میں پیدا ہوسکتا ہے کہ اس کی طرح کی کسی تحریک آگے چل کر کیا شکل اختیار کر سکتی ہے۔ آیا یہ ایک سیاسی جماعت بنے گی یا اس کا کوئی اور ڈھانچہ بنے گا؟ اسے سیاسی جماعت تو کسی صورت بننے نہ دینا چاہیے۔ سیاسی جماعت کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے اور اس کا مطمع نظر الیکشن میں جاکر کامیاب ہونا اور حکومت میں آنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی ایک مسئلے کو لے کر اُٹھنے والی تحریک سیاسی جماعت میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ لیکن سیاسی نظام میں ایسے گروپوں کی بھی روایت موجود ہے جو کسی مخصوص مسئلے کو لے کر اُٹھتے ہیں اور صرف اسی مسئلے کے حل کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایسے گرپوں کو “پریشر گروپ” کہا جاتا ہے۔ ایسے گروپ وقتی بھی ہوتے ہیں اور مستقل بھی۔ یہ نہ تو سیاسی جماعتوں کی طرح منطم ہوتے ہیں اور نہ الیکشن لڑتے ہیں۔ اس وجہ سے سیاسی کشمکش سے یہ خود کو آزاد رکھ کر اپنی دلچسپی کے مسئلے پر  ساری توجہ اور توانائی مرکوز رکھتے ہیں۔ پریشر گروپ اپنی دلچسپی کے مسئلے کو حل کرانے کے لیے اخبار، ٹی وی، سوشل میڈیا اور جلسوں کے ذریعے آگہی پیدا کرنے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتےہیں۔ اپنے مسئلے کے حل کے لیے یہ گروپ سیاسی جماعتوں، پریس، بیوروکریسی، پارلیمنٹیرینز سے رابطے کرتےہیں۔ بوقت ضرورت یہ قانون سازوں اور پالیسی بنانے والوں پر اثر و رسوخ کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر ان کی طرف سے عدالتوں میں مقدمات بھی دائر کیے جاسکتے ہیں۔ پریشر گروپ آئین و قانون اور دلیل کی بنیاد پر بات کرتا ہے۔ اس کے طریقہ کار میں ایجی ٹیشن اور قانون شکنی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

پریشر گروپس ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جہاں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ، جو کسی ایک مسئلے کے سٹیک ہولڈر ہوں، مل بیٹھ کوشش کرتے ہیں تاکہ مسئلے کا حل نکل آئے۔ چترال میں سڑکوں کے مسئلے پر بننے والے اس گروپ کے بارے میں امید ہے کہ چترال کے لوگ سیاسی جماعتوں، مذہبی تفریق اور علاقائیت سے بالا ہوکر اس میں شمولیت اختیار کرکے مسئلے کو حل کرنے میں اپنا حصہ بٹائیں گے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
121440cookie-checkچترال کی سڑکوں کے مسئلے پر بننے والا گروپ

کالم نگار/رپورٹر : پروفیسر ممتاز حسین

Share This