چترالی ثقافت عروج و زوال کے آئینے میں (آخری قسط)

شادی بیاہ کی رسمیں: چترال میں شادی بیاہ کی رسمیں انتہائی سادہ مگر پر لطف تھیں۔ مگر اب مہنگے اور بے رونق ہوگئے ہیں۔

لڑکی کی منگنی کیلئے کسی پر کوئی خاص بوجھ نہیں تھی اس میں پسند ناپسند کی کوئی فکر نہ تھی کیونکہ پسند ناپسند کے معاملے میں اولاد کی رائے کیی زیادہ نہیں تھی والدین جسے چاہتے اپنی اولاد کے لیے پسند کرتے اولاد کو کچھ کہنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی بعص اوقات بہت نوعمر لڑکیوں کی شادیاں بڑے عمر کے لوگوں سے ہوتی تھی۔ لڑکی کے خوبصورت ہونے کا سوال نہیں ہوتا تھا۔ البتہ اس کے خاندانی پس منظر اور امور خانہ داری کے معاملے میں اس کی قابلیت کا لحاظ رکھا جاتا تھا۔ لڑکے والوں کی طرح سے والد یا قوم کا کوئی فرد یا رشتہ دار جاکر برجستہ لڑکی کے والد سے رشتہ طلب کرتا اور یہی منگنی ہوتی۔ انگوٹھی پہنانے یا عورتوں کے ہجوم کی شکل میں  آنے کا کوئی رواج ہی نہیں تھا۔ قریبی گاؤں یا خاص رشتہ داروں  کے علاوہ اگر کہیں لڑکی کی منگنی ہوتی تو لڑکے لڑکی کی نظریں ایک دوسرے پر نہیں پڑتی تھیں۔ یہاں تک کہ شادی سے پہلے سسرال والوں کی نظر لڑکی والوں پر نہیں پڑتی تھی۔ سسرال والوں کے گاؤں والوں سے بھی لڑکی بھاگ جاتی اور چھپ جاتی۔ آج کل کے منگیتروں کا صبح تا شام ٹیلیفون پر بات چیت کرنے کا کوئی تصور ہی نہ تھا ۔دلہا اور دلہن  کم از کم تین سال تک لوگوں کے سامنے کھلم کھلا بات چیت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ یہاں تک کہ پہلی اولاد کی پیدائش پر لڑکے مبارک باد کا جواب دینے میں بھی شرماتے تھے۔ لڑکی کی منگنی کے بعد لڑکے والے کوئی مال جیسے بیل یا بندوق وغیرہ لڑکی والے کے گھر بھیج دیتے تھے۔ اسے رشتے کا بندھن تصوّر کرتے تھے۔ بعد میں رخصتی کا پروگرام طے ہوتا۔ لڑکی والے بیل، بندوق، بکرے اور پکائے ہوئے ظعام لے کر لڑکی کے گھر آتے۔ لڑکی والے رخصتی کے دن انہی چیزوں کے بدلے گائے، قالین کے ساتھ بستر وغیرہ دیتے تھے ۔لڑکی کے ساتھ اس کا کوئی رشتہ دار آجاتا۔ اسے چترالی زبان میں تخمران کہتے ہیں اسے کوئی خاص چیز دی جاتی تھی مگر اس کے ساتھ عورت آنے کا کوئی بھی رواج نہیں تھا۔

گھر سے رخصتی کے وقت  گھر میں روایتی ظعام شوشپ تیار کیا جاتا۔ لڑکی گھر کے ستون شیرو ٹھون کے سامنے تین چکّر لگاتا اور ہر مرتبہ لگن میں لکڑی کے کفگیر سے شوشپ کو اگڑتا۔ دروازے پر آکر داماد اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکلتا۔

ہاں یہ بات بھول گیا ۔نکاح کی رسم بھی انتہائی سادہ تھی۔  سسرال والے آتے ہی نکاح کی رسم انجام دیتے۔ قاضی صاحبان نکاح کا خطبہ دیتے۔ دلہن کے پیچھے اس کی ماں باہر نہیں نکلتی۔ داماد واپس آکر اس کا ہاتھ چومتا اور ماں ایک برتن، گلا یا جگ وغیرہ بطور حاتم برکت کے طور پر اسے دیتی تھی،  رشتہ دار چاہے ایک ہی  گاؤں یا پڑوسی ہی کیوں نہ ہوں ایک رات دلہن کے گھر گزارنے کا رواج تھا۔ رات موسیقی کی محفل ہوتی تھی۔ صبح لڑکی کی رخصتی کے ساتھ لڑکی کے گھر کی رسم انجام کو پہنچتی۔ لڑکے کے گھر میں سارے رشتہ دار حلقہ احباب جمع ہوتے ،شادیانے بجتے ،بندوق فائر ہوتے، نشانہ بازی کا مقابلہ ہوتا۔ اسی طرح یہ رسم اپنے اختتام کو پہنچتا۔

روایتی ثقافتی اقتدار: دنیا کی تمام اقوام کے مقابلے میں چترالی قوم کی روایتی اقدار کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قوم حد درجہ پرامن، نرم گفتار، خاطرو تواضع والا اور انسان دوست قوم تھی۔ والدین بڑوں کا ادب و احترام ان کے رگ و پے میں رچ بس گئی تھی۔

والدین، بزرگ، رشتہ دار اور قابل احترام جو لوگ بھی کسی مجلس میں نمودار ہوتے سب اس کے احترام  میں کھڑے ہوتے۔

والد محترم کے اعزاز میں سارے اہل خانہ کھڑے ہوتے۔ بہو بیٹیاں اپنی ماؤں اور ساس کے اعزاز میں کھڑی  ہوتی تھی۔ بیویاں اپنے شوہروں کے اعزاز میں کھڑی  ہوتی  تھی۔ مگر آج کی تہذیب میں بیویاں اپنے شوہروں کا نام لیکر پکارتی ہیں جبکہ والدین اپنے اولاد کے نوکر بن گئے ہیں۔ قدیم ثقافت میں بچوں کو اپنے والدین سے پیار بھی بہت زیادہ تھی۔ بیٹے اپنی ماوں کے سر رکھ کر کروٹیں لینے میں لطف محسوس کرتے تھے مگر اب اس ماں کی جگہ حسن بانو نے لی ہے۔ بیٹیوں کے موبائل اور لیپ ٹاپ میں رانی کے ساتھ رنگ رنگ کے پوز میں رنگ رلیاں منائے ہوئے آپ کو ہزاروں تصویر ملیں گی۔ مگر اس ماں کے ساتھ جس کے ہونٹ اب مرجھا گئے ہیں۔ چہرے کا نکھار اجڑ کر مرونی چھا گئی ہے اس کی ایک تصویر بھی آپ کو نہیں ملے گی۔ جس نے جنوری کی طویل راتوں میں آپ کو گود میں اٹھا کر گھر کی آنگن میں چکّر لگاتی ہوئی اپنی نیند حرام کی تھیں۔ یہی حال بہو اور بیٹیوں کا بھی ہے۔ ساس اور ماں ان کے گھر کا خادم ہے۔ ہر بڑے کا احترام ہماری  تہذیب کا حصہ تھا۔ بڑے کوئی بھی ہو عمر میں بڑا، علم میں بڑا، مہارت میں بڑا، عہدے میں بڑا سب ہمارے لیے واجب الاحترام تھے۔ مگر آج آپ کو کسی بھی مجلس میں چھوٹے بڑے کا فرق نظر نہیں آئیگا۔ انسانوں کی محفل اور بکریوں کے ریوڑ میں آپ کو کچھ بھی فرق محسوس نہیں ہوگا۔

مذہبی اقدار: قدیم زمانہ جاہلیت کا تھا خرافات بے علمی کا سبب تھے۔ آنکھیں بند کئے مفروضوں پر اعتقاد اور توہم پرستی کا دور دورہ تھا۔ عبادت گزار بہت کم تھے مگر خوف خدا بہت زیادہ تھی۔ منہ میں رکھے ہوئے نوالے کو بھی صدقہ دینا لوگوں کا شعار تھا۔ ہمسائے کی خبر گیری، یتیموں پر شفقت لوگوں کا شیوہ تھا۔ مگر اب عبادت گاہوں میں حاضری بہت زیادہ ہے مگر عبادت میں خشوع نام کو بھی نہیں۔

مہمان نوازی: مہمان نوازی چترالی ثقافت کی اصل روح ہے مہمان کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا جاتا تھا۔ اپنے بچے بھوکوں مر جاتے لیکن مہمان کے لیے ہر چیز چھپا کر رکھی جاتی تھی۔ بہت زیادہ لوگ مہمانوں کے ایک وقت کے کھانے کیلئے دودھ دینے والے بکریوں کے ذبح کرنے سے دریع نہیں کرتے۔ چوزوں کو یتیم کرکے مرغیوں کو ذبح کرنے کا رواج تو عام ہی تھا۔ خود ننگے فرش پر بیٹھے مگر مہمان کے نیچے اپنا لحاف یا کمبل بچھایا جاتا۔ کھانا کھانے کے بعد تولیہ نہ ہونے  پرمائیں اپنی قمیض کے بازو کھول کر مہمان کے سامنے ہاتھ صاف کرنے کے لیے پیش کرتی تھیں۔ اس سے ہمارے خلوص کی مکمّل عکاسی ہوتی تھی۔

الغرض ہماری ثقافتی اقدار اپنی مثال آپ تھے مگر موجودہ دور میں یہ مفروضے اور کہانی بن گئے ہیں۔

مضموں کی طوالت سے بچنے کی خاطر زندگی کے تمام مشعلوں پر حاوی ہماری ثقافتی اقدار پر روشنی ڈالنا ممکن نہ ہو سکا جس کے لیے قاریئن سے معافی کا خواستگار ہوں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
73060cookie-checkچترالی ثقافت عروج و زوال کے آئینے میں (آخری قسط)

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This