شاہانہ دربدری

دنیا کے نشیب و فراز سے دوچار ہونا ہر انسان کے مقدر کا حصہ ہے ۔ گردشِ ایّام انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ہٹلر،مسولینی،شاہجہاں ،بہادر شاہ ظفر اور حال ہی کے بٹھو صاحب مرحوم کا انجام ایسے واقعات کی کڑی ہیں۔بہت سے نامور لوگ پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔افغانستان کے شاہ ظاہر شاہ ، ایران کے رضا شاہ پہلوی ،پاکستان کے پہلے صدر سکندر مرزا اور اسی طرح چترال کے بہت سے مہتراں بحیثیت پناہ گزین دوسرے ممالک میں رہے لیکن سابق ریاست چترال اور گلگت کے والیاں ریاست اور دوسرے با اثر لوگ اپنے ہی ملک کے اندر دربدری میں گزارتے تھے انہیں پناہ گزین کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی مہاجر ( اس قسم کی دربدری کے لیے کھوارمیں کوئی نام ہے یا نہیں ؟ قارئیں ہی بہتر جانتے ہونگے) وہ بالکل شاہانہ انداز میں ملک کے بڑے بڑے رشتوں یا اپنے رشتہ داروں کے ہاں جا کر مختصر اوقات کے لیے اقامت گزیں ہوجاتے ہو کر اپنی زندگی کے لمحات گزارتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ ایک خاندان سے دوسرے خاندان ،ایک گاؤں سے دوسرا گاؤں یہاں تک کہ ایک خطے سے دوسرے خطے تک ٹھکانہ بدلتے رہتے ہیں۔اس طرح وہ موسمی حالات کے مطابق اپنی پسند کے جگہوں کا انتخاب بھی کرتے تھے۔ان کے اس سفر کے دوران ان کے نوکر وغیرہ یہاں تک حلقۂ احباب بھی ساتھ ہوتے تھے وہ باز ،ہرن وغیرہ کا شکار بھی ہر جگہ جاکے کرتے ۔ان کے لیے ہر جگہ پولو ،نشانہ بازی اور رقص و سرور کی محفلیں بھی سجائی جاتی تھیں۔ اس انداز کو دیکھ کے اس زمانے کے لوگوں کی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور علاقے کے لوگوں کی غیر معمولی مہمان نوازی کی عکاسی ہوتی ہے۔مہتر میر ولی ،مہتر شیر افضل ،مشہور معروف شاعر گل اعظم گل،زیارت خان زیرک اور شیر ملک کی زندگی ایسے ہی واقعات سے عبارت ہے۔ یہی لوگ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی طرح اپنی زندگی کے ایام بسر کرتے تھے ۔اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہی لوگ زندگی کے نبض شناس ہوتے ہیں ۔
خود اپنے شب و روز گزر جائیں گے لیکن
شامل ہے مرے غم میں تری در بدری بھی

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
25430cookie-checkشاہانہ دربدری

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

2 تبصرے

  1. khalid hussain
    خود اپنے شب و روز گزر جائیں گے لیکن
    شامل ہے مرے غم میں تری در بدری بھی

    محترم میکی شیلی تاریخ او شیلی تجزیہ کوری اسوس۔۔۔۔ سلامت رہیس

  2. Laal ta ha e niwashero article bo zabardast la..hanono haya niwesho loleko lolawor tan goyan…bo maza arer.
    Thank you laal.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This