“نگاہ آنکھوں سے اوجھل ہے دلوں سے نہیں”۔۔

نگاہ صاحب سے ملاقات مقالے کی ضروریات اور معاون مواد کی فراہمی کے سلسلے میں ہوئی تھی لیکن ان سے ملنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ نگاہ صاحب صرف میری تعلیمی ضروریات پوری نہیں کی بلکہ میری ذہنی، شعری، ادبی، تاریخی اور سب سے بڑھ کر میری اخلاقی  تربیت  بھی پوری  طرح سے کرکے بھیجا۔

بہت پہلے کی بات ہے کہ میرے والد محترم نے کہیں سے ایک رسالہ گھر لایا اس رسالے کا نام “آئینہِ کھوار” تھا۔ اس وقت میں شعرو ادب کے راستے سے بہت دور بچپن کی پگڈنڈیوں کا مسافر تھا ،لیکن کبھی کبھار ابو کے ساتھ بیٹھ کر ان کی کتابیں دیکھتا تھا اس دن انہوں نے خود بلایا اور ایک نظم پڑھنے کا کہا میں یہ سوچ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے ابو میری کھوار خوانی کو دیکھنے کی غرض سے یہ سب کچھ کرتا ہے میں اٹک اٹک کر نظم کو پڑھ رہا تھا، بیچ بیچ میں غلطیوں کی تصحیح کے علاوہ وہ اس نظم سے خود بہت لطف اندوز ہورہے تھے اللہ اللہ کرکے نظم پڑھنے کے بعد وہاں سے کھسکا ۔ دوسرے دن دیکھا تو وہ خود اپنےایک دوست کو سنا رہا تھا۔ اب اگر یاد کرتا ہوں تو اس کے چہرے کا اظہار بتا رہا تھا کہ اس نظم میں مزاح کے علاوہ بہت سنجیدہ نا ہمواریوں کا ذکر بھی تھا۔ یہ نظم مولانگاہ نگاہ صاحب کی نظم “اجنبی” تھی۔  اس کے بعد مجھے  نہ پوچھنے کی توفیق ہوئی اور نہ اسے بتانے کی فرصت۔ وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے  نکلتا گیا ہم کب کالج میں پہنچ گئے پتہ ہی نہیں چلا۔ غالباً دوہزار دس میں قاقلشٹ کے ایک مشاعرے میں نگاہ صاحب کو دیکھنے اور ملنے کا موقع مل گیا۔ اس وقت نہ صرف انہوں نے نہایت ثقیل طرح میں بے حد شائستہ غزل پیش کی بلکہ قاقلشٹ کے عنوان سے ایک تاریخ ساز نظم بھی سنا کر سامعین کو محظوظ کیا۔ اس کے بعد باقاعدہ طور پر نگاہ صاحب کو پڑھنے لگا ۔

نگاہ صاحب کے  ساتھ باقاعدہ نشست کا شرف دوہزار اٹھارہ میں حاصل ہوا۔ دو بہت مختصر ملاقات میں اتنا کچھ سیکھا کہ سوچتا ہوں توحیران ہوجاتا ہوں۔ایم فل مقالے کے سلسلے میں چترال کے چند ادیبوں سے ملنے کا پلان لے کر چترال پہنچا اور جعفرحیات ذوقی صاحب مجھے نگاہ صاحب کے دربار میں لے گئے۔ رسمی سلام دُعا کے بعد جب میں نے اپنا مکمل تعارف کرایا تو نگاہ صاحب کی نگاہیں چمک کے ساتھ نم بھی ہوگئی ” تو مہ تان برارو ژاؤ بیراؤ، تہ تت سخت موش اوشوئی”  اس جملے کو کئی بار دھرایا پھر بابا کی تعریفوں کے پل باندھ دئے۔ اس کے بعد میں نے اپنے آنے کا مدعا پیش کیا تو ہنس کر کہا کہ یہ بہت آسان ہے ۔ اور جس مسٔلے کو لے کر آپ کے حضور گیا تھا بناء کسی جھنجھٹ کے مجھے زبانی بتا کر مطمئن کیا وہ باتیں اپنی طرف سے بتائیں جو میری بہت ضرورت کے ہونے کے باوجود میرے ذہن میں نہیں تھی۔ شام کا وقت تھا وہاں سے رخصت ہوتے ہی مجھے اپنی نا اہلی اور کاہلی کا احساس ہونے لگا کہ جو یکتا ہی میرے سارے معاملے کا حل تھا اس سے ملنے میں اتنی دیر لگادی اور دل ہی دل میں تہیہ کرلیا کہ ابتدائی کام نمٹانے کے بعد ضرور واپس آکر زیادہ وقت گزار کر علم اور دانائی کا سارا زخیرہ سمیٹوں گا۔ لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا کہ جب دوبارہ میں ایک طالب علم کم اور تیمادار زیادہ بن کر دربارِ نگاہ جا پہنچا اس وقت نگاہ صاحب بسترِ مرض پر دراز تھے لیکن اس حالت میں بھی جس مربوط انداز سے انہوں نے انٹرویو دیااس وقت ان  کا اطمینان قابلِ رشک تھا۔ انہوں نے نہ صرف اس حالت میں میری بہت زیادہ رہنمائی کی بلکہ اپنے فرزند مقصود کو میرے ساتھ ایک اور بہت ضروری جگہ بھیج دیا۔

دوبارہ اس سے ملاقات نہیں ہوسکی۔

نگاہ صاحب کی رحلت کی خبر طارق اللہ تبریز سے مل گئی تو یقین نہیں آیا۔ انسان کتنا خود عرض ہے اس وقت بھی میری وہ تاریخی ناکامی یاد آئیں جن کا واحد حل نگاہ صاحب تھے۔

نگاہ صاحب کو جس نے چلتا پھرتا انسائکلوپیڈیا کہا ہے وہ بالکل درست ہے۔ زندگی کا کوئی موضوع ایسا نہیں جس پر نگاہ صاحب کو عبور نہ ہو۔ اردو اور فارسی کے عالم تھے ایک مکمل مگر غیر مطبوعہ تاریخ تھے، ایک قدآور نقاد تھے، بلند پایہ شاعر تھے، ایک کہنہ مشق ادیب تھے، لکھنے میں جو کمال نگاہ صاحب کو ودیعیت کی گئی تھی شائد کوئی ایسا خوش قسمت ہوگا، مزاح ایسا کرتے تھے جس میں پھڑکپن نہیں بلکہ ایک شعور ملتا تھا جو بھی برا لگتا علی الاعلان کہہ دیتے تھے ان کی شاعری میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی خامی نظر نہیں آتی، ان کی باتیں اتنی بھاری تھی کہ ہم جیسے کم علم لوگ مرجاتے اٹھا نہیں پاتے۔ جس موضوع پر بھی لکھا حق ادا کردیا جس چیز کوخود محسوس کیا قاری کو بھی محسوس کرایا۔ ہمیں سب کچھ دے کر چلا گیا،  ہماری ایک بدقسمتی یہ بھی ہے جو جوکام کے لوگ ہوتے ہیں وہ بہت کم ہمارے درمیان زندہ رہتے ہیں۔ نگاہ صاحب کے فن پر کچھ لکھنے کی مجھ میں نہ حیثیت ہے اور علم اس لیے اس سے دامن بچانے میں ہی میری بھلائی ہے۔لیکن نگاہ جیسے قدآور لوگ مرتے نہیں امرہوجاتے ہیں۔ آج نگاہ امر ہوگیا۔ اللہ اس کے درجات بلند فرمائے (آمین)

جاتے ہوائے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

Zeal Policy

 

Zeal Mobile Reporter
Share This