Supreme Court Dam Initiative

خوشبو کا مسافر

جب بھی ان سے ملتا یا فون پہ بات ہوتی میں شروع ہی میں یہ کہتا ” اے سر نُما پاچورا” اور وہ فوراً سمجھ جاتے کہ میرا اشارہ اس کے ان خیالی پلاؤ کی طرف ہے جو کہیں پہ بیٹھ کر وہ طریقہ بناتے اور ہم پکاتے لیکن کھانے کی نوبت نہ آتی۔ کھبی کسی سرسبز میدان میں مشاعرے کا، کھبی کہیں گھومنے کا، کھبی کسی بڑے رسٹورنٹ میں کھانے کا۔ نجانے ان کے ذہن میں یہ کب سے آتے کیسے آتے بہت مزے مزے کے پلان ہوتے تھے۔ اس کے جواب میں اپنے اس دلکش انداز میں مسکراتے جس کے لیے وہ مشہور تھے۔ اور کہہ

دیتے ” اے ڈا اوا ای انوس تہ ھمی تمام گلان دودیری کوم ” میں بھی ہنس کر کہتا کہ سر یہ موقع نہیں آئے گا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ کب سے اسپِ اجل کے دوش پہ سوار ہے اور میرے ان شکوں کا صلہ آنسو سے دے رہا ہے، مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ ہمارے لیے جینے کی کوئی امید نہیں چھوڑنے والا ہے، مجھے کیا معلوم تھا کہ اس بار جو پلان وہ بنایا ہوا ہے اس میں ہم شریک نہیں، مجھے کیا معلوم تھا کہ گلے شکوے دور کرنے کی جو بات اب کر رہا ہے وہ پوری کرکے دیکھا رہا ہے۔

خالد ہمارے ذہن کا وہ انمٹ نقش ہے کہ نہ وہ خود اتر جائے گا اور نہ ہم اتارنے کی کوشش کریں گے ان سے وابستہ تمام یادیں اگر نہ ہوتیں تو ممکن تھا ایک جوان جان کے لیے کچھ آنسو گرتے، تصویر محو ہوتی اور خیال مدہم ہوتا ہوتا ختم ہوجاتا لیکن خالد کے ساتھ ہماری سانس سانس جڑی ہے ۔ کہتے ہیں زندگی کے اس منچ پہ ہر ایک رول کے لیے ایک کردار ہے جسے زندگی کی سکرین پہ نمودار ہونا ہے اپنا کردار ادا کرنا ہے اور چلنا ہے یہ میں سوچتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ خالد اس کائنات کا وہ ادا کار تھا

جو ہر رول کے ساتھ بالکل مکمل لگتا تھا اگر یہ بات تھی تو خالد کو بہت پہلے جانا چاہییے تھا کیونکہ اس نے کئی کردار بے حد ہی کم عمری میں ادا کیا تھا۔ خواہ وہ بیٹے کا کردار ہو یا بھائی کا۔ـ وہ دوست کا کردار ہو یا یار کا، وہ ایک افیسر کا کردار ہو یا شہری کا، وہ ایک شاعر کا کردار ہو یا کھلاڑی کا۔ وہ کونسا ایسا کردار تھا جس کی اداکاری خالد کو نہیں آتی تھی؟ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جس کردار کو بھی نبھایا

اس کا حق پورا کیا، جہاں بھی گیا لوگوں کے دل جیت لیے، جس مقام پر بھی رہا اس کے ساتھ انصاف کیا۔ یہ بھی سچ ہے کہ دنیا اچھے لوگوں کے لیے نہیں ہے اس لیے خالد کو بھی ان بے کردار لوگوں میں مزید زندہ رہنا گوارا نہ ہوا، خالد مرا نہیں ہے وہ زندہ ہے ہر آنکھ میں ، ہر دل میں ـ وہ ایک مسافر تھا آیا ، دیکھا، جانچا، پرکھا اور چلا گیا وہ مسافر۔۔ اس کا سفر خوشبو کا تھا جو کھبی نہیں بھولتا، مہکتا رہے گا، جب جب اخلاص، شرافت، اخلاق، عجز، انکساری اور ملنساری کا باب کھلے گا خالد سے شروع ہوگا۔ جب جب دنیا کی بے ثباتی کا ذکر آئے  گا خالد پہ ختم ہوگا۔

Zeal Mobile Reporter
Share This