فیصلے اور مطالب

قصہ یوں ہے کہ ایک بہت ہی کامیاب جوڑے سے کسی نے ان کی کامیاب ازدواجی زندگی کا راز پوچھا تو شوہر کہنے لگا کہ یہ سادہ سا فارمولہ ہے، ہم نے اپنے گھر کے فیصلوں کو دو حصوں میں تقسیم کیے ہیں “بڑے فیصلے” اور ” چھوٹے فیصلے” چونکہ میں مرد ہوں اس لیے میرا کام بڑے بڑے فیصلے کرنا ہے اور ان فیصلوں پر مجال ہے میری بیوی کوئی مطالبہ کرے اور چونکہ وہ عورت ہے اس لیے چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے کا حق ان کو دیا ہے جس طرح وہ میرے فیصلوں پر کوئی مطالبہ نہیں کرتی بالکل اس طرح ان کے فیصلوں کو میں قبول کر لیتا ہوں اور میں نہ مزاحمت کرتا نہ مطالبہ بس زندگی خوش خرم گزر رہی ہے۔ پوچھنے والے نے کہا کہ وہ فیصلے کیا ہوتے ہیں؟ جواب ملا کہ چھوٹے فیصلے یعنی گھر میں کیا لانا ہے، بچوں کو کونسے سکول بھیجنا ہے، میری تنخواہ کہاں استعمال کرنا ہے، کیا خریدنا ہے کیا نہیں خریدنا، کہاں جانا ہے ، کس رشتہ دار سے ملنا ہے وغیرہ یہ تمام چھوٹے فیصلے میری بیوی کرتی ہے اور میں اس کے معاملات میں دخل اندازی کرتا ہوں نہ ان معاملات میں ان سے کوئی اور مطالبہ کر سکتا ہوں۔ سائل نے پھر پوچھا کہ بڑے فیصلے کیا ہوتے ہیں جو آپ کی ذمہ داری ہیں؟ کہنے لگا کہ بڑے تمام فیصلے جیسا کہ امریکہ کو کس ملک پر پابندی لگانا ہے؟ پاکستان کا اگلا وزیر اعظم کسے بننا ہے؟ پاکستان کا پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کیسے بنانا ہے؟ الیکشن کب ہونا ہے؟ آرمی چیف کسے بننا ہے وغیرہ۔ یہ تمام بڑے فیصلے میں کرتا ہوں اور مجال ہے میری بیوی کو میرے فیصلوں پر اعتراض ہو اور وہ کچھ مطالبہ کرے۔ اس واقعے کی نسبت سے اگر دیکھا جائے ہمارے چترال کے سیاستدان شوہر کا کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ وہ بڑے بڑے فیصلوں میں مصروف ہیں کہ ایران کو رہداری میں شامل کرنا ہے کہ نہیں ؟ گیس پلانٹ کہاں لگانا ہے؟ سی پیک کے روٹ کہاں سے گزارنا ہے ؟ عمران خان کو بری کرنا ہے کہ نہیں وغیرہ۔ مجال ہے ہم عوام ان فیصلوں پر اعتراض کریں اور کچھ اور مطالبہ کریں۔ رہی بات چھوٹے چھوٹے فیصلوں کی، چھوٹے فیصلے یعنی گولین گول سے بجلی کیسے حاصل کریں، سڑک کیسے بنوائیں، ہسپتال، معیارتعلیم، ٹمبر مافیا، منشیات کی روک تھام، کرایوں میں اضافہ، گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی، پل، انفراسٹکچر کا نظام، پینے کا پانی، آبپاشی وغیرہ یہ بہت چھوٹے چھوٹے فیصلے ہیں ان فیصلوں کے لیے چترالی عوام مذکورہ قصے والی کسی بیوی جیسی لیڈر کا منتظر ہے جو پہلے ان چھوٹے فیصلوں کے لیے غور کریں۔ رہی بات عوام کی ہم کب کے سوچکے ہیں۔ اٹھنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور دنیا میں چترال وہ واحد خطہ ہے جس میں فیصلے اور مطالبے صرف چند لائکس اور کمنٹس تک محدود ہیں ہمارا مطالبہ مطالبہ ہی رہتا ہے۔

Zeal Mobile Reporter
Share This