لمحہ فکریہ

ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں اندھے کو آنکھوں سے زیادہ کانیں عزیز ہیں اور اشرف ہونے کے لیے صرف زبان کا ہونا کافی ہے، باقی اوصاف اور معیار کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہر کردار اپنا حصہ چھوڑ چکا ہے ہر کہانی کے لیے سنسنی کا ہونا ضروری ہے خواہ اس کا حقیقت کے ساتھ تعلق ہو یا نہ ہو۔ وجہ یہ ہے کہ شاعری پر وہ لوگ بحث کر رہے ہیں جن کی پوری زندگی میں بھی ایک مصرع تک نہیں بن پاتا یا جو یہ جاننے سے بھی قاصر ہیں کہ الفاظ کے داؤ پیچ کیا ہوتے ہیں اور جملوں کی بناوٹ کیسی ہوتی ہے۔وہ لوگ سیاست کر رہے ہیں جن کو سیاست کی الف ب بھی نہیں معلوم،یہ لوگ معاشرے کی ناہمواریوں کا نہ ادراک رکھتے ہیں اور نہ ہی فہم وفراست سے ان کا کوئی تعلق ہے۔وہ لوگ اخلاقیات کا درس دیتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک بھی اخلاقی کام نہ کیا ہوتا ہے، وہ لوگ اسلام کا کے ٹھیکدار بنے ہوئے ہیں جن کو بمشکل کلمہ طیبہ بغیر مفہوم کے یاد ہو۔ اسلامی تاریخ اور اقدار کے ساتھ ساتھ ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ عالم چپ ہے، جاہل بول رہا ہے، محتسب کا احتساب مجرم کر رہا ہے۔ ہمارے ہاں شعراء ،ادباء، علماء اور فقہا کی اگرچہ کمی نہیں لیکن یہ باشعور لوگ نہ جانے کیوں پردے کے پیچھے رہ کر سٹیج میں سجنے والے مداری کاتماشا دیکھتے ہیں۔وجہ جو بھی ہو ایک انسانی معاشرے کو چند سڑک چھاپوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا کسی مفہوم میں بھی درست نہیں ، انسانوں کا معاشرہ ایسا ہوتا ہے کہ جہاں درندگی کا سکّہ نہیں چلے گا، اس معاشرے میں مذہب کی آڑ میں سیاست یا مذہب کے نام پر سیاست کسی کو قابل قبول نہیں۔ اس معاشرے کے تمام فیصلے سماجی صفحات کی بجائے حقیقی بنیاد پر ہوں گے یہاں صرف ظاہر کو دیکھ کر حتمی فیصلہ نہیں سنایا جائے گا ،لیکن ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ اْس معاشرے کے بالکل الٹ ہے۔وجہ یہ کہ معاشرہ منافق ہے اور منافق معاشرے میں اندھے دیکھ سکتے ہیں ،بہرے سن سکتے ہیں، لنگڑے چل سکتے ہیں اور گونگے بول سکتے ہیں۔ منٹو کیا خوب کہہ گئے ہیں “میں ایسی دنیا پر، ایسے مہذب ملک پر ، ایسے مہذب سماج پر ہزار لعنت بھیجتا ہوں جہاں یہ اصول مروج ہو کہ مرنے کے بعد ہر شخص لانڈری میں بھیج دیا جائے جہاں سے وہ دْھل کر آئے اور رحمۃاللہ علیہ کی کھونٹی پر لٹکا دیا جائے۔

Zeal Mobile Reporter
Share This