“ہم بھی بہت عجیب ہیں”

گزشتہ روز لواری ٹنل میں مسافروں کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک کو لے کر ہمارے ناقدین، مبصرین، دانشور حضرات، کالم نویس، طلبہ عرض چترال سے تعلق رکھنے اور نہ رکھنے والے سب نےخوب آنسو بہائے۔ حقائق کو مسخ  کرکے کسی کو اس مسٔلے  کی جڑتک رسائی حاصل ہوئی اور نہ ہی آنکھوں دیکھا حال  ناظرین اور قارئیں تک پہنچ پایا۔ مناظر، مظالم اور واقعات کے مابین کچھ بھی مشترک نہیں تھا۔ ایک طبقہ فوج کو زندہ باد کہہ رہا تھا تو دوسرا طبقہ فوج کو  موردالزام  ٹھہرا رہا تھا، ایک گروہ وفاقی حکومت کو گالیوں سے نواز رہا تھا تو دوسرا صوبائی حکومت کے پوسٹ مارٹم میں لگا ہوا تھا، ایک ٹولہ ضلعی حکومت کو کھینچ کر اس اکھاڑے میں لا رہا تھا تو دوسرا شرافت کی چادر سے ضلعی حکومت کو ڈھانپنے میں لگا ہوا تھا یعنی کہ جس سے جتنا ہوسکا اتنا ہی کمال کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو محفوظ اور دوسروں کو نشانہ بنائے رکھا  تھااور ساتھ ساتھ سب کی زبان پر محب الوطنی کے نعرے  بھی تھے لیکن سارے واقعات اور بیانات کو دیکھنے کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ سارے اپنی پارٹی سے وفاداری کا عہد نبھا رہے تھے ۔

یہی ہمارے ساتھ  کب سے ہوتا آرہا ہے کہ کوئی بھی سانحہ یا واقعہ ہوجائے تو الزامات کی ایسی بوچھاڑ کردیتے ہیں کہ درمیان میں واقعہ محو ہوجاتا ہے اور اس طرح ایک مشترکہ واقعہ گروہوں میں تقسیم ہوجاتا ہے حتیٰ کہ سوشل میڈیا میں کوئی تبصرہ آجائے تو اس میں بھی سیاسی غنڈے اور اس کے چمچے کمر کس کر میدان میں اترجاتے ہیں اور حقائق کو پردے کے پیچھے دکھیل کر عوام کو پالنے میں تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم بھی دعووں اور وعدوں  کےزیر سایہ سو جاتے ہیں۔۔ حالیہ واقعہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا ایسے کئی واقعات آئے اور چلے گئے۔ پس پردہ سیاسی چمچے ایک دوسرے کو آنکھ مارتے رہے اور روبرو مگر مچھ کے آنسو بہا کر عوام کے ساتھ برابر کے شریک  نظر آئے۔

حالیہ واقعے سے کئی سوالات پیداہوئے اور جواب نہ پاکر کہیں  روپوش ہوگئے ۔ہمارے سیاسی عمائدیں نہ صرف منظر سےغائب رہے بلکہ اپنے کاسہ لیسوں کو پانے دفاع پہ لگا دیا۔ یہی چلا آرہا ہے کہ جب کوئی حادثہ رونما ہو جاتا ہے  توکچھ دیر کے لیے سب چترالی بن جاتے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد ہی جو فضاء پیدا ہوجاتی ہے تو اس وقت کوئی ٹائیگر ،کوئی جیالا، کوئی حامی، کوئی رکن ،کوئی ورکر اور کوئی خادم بن جاتا ہے۔ باقی واقعات کو چھوڑ کر اس واقعے کو ہی  دیکھا جائے تو اس میں ڈی سی، ایم این اے، ایم پی اے، ضلع ناظم، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت الغرض تمام کے خلاف  توآواز اُٹھی  مگر  ڈرایئور حضرات، اڈا مالکان، بے ہنگم اوور ٹیکنگ وغیرہ کے خلاف کوئی آواز نہیں وجہ یہ کہ اول الذکر جتنے بھی ہیں ان کے مخالفین موجود ہیں اور  مؤخرالذکر جتنے ہیں ان کے مخالفین کوئی نہیں۔ حالانکہ اس میں سب سے زیادہ ذمہ دار اڈہ مالکان اور ڈرایئور حضرات تھے مگر اپنی یہ شان رہی ہے ہمیشہ بعد میں روتے ہیں جب خراب پی ائی اے بمشکل پہنج جائے تو کوئی آواز نہیں جب حادثہ ہوتا ہے تب جتنے منہ اتنی باتیں۔۔ جب مسافروں سے بھری گاڑی  رات کی تاریکی میں ڈرایئور اونگھ اونگھ کر چترال پہنچائے توکوئی آواز نہیں اور جب حادثہ پیش آئے تب اڈا مالکان کے خلاف کاروائی کی دھمکی ۔جب خطرناک  اؤر ٹیکنگ کے باوجود کوئی واقعہ پیش نہ آئے تو سانپ سونگھ جاتا ہے جب گاڑی پھنس جائے اور تکالیف انتہا کو پہنچے تبھی باتیں۔ ایسا کیوں؟ دوسروں پر کیچڑ اچھالنا نہایت آسان خود کو صاف کرنا مشکل ہے۔ جون ایلیا سے معذرت کے ساتھ

ہم بھی بہت عجیب ہیں اتنے عجیب ہیں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں

Zeal Mobile Reporter

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This