عمران خان کو احساس ہے ۔کیا ہم چترالیوں کو بھی ہے؟

تحفظ ماحولیات اسلام کا ایک اہم پہلو ہےاور زمین کے محافظ ہونے کے ناطے فغال انداز میں ماحول کی دیکھ بھال انسان کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمام مخلوقات، چاہے وہ ظاہری آنکھ سے نہ نظر آنے والا بیکٹیریا ہو یا دیوہیکل ہاتھی، آسمان میں پرواز کرنے والا باز ہو یا پھر کو ئی پودا قدرت کی ہر ایک تخلیق کے پیچھے ایک خاص مقصد ہے۔ قدرت کی ہر ایک تخلیق انسان کو دعوت فکر دیتی ہے ا ور قرآن حکیم میں بارہا اس مقصد کو سمجھنے کی کوشش پر زور دیا گیا ہےاورجن قوموں نے تحقیق کو اپنا شعار بنایا انہوں نے نہ صرف اپنے لیے نام کمایا بلکہ دنیااور بنی نوع انسان کوبھی بہت کچھ دے گئے۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ ان لوگوں نے انسان کو اس کا اصل مقام یاددلایا۔ ان قوموں اور لوگوں میں شامل ، البیرونی، ابن الہیثم اور موسی الخٰوارزمی کی صورت میں یقیناًمسلمان بھی شامل ہیں۔تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحقیق میں مسلمانوں کا حصہ گزشتہ ۹۰۰ سالوں سے نہ ہونے کے برابر ہے۔اور یہ کوئی حیران کن بات بھی نہیں کیونکہ ہم نے قدرت کی سب سے عظیم تخلیق یعنی انسانی عقل کو بریف کیس میں بند کرکے کسی سویس بنک کے انتہائی محفوظ لاکر میں رکھوادیا ہے اور پاکستانی امراء کی مانند ہمیں پتاتک نہیں کہ اس دولت کو کب اور کس کے استعمال میں لانا ہے۔ ذرا غور کریں ہمارے اجتماعی رویے پر کہ ہاتھ میں سمارٹ فون، استعمال میں جدید ترین گاڑی، گھر میں ٹیکنالوجی کی ایک ایک سہولت مگر ذہن میں انہیں سہولیات کے حلال وحرام ہونے کے بارے میں عجیب و غریب وسوسے۔ٹیکنالوجی کا ہر ایک آلہ جو ہمارے استعمال میں ہے ہمارے لیے اہم ہے اور اس سے وابستہ ایک ایک اپلیکیشن سے ہم آشنا بھی ہیں اور مطمئن بھی۔ مگر اسی ٹیکنالوجی کے استعمال سے کوئی یہ ثابت کرنا چاہے کہ ہماری دنیا کو درپیش مسائل میں سے بیشتر ایسے ہیں جن کا ذمہ دار خود انسان ہے تو ہمارا رویہ ہی بدل جاتا ہے۔فوراً سے پیشتر کفرکا شایبہ ہونے لگتا ہے ،مغرب کی یلغار نظر آنا شروع ہو جاتا ہے اور ہر آلہ شیطانی آلہ بن جاتا ہے۔ ذرا سوچیے کہ جب ۲۰۱۵ کے سیلاب کے ا سباب کے حوالے سے کیے گیے ایک تحقیق کا ذکر ہوا تو ایک دوست اپنا فرض عین سمجھ کر ایک بین لاقوامی تحقیق کو یکسر مسترد کرکے فرمانے لگے کہ جناب یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں۔واقعی ایسا ہی تھا کیونکہ کئی سائنسدانوں کی چار عشروں کی مسلسل محنت پر محیط اس تحقیق سے بھی یہی ثابت ہورہا تھا کہ یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے یعنی انسان نے “مال مفت، دل بے رحم” کے مصداق اس دنیا کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔اگر کہا جائے کہ انسان نے اس زمین کو چیر پھاڑ کر کھایا ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ کیونکہ ایک اندازے کے مطابق موجودہ حالات میں ، دنیا کی موجودہ آبادی کے حساب سے وسائل کی اتنی کمی ہے کہ ہماری دنیا جیسی تین اور دنیاؤں کے وسائل درکار ہیں تاکہ ہماری ضروریات پوری ہو۔ وہ سائنسدان جو اس زمین کابغور جائزہ لیتے آ رہے ہیں،کے پاس یقینی شواہد ہیں کہ زمین کا اوسط درجہ حرارت بڑھ چکا ہے اور یہ کہ ہماری زمین دن بہ دن گرم ہو رہی ہے۔اور اس کا سب سے بڑا سبب انسانی سرگرمیاں ہیں، خصوصا نامیاتی ایندھن کا جلانااور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے گرین ہاؤس گیسزجو موسمیاتی تبدیلی کا سبب بن رہی ہیں اور تیزی سے گھٹتے گلیشیرز،مسلسل بڑھتا ہوا سمندر کی سطح،ہیٹ ویو ، قحط ، نئی بیماریاں، غیر معمو لی بارشیں اورسیلاب، معاشی مسائل ، پانی کی کمی کے سبب جنگوں کا خدشہ اورہیٹ ویو کے نتیجے میں جانوروں اور انسانوں کی غیر معمولی اموات، حتیٰ کہ زلزلے اور سونامی، اس ماحولیاتی تبدیلی کے خوفناک ترین چیلنجز میں شامل ہیں اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے گلیشرز کے ذخائر بھی گزشتہ چار دہاییوں میں ریکارڈ تیزی سے گھٹے ہیں۔ ہمالیہ ، ہندوکش اور کراکورم کے پہاڑوں میں سیٹیلایٹ تصاویر میں واضح طور پر دیکھاجاسکتاہے کہ ہر سال نئی جھیل بن رہیں ہیں اور گلیشیرز کی سطح گھٹ رہی ہے۔ خاص کر اس حقیقت کو سامنے رکھ کر سوچا جائےکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کی مضر اثرات کا شکار ملکوں میں ساتویں نمبر پر ہے تو یہ امر اور اہم ہوجاتاہے۔ خصوصاًپہاڑی علاقوں کی بات کرے تو شاید گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ نقصان چترال اور گلگت کو ہورہاہے جس کی ایک نہیں کئی ساری جھلکیاں ہم گزشتہ بارہ سالوں میں دیکھ چکے ہیں۔ انسانوں اور زمین کے درمیان تعلق انتہائی اہم اور انتہائی پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔جہاں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں وہیں یہ سول سوسائٹی، مذہبی حلقوں اور میڈیا کا بھی اولین فرض ہے کہ اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔ یہ دنیا ایک امانت کے طور پر ہمیں ملی ہے اور یہ امانت اللہ رب لعزت کی طرف سے ہے۔یہ امانت اگر بہتر نہیں تو اسی صورت میں آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش کرنا ہماری ذمے داری ہے۔کئی پرندے ، جانور اور پودے ایسے ہیں جو صرف انسان کی بے حسی کے بھینٹ چڑھ کراپنی نسل مکمل طور پر کھوچکے ہیں۔اور کئی ایسی ہیں جواپنی پوری نسل عنقریب کھونےوالی ہیں۔ ان مخلوقات کو بچانے اور ماحول کو بہتر کرنے کے حوالے سے ہم میں سے ہر ایک چاہے کوئی بچی یا بچہ ہی کیوں نہ ہو اپنا حصہ ڈال سکتا ہے ۔ خصوصاچترال کی بات کی جائے تویہ ایک حقیقت ہے کہ چترال میں زندگی کا دار و مدار سو فی صد گلیشرز کے پانی پر ہے۔اس لیے اگر چترال میں قدرتی حیات اور انسانی زندگی کو محفوظ بنانا ہے تو ان گلیشرز کو محفوظ بنانا ہوگا۔ورنہ ان گلیشرز کے پھٹنے سے ہونے والی انسانی جانوں اور املاک کی تباہی ایک طرف، خدشہ ہے کہ چترال نامی اس خوبصورت علاقے اور ان پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے لوگوں اور ان کی منفرد رسم و رواج کا صرف نام ہی زندہ رہے۔کیونکہ ایک اندازے کے مطابق اگر گلیشیرز کے پگھلنے کا رفتار یہی رہا تو شاید اگلے ۳۵ سالوں میں چترال میں کوئی گلیشیر نہیں بچے گا۔ان گلیشیرز کو بچانے کیلے سب سے پہلے چترال سے بھیڑ بکریاں پالنے کا رواج مکمل طور پر ختم کرنا ہو گا۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کا کردار سب سے بڑھ کراہم ہے۔ سخت قانونی کار روائی سے گجر کمیونٹی کو مکمل طور پر روکا جائے تو عام لوگوں کے لیے ممکن ہی نہیں رہے گا۔دوسری اور انتہائی اہم بات جنگلات کی تحفظ کے حوالے سے ہے ۔پودا لگانے کو ۱۴۰۰ سال پہلے ہمارے نبی حضرت محمدﷺ نے صدقہ جاریہ قرار دیا ہے تو یہ ہم پر فرض ہے کہ کم از کم اس عمل کو تندہی سے آگے بڑھائے۔تیسرا کام ماحول کے متعلق عوام ،خاص کر بچیوں اور بچوں کی ذہن سازی کے حوالے سے ہے اور اس سلسلے میں سب سے اہم کرداراساتذہ، علماء اور سول سوسایٹی ادا کر سکتی ہے۔ایک اور اہم کام جو ہوسکتا ہے محض ہماری خواہش ہو یہ ہے کہ انتظامیہ چترال کے اندر شاپنگ بیگ کے استعمال پرپابندی عائد کرے۔ماحول کی بہتری کے حوالے سے ہماری دیگر خواہشات میں بڑھتی آبادی پر کنٹرول،چترال میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر کنٹرول، گھروں کی تعمیر میں ٹن شیٹ کا استعمال ترک کرکے ماحول دوست طریقے اپنانااور ماحولیاتی مضامین کو نصاب کا مستقل حصہ بنانا شامل ہیں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
81270cookie-checkعمران خان کو احساس ہے ۔کیا ہم چترالیوں کو بھی ہے؟

کالم نگار/رپورٹر : احمد حسن

Share This