سوشل میڈیا ۔ذرا سا بریک لگانا پڑے گا!

ایسی ویب سایٹس اور اپلیکیشنز جن کی وساطت سے لوگ دوسروں سے رابطے میں رہتے ہیں, اپنی مصروفیات اور پسند نا پسند کے بارے میں دوسروں کو آگاہ رکھتے ہیں یا سماجی نیٹ ورکنگ میں شریک ہوتے ہیں، سوشل میڈیا کہلاتا ہے۔ایک ریسر چ کے نتیجے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ایک عام انسان آجکل سونے سے زیادہ فون اور انٹر نیٹ پہ وقت صرف کرتا ہے۔ سوشل میڈیالوگوں کی زندگی کا اہم ترین حصہ بن گیا ہے اورایک کثیر تعداد بغیر سوچے سمجھے اس کابڑھ چڑھ کر استعمال کیے جارہا ہے۔ ایک نوجوان 27 گھنٹے ایک ہفتے میں سماجی نیٹ ورکنک کی ویب سایٹس پر گزارتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک سوسایٹی کے طور پر ہم فیس بک دوستوں کے بارے میں اپنے آس پاس رہنے والے انسانوں کے مقابلے میں زیادہ فکرمند ہیں؟ اورسوشل میڈیا کا اس قدربے جا استعمال معاشرے کو کہاں لے کر جاےٗ گا؟
سماجی رابطے کے ویب سایٹس اور اپلیکیشنز کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تاہم ان کے بے جااستعمال کا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، انسٹاگرام، پنٹرسٹ، ٹمبلر، لنکڈان، گوگل پلس، اسکائپ، موبایٗل گیمیں، بلاگز، گیموں کی ویب سایٗٹس اور سینکڑوں نت نئےاپلیکیشنزسے لوگ جتنے محظوظ ہوتے ہیں اورجتنے مثبت طریقے سے ان کا استعمال کر پاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ان اپلیکیشنزکی وجہ سے مشکلات کا شکار بھی رہتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سایٹس یا عام طور پر انٹرنیٹ کے استعمال سے متعلق صحیح فیصلہ کرنے کے لیےضروری ہے کہ ہم اس حوالے سے تحقیق کرے، پڑھے اور اس کے بعد ہی کسی ویب سایٹ یا اپلیکیشن کو استعمال کرنا شروع کریں۔ مجھے پہلی بار اس بات کا احساس تب ہواتھا جب میں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کا نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں سے کی گئ وہ خصوصی خطاب سنا جس میں سوشل میڈیا، خصوصاٌ فیس بک استعمال کرنے کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کا تذکرہ تھا۔اس کے بعد کافی ساری کہانیاں، حادثات اور ذاتی تجربات سے یہ بات اور واضح ہوگیا کہ واقعی اس حوالے سے ریسرچ اور احتیاط بہت ضروری ہے۔ فیس بک جب نیا نیا متعارف ہوا تھا تو ایک مطالعے کے مطابق، برطانیہ میں لگ بھگ چالیس فیصد طلاق کے واقعات کا سبب بنا تھا۔
یہ تو ہو نہیں سکتا کہ نسل نو پہ سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے یہ حکومت کے لیے ممکن ہی نہیں، نہ ماں باپ کے بس کی بات ہے کیونکہ انٹرنیٹ اور سماجی رابطے کے ویب سایٹس اب یارخون لشٹ جیسے دور افتادہ اور ارندو جیسے پسماندہ علاقے میں بھی گھر گھر تک پہنچ چکے ہیں ۔ یہ نہ صرف وقت کی ضرورت بن چکی ہیں بلکہ ان کی لا انتہا افادیت بھی ہے۔سوشل میڈیا کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ پڑھنے والے اور پڑھانے والے اس کے ذریعے ہر لمحہ رابطے میں رہ سکتے ہیں اور اس طرح سوشل میڈیا تعلیم کی ترسیل میں بہترین معاون ثابت ہورہی ہے۔اس کے علاوہ طلبہ کو انٹرنیٹ پر موجود مفت لائیبریری اور دیگر موادتک آسان رسائی حاصل ہے جو پڑھائی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ریسرچ سے یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے طلبہ کے نتائج بہتر آتے ہیں اور ان کی غیر حاضریاں کم ہوتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 60 فیصد طلبہ پڑھائی سے متعلق بات چیت کے لیے سماجی رابطے کے ذرائع استعمال کرتے ہیں۔میں نے ذاتی طورپر ایک ویب سایٹ کا استعمال کیا ہے جس میں پوری کلاس شامل ہوسکتی ہے۔یہاں اسائممٹس دی جاتی ہیں، سب اپنے مسائل ڈسکس کر سکتے ہیں اور کلاس کا کوئی بھی ممبر یا ٹیچر اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے۔ نیز ہر طالب علم کا رزلٹ اور پروگریس وقت کے ساتھ ساتھ اس ویب سائیڈ پر اپڈیٹ ہوتا رہتا ہے۔آج کل بہت سارے قومی اور بین الاقوامی اسکالرشپس بھی انٹرنیٹ کی بدولت نوجوانوں کی پہنچ میں ہیں۔
تعلیم کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔جس طرح گزشتہ سال ترکی میں ہم نے دیکھاسوشل میڈیا نے سیاسی تبدیلی کو ہوا دی۔یہ بات ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے عوام کے ووٹنگ میں حصہ لینے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔آج کل عوام کی اچھی خاصی تعداد میں خبریں بھی آن لائن  ملتی ہے اور آن لائن معلومات دوسرے ذرایع کے مقابلے میں کہیں تیزی سے پھیلتی ہیں۔سوشل میڈیا محققین کو بھی اچھی خاصی معلومات تک رسائی دیتی ہے جو پہلے ممکن نہیں تھا۔ نوکریاں ڈھونڈنا، بآسانی سی وی بھیجنا اور اکثر اوقات بآسانی انٹرویو دینا بھی سوشل میڈیا کی بدولت ممکن ہوا ہے۔یہ عام آدمی کو بھی اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے لوگوں کی حالت اور رہن سہن کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکے۔سماجی طور پر بھی سوشل میڈیا کے فوائد بے شمار ہیں، اس کے ذریعے لوگ دوست بناتے ہیں، اپنے کام، اپنی کامیابیاں اور اپنی پسند نا پسند کے بارے میں بتاسکتے ہیں اور چاہے گھر سے دور بھی ہو اپنوں کو اپنے خوشی اور غم میں شریک رکھ سکتے ہیں۔یہ آپ کو آپ کی ثقافت اور زبان سے قریب رکھتے ہیں ۔مثلاٌ دس سال پہلے کھوارگانے اور رقص چترال سے باہر رہنے والے چترالیوں کی اس قدر آسان رسائی میں اور شاید اتنا مقبول نہیں تھے جتنا یوٹیوب، ڈیلی موشن ، فیس بک اور دیگر ویب سائیٹس کی بدولت آج ہیں۔
جہاں اس کے بے شمار فوائد گنوائےجاسکتے ہیں وہیں سوشل میڈیا کے نقصانات بھی کچھ کم نہیں ۔طالب علموں کے لیے نقل کا بہترین ذریعہ ہے جہاں دوسروں کا کام آسانی سے چوری  کیا جاسکتا ہے۔امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ طلبہ جو سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کی اوسط جی پی اے تین اعشاریہ صفر چھ جبکہ جو استعمال نہیں کرتے ان کا اوسط جی پی اے تین اعشاریہ آٹھ ہے۔اس کے علاوہ ایک انتہائی اہم تحقیق طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے فیصلے سے متعلق ہے جو کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔امریکہ میں ۳۵ فیصد طلبہ کے بارے میں یہ بات صحیح ثابت ہوچکی ہے کہ انہوں نے کسی اور سے متاثر ہوکے غلط فیصلے کیے۔دفاتر اور پروفیشنل جگہوں پہ ۲۴ سے ۳۵ سال کے پروفیشنلز اپنا ۵۱فیصدوقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں، خصوصاّ نوجوانوں کو اچھی طرح سمجھنا چاہے کہ سوشل میڈیا کے ویب سایٹس کی پرایویسی پالیسی عموماٌ سطحی نوعیت کی ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا ڈیٹا، تصویریں اور یہاں تک کہ آپ کی انتہائی ذاتی نوعیت کے میسجز جو آپ کی ان بوکس میں ہوتی ہیں وہ بھی پوری طرح محفوظ نہیں ہوتی۔بنا ہماری اجازت کے اور ہمارے علم میں لائےبغیر ہمارے بارے میں معلومات اور ہماری تصویریں غلط طریقے سے استعمال ہوسکتی ہیں۔اس حوالے سے احتیاط اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج کل مختلف ممالک اپنی ویزا پالیسی میں سوشل میڈیا کو مانیٹر کرنے پر غور کر رہے ہیں اور اس حوالے سے پاس ورڈ بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ اس لیےکچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے کیونکہ ایک مرتبہ کچھ شیئر کرے تو پھر وہ پوسٹ ہٹا کر بھی نہیں ہٹتی، اسے بہت آسانی کے ساتھ ریکاور کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے بہت سارے عناصر واردات کر گذرتے ہیں۔چوری، دہشت گردی، اغوا برائےتاوان اور دیگر بہت سارے جرائم آج کل سوشل میڈیا سےجڑے ہوتے ہیں۔بلا اجازت دوسروں کے کام یا آئیڈیاز کو چرانا اور استعمال کرنااور ہیکنگ اس لیے بہت آسان ہوجاتا ہے کیونکہ ۷۰ فیصد سے زائد افراد، خصوصاّ نوجوان اپنا نام، تاریخ پیدایش،سکول کا نام اور شہر وغیرہ کا نام سوشل میڈیا پر بتا دیتے ہیں۔کم از کم ۱۸ فیصد لوگ اپنا فون نمبر بھی سوشل میڈیا پر بتا دیتے ہیں۔اس طرح آپ کی پوری شناخت ہی چوری ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جس کا ناقابل تلافی نقصان  ہوسکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک انتہائی خطرناک رجحان سایبر بولینگ کے حوالے سے ہے۔یہ رجحان خصوصاٌ  ترقی یافتہ ممالک میں بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔۲۰۱۲ میں کی گئ ایک تحقیق کے مطابق آٹھ لاکھ بچیوں اور بچوں کو فیس بک پر زیادتی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھاجس میں طنز کرنا، ڈرانا دھمکانا اور مختلف طریقوں سے دوسروں کو حقیر ثابت کرنا شامل ہیں۔اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا بچوں کے لیےبہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کی اکثریت اس کو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں اور اس بات کا ذکر ماں باپ کے سامنے کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔سایبر بولیٗنگ کا دباؤ اس قدرشدیدہوتا ہے کہ ایسی صورتحال کا شکار بچیوں اور بچوں کا کم ازکم ۵۰ فیصد خودکشی تک کرنے کے بارے میں سوچ سکتاہے۔سوشل میڈیا سے متعلق سماجی مسائل  کا ذکر کرنے بیتھ جائے تو ایک انبار ہے ۔ سما جی رابطے کے ویب سایٹس اور موبائل فون کا استعمال زیادہ جب کہ اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے وقت کی شدید کمی۔ ایک اندازے کے مطابق ۴۷ فیصد لوگ کھانے کے دوران بھی مسیج کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ چترال کی بات کی جائے تو ہماری روایت کا یہ حصہ ہے کہ مہمانوں کے پاس بیٹھا جاتا ہے اور گپ شپ لگائی  جاتی ہے لیکن آج کل میزبان مہمان کے پاس کم اورموبائل فون پر کسی اور کے ساتھ زیادہ مصروف رہتا ہے۔مہمان بھی خیر، کچھ کم نہیں ہوتااور وہ سماں بہت ہی عجیب ہوتا ہے جب ایک بندہ اپنے فون میں گھسے اپنے آپ مسکراتا جاتا ہے اور کبھی کبھار پاس بیٹھے لوگوں کا خیال اس قدر مبہم ہوتا ہے کہ بے اختیار ہنستا جاتا ہے۔دور ایسا ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ میں لپٹا ہوا ہے اور آس پاس کی خبر تک نہیں۔ شاید حقیقی انسانوں سے دوری اور مشینی دوستوں سے قربت کا نتیجہ ہے کہ نوجوانوں میں ڈپریشن، عجیب و غریب عادتیں،عزت نفس میں کمی کا احساس، ذہنی تناؤ اور نتیجتاًمنشیات کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ٹیکنولوجی کا بے جا استعمال جسمانی طور پر بھی کئی سارے ڈس اورڈرزبشمول ٹیڑھی میڑھی انگلیاں، دکھتے گردن ، قوت سماعت اور آنکھوں کی کمزوری کو جنم دیتا ہے۔
سوشل میڈیا کا ایک اور منفی کردار معلومات کی فراہمی کے حوالے سے ہے۔ بنا سوچے سمجھے اور بنا تحقیق کے لوگ کوئی بھی خبر اٹھا کر سوشل میڈیا پر لے آتے ہیں۔اکثر اوقات ایسی معلومات اور خبریں نہ صرف جھوٹ کا پلندہ بلکہ انتہائی گمراہ کن بھی ہوتی ہیں۔
بلاشبہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ ہماری صلا حیت کو بڑھاتے ہیں اور ہمیں پروفیشنل زندگی میں مدد دیتی ہیں۔بہر حال، بعض اوقات ہم اپنے بارے میں ضرورت سے زیادہ معلومات سوشل میڈیا پر بتا دیتے ہیں جس کے بارے میں ہمیں محتاط ہونا چاہیے۔ اس دور میں دس مختلف طریقوں سے ہماری رائے، ہمارے خیالات، ہمارے اصول اور ہمارے عقائددوسروں سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ ہماری سوچ اور ہمارے نظریات مختلف عناصر سے اس قدر متاثر ہیں کہ جو کچھ آن لائن ،سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے اس پر من و عن یقین کر لیتے ہیں۔یہ کہنا مبالعہ نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا نسل نو کی زندگی کا حصہ ہی نہیں بلکہ ان کی زندگیاں ہی سوشل میڈیا کے اردگرد گھومتی ہیں۔کسی بھی محفل میں لوگوں کو فون پر بار بار اسٹیٹس چیک کرتے،کمنٹ کرتے یا ٹویٹ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔یہ امر اہم ہے تاہم اس بات کا ادراک ہر فرد کو ہونا چاہےٗ کہ سوشل میڈیا زندگی میں علم، معلومات اور تفریح کا ذریعہ ہے بذات خود زندگی نہیں۔سوشل میڈیاکے ہر ایک صارف کوہلکا سا بریک لگاناپڑیگا۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
23880cookie-checkسوشل میڈیا ۔ذرا سا بریک لگانا پڑے گا!

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This