تقلید نہیں تحقیق

شاعر ادیب قلم کار معاشرے   کو مقلدانہ روِش پر لگا کر بگاڑ بھی سکتے ہیں اور اپنی تحقیقی مقالوں تحریروں ٹھوس علمی بحث مباحثوں  اور اپنے فِکر سے اِسےنکھار بھی سکتے ہیں۔اس سلسلے میں تاریخ کے اوراق یہ گواہی دیتے ہیں کہ جس قوم نے تقلید کا راستہ چُنا یا جِن کو مقلدی کا تاج سر پہ سجا ہوا ملا وہ رسوا ہوئے اور تاحال ہو رہے ہیں۔ ہمارے یہاں صرف مذہبی مقلدی کو ہی ہدف تنقید بنایا جاتا ہے اور مُلا صاحبان کو جدید دنیا سے نا واقف کُند ذہن شکی مزاج تنگ نظر اور معلوم نہیں کیا کچھ کہا جاتا ہے۔میں خود کسی زمانے میں ” مُلا کی دوڑ مسجد تک “کا وِرد کیا کرتا تھا۔دارلعلوم کے فارغ طلبہ اور تبلیغی حضرات سے بحث کیا کرتا اور اُن کو نیچا دکھانے کے لیے انگریزی افکار تازہ اور آئن اسٹائن کے اقوال کا خُوب سہارا لیتا۔آج عمر کے ٢٩ سال میں ہوں اور پہلے کی نسبت کافی محتاط رویہ اپناتا ہوں شاید اسی میں مصلحت ہے۔

ہم اور آپ اپنی بساط کے مطابق مُلا برادری پر اعتراضات کا انبار لگا دیتے ہیں۔ٹھیک ہے اگر کسی کے موقف سے ہمیں علمی فِکری ،سیاسی ،مذہبی اختلاف ہے تو یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔اب ہماری حیثیت دیکھیے کہ اگر کسی مولانا سے کسی مدرس سے علمی اختلاف پیدا ہو جائے تو بجائے خود قرآن مجید کھولنے کہ ہم اس شخص سے نفرت کرنا شروع  کردیتے ہیں۔نفرت کا تعارف اب میں کیا کروں آپ سب  اس دنگل کے احوال بخوبی جانتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیئے کہ ہمیں اگر مُلا سے اختلاف ہے تو ہم خود الہامی کتاب کھولیں اور مختلف مفسریں جن میں ایشیائی مفسر بھی ہیں اور مغربی بھی،اُن کے لکھے ہوئے نسخوں کو پڑھیں اور دماغ کی بتیاں روشن کریں۔اگر ہمیں یہ لگتا ہے کہ مچھر کو پرکھنے والے اور اُونٹ کو نگلنے والے مُلا صاحبان ہمیں سفلی علوم سے مغلوب بنا رہے ہیں تو ہمارا بھی کچھ حق تو بنتا ہے۔اگر موجودہ دور کی لکھی ہوئی تاریخِ اسلامیِ اور تاریخِ مسلمانی سے ہمیں علمی اختلاف ہے۔اور ہم اِن علوم کو مسلکی ہتھیار اور مدرسوں کی پیداوار سمجھتے ہیں تو آپ ہی بتائیے ہم میں سے کون ہے جس نے سچی لگن سے قدیم تاریخ اسلامی کا مطالعہ کیا ہے۔۔؟

اطرب لائبر یر ی بونی میں ہزاروں کی تعداد میں کتابیں موجود ہیں۔وہاں قدیم عرب مصنفین کی لازوال کتابیں سلیقے سے رکھی ہوئی ہیں۔مقدمہ ابنِ خلدوں،تاریخ ابن کثیر،ابن اثیر،تاریخ طبری،تاریخ ابن جوزی،تاریخ جدول اور تاریخ زمخشری قابل ذکر ہیں۔وہاں آنے والے جوانانِ جدید بڑے شوق سے “Islam and human life”پڑھیں گے جو کہ غیر ملکی تصیف ہے۔  دیپک چوپڑا کا ناول “Muhammad” ایشُو کروائیں گے اور چسکے لیکر اُس کا مطالعہ کریں گے۔مگر کبھی ابنِ کثیر کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے کیوں کہ وہ محمدصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے دور کے قریب کا مُلا تھا اور سائنس سے بے خبر تھا۔وہ جھوٹ لکھ سکتا ہے مگر انگریز لکھاری جو ١٣ سو سال بعد اسلام پر کتاب لکھے تو وہ ہمارے لیے اہم بن جاتے ہیں۔اُس کے اٹھائے ہوئے اعتراضات کو ہم صحیح مانتے ہیں۔ہمارے لوگ اب اس مقام پر ہیں کہ ابن خلدون پتا نہیں ، تھا بھی یا نہیں اس سے بہتر ہے ہیرلڈ لیم کو پڑھ لیا جائے جو ایکسپرٹ آف ایسٹرن ہسٹری کہلاتا ہے۔لیکن اسی ہیرلڈ لیم کے حوالہ جات مسلمان تاریخ دانوں کی کتابوں سے حاصل شدہ ہیں۔ لیکن ہمارے لیے اس نازک بدن نے واقعات کو اپنی طرف سے تھوڑا modify کردیا ہے اور کچھ خاص نہیں۔ مغربی مستشرقین اور لکھاری اِن قدیم کتابوں سے مکمل استفادہ کرتے ہیں پھر کہیں جاکر ایک منفرد کتاب منظرعام پر لاتے ہیں۔

حسین بن منصور حلاج کی اپنی تصنیف “کتاب الطوسین”پڑھنے کے بعد ایک امریکی لکھاری نے حلاج پر کتاب تو لکھی مگر حوالہ جات تمام عربی کتابوں سے لیے  اور اپنی طرف سے واقعات کو رنگین بنانے کی کوشش کی ہے۔اپنے من سے کوئی ہمارے متعلق کتاب لکھ دیں تو وہ ہمارے لیے گوہر شب چراغ کی مانند اہم ہوتا ہے اور ہمارے اپنے سنہرے دور کی کتابیں فردوسِ گم گشتہ بنے پڑے ہیں۔

مولانا جلال الدین رُومی کے حوالے سے بہت ساری کتابیں مغرب میں لکھی جا چکی ہیں مگر کیا یہ انصاف ہے کہ ہم “مثنوی رومی ” شعری مجموعہ اور “فیہ مہ فیہ”نثری مجموعہ کو پسِ پشت رکھ کر Rumi’s daughter کو عظیم جانیں۔یا پھر forty rules of” “loveکو صحیح سمجھیں۔ان دونوں کتابوں میں رُومی سے متعلق بہت سے مفروضے جمع کیے گئے ہیں جو کہ تمام جھوٹ پر مبنی ہیں۔اب جدید نسل کو سچ اور جھوٹ کے مابین الجھن کو خود زاتی مطالعے سے سلجھانا ہوگا۔یہی ہمارے لیے فلاح اور دانش کی راہ ہے۔

کہنے کا مطلب صرف اتنا تھا کہ جہاں سے علوم کے چشمے پھوٹے وہ ہماری کتابیں ہیں نہ کہ پردیس والوں کی۔کتاب کوئی بھی ہو مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ لیکن اپنے اسلاف کو غیروں کی زبانی ادھورے پن اور ملاوٹ شدہ واقعات کے ساتھ پڑھنا کہاں کا انصاف ہے؟

مثنوی روم وہ کتاب ہے جس کو قرآن مجید کے بعد سب سے زیادہ پڑھا گیا اور ٦٠٠ سالوں تک جامعات میں پڑھایا گیا۔اسی کتاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ

“ہستِ قرآن در زبان پہلوی

آپ کو بخوبی علم ہوگا برٹش فیبین سوسائٹی ایک نامور بین اقوامی ادارہ ہے جس کے بہت سارے دفاتر دنیا بھر میں موجود ہیں۔آج یہ سوسائٹی یورپ کی تِھنک ٹینک تصور کی جاتی ہے۔اس کے زیر سایہ بہت سارے تحقیقی ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔جواہر لعل نہرو اس تحریک کے اصول و ضوابط سے ازحد متاثر تھے۔برطانیہ کے ٦ وزیر اعظم اس سوسائٹی کے سابق رکن تھے۔فیبین سوسائٹی کی وساطت سے جارج برنارڈ شاہ نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا۔

شاہ کا ڈرامہ” Apple cart”اس سوسائٹی کے ادبی محفل میں پہلی بار تھیٹر کیا گیا۔

اس ادارے کے وجود میں آنے سے پہلے برطانیہ کے علمی ذخائر کی تعداد بہت کم تھی۔جیوفری چوزر کی شاعری اور اینگلو سیکسن کی کہانیوں کے علاوہ اُن کے پاس علوم کا دریا تو تھا مگر وہ تشنہ لب تھے۔پھر حکماء فرنگ نے اُن عظیم کتابوں کا انگریزی میں  کیا چند کے نام اُوپر لکھ چکا ہوں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں عمدہ کتاب چھپتی تو فیبین سوسائٹی کے ترجمان اُسے انگریزی کے قالب میں سمودیتے تھے۔اب آپ خود اندازہ لگائیے کہ آج ہمیں فردوسی فارسی میں ملے نہ ملے انگریزی میں ملتا ہے۔ہمیں بیدل،عمر خیام،سعدی،خسرو،ابنِ رُشد،قوسین،زابری،امام غزالی،منصور حلاج اور ہشام عربی فارسی میں ملے نہ ملے مگر یہ تمام طائرانِ خُوشبہار انگریزی میں زندہ جاوید اور عربی،فارسی اور اردو میں مدفون ہیں۔

مقلد ہم خود نہیں تھے ہمیں بنایا گیا تھا۔یہ سزا کے طور پر نازل ہوا تھا۔وہ پرانا زمانہ تھا اب دنیا ترقی کی طرف تیزی سے رواں ہے۔ہم اب کسی کے محتاج نہیں رہے علوم کی فراوانی دیکھئے اور آلات علم دیکھیے۔ پھر کیوں ہم فرسودہ کارگزاریاں بیان کرتے پھریں اور اپنے عقل اور علم سے کام نہ لیں۔۔؟

اب ہم اس حالت میں ہیں کہ اپنے ذاتی مطالعے کی مدد سے اپنے مذہب اور اپنے وقار کا دفاع کرسکیں۔

آج وقت کی اہم ضرورت تحقیق ہےاور ہمیں اب تقلیدی لبادہ اُتار پھینک کر تحقیق کا نہ ختم ہونے والا بیش قیمت پوشاک زیب تن کرنا ہوگا.ہمیں تحقیق کی رفعتیں اور منازل طے کرنا ہونگے۔ہم آج کسی بھی شعبے میں خود کفیل نہیں رہے۔ہم پیناڈال ٹیبلیٹ تو بناتے ہیں مگر اس کا فارمولہ مغرب والے فراہم کرتے ہیں۔ایک بھی اینٹی بائیوٹک دوا ہم ایجاد نہ کر سکے۔ہم آج دنیا میں صرف تقلید ہی کر رہے ہیں چاہے وہ لباس کی ہو یا تمدن کی۔مختصر یہ کہ ہم جذباتیت اور تقلیدیت کے نرالے مریض ہیں۔

آپ خود میڈیا میں جاکر دیکھیے کہ ہمارے لیڈر اور مختلف طبقہ فکر والے مغرب کو سازشی اور پتہ نہیں کیا کچھ کہ دیتے ہیں۔لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جس انٹرنیٹ کا استعمال وہ اسلام کے دفاع اور اغیار کے خلاف کرتے ہیں دراصل وہ انہی کی ایجاد ہے۔یہ تو دوسروں کے پیالے لیکر ہوٹل چلانے والی بات ہوئی۔

آج ہم دو کشتیوں پر سوار ہیں۔ہماری مثال اس ناخُدا کی ہے جو ساری رات چپُو گھماتا رہے مگر صبح دیکھے تو کشتی بندرگاہ پر کھڑی ہے۔کشتی اور ملاح کی بند آنکھیں معلوم نہیں کب کھلیں کب سفر شروع ہو قبل از وقت کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔

نقارخانے کا توتا بن کر بہت ان کہی باتیں بڑی جُرات کے ساتھ کہ گیا ہوں۔ لکھنے والے ہر قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔میرے نزدیک لکھاری خواص اور باقی عوام ہیں۔اگر ہمارے جدید علوم سے شناور لکھنے والے چاہیں تو وہ دن دور نہیں کہ ملک پاکستان کا ہر شہری اپنے آپ میں انجمن کا درجہ رکھے۔

یہاں کسی کو اگر ذرہ برابر بھی کوئی بات کسی جماعت ،فرقے یا انفرادی شخص کے خلاف لگے تو میں یہ  سمجھونگا کہ وہ مجھ سے بھی اعلیٰ صفات کا مقّلِد ہے۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
119220cookie-checkتقلید نہیں تحقیق

کالم نگار/رپورٹر : سبیل احمد

Share This