Supreme Court Dam Initiative

کیا AKDN کے پاس آلہ دین کا چراغ ہے؟

موجودہ دور میں اگر کسی کے پاس ایک سمارٹ فون، دو چار جملے جوڑنے کے ہنر کیساتھ ساتھ فتنہ انگیز دماغ ہو تو وہ سوشل میڈیا کے زریعے پیالی میں اچھا خاصہ طوفان اٹھا سکتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے بروغل کا ایک صاحب اپنے علاقے کے مسائل کا بین کرتے ہوئے سوشل میڈیا کا آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ انکے آہ و فغان کا تان ایک ہی بات پر آکر ٹوٹتا ہے کہ AKDN کے ادارے بروغل کے لوگوں کو انکے مسائل کا شافی و کافی حل دینے میں ناکام رہے ہیں۔ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر انکے چند “رقت آمیز” پوسٹ نظر سے گزرے تو دل میں حقیقت کا کھوج لگانے کی خواہش پیدا ہوئی۔

مسئلہ یہ ہے کہ AKDN کے اداروں کی پالیسی سماجی خدمات کی تشہیر کے سخت خلاف ہے اور یہ ادارے اپنے خلاف کسی تنقید کا جواب دینے اور ناقدین سے لایعنی بحث و تکرار میں پڑنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اس لیے بروغل کے حوالے سے مطلوبہ معلومات ان اداروں سے حاصل کرنا کافی دشوار ثابت ہوا۔ کوششِ بسیار کے بعد جو چند ایک باتیں ہاتھ آئیں وہ AKDN کی خدمات پر سے اس صاحب کی تنقید اور تحفظات کا گرد جاڑنے کیلئے پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

بروغل کی وادی 152 گھرانوں پر مشتمل ہے۔ سطحِ سمندر سے اونچائی، موسم کی شدت اور سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے وہاں کی آبادی کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اس سال جب کورونا کی وبا کی وجہ سے ساری دنیا میں بحرانی صورتحال پیدا ہوئی تو حکومت اور اسماعیلیہ کونسل برائے اپر چترال نے مل کر بروغل کے راستے اپریل کے مہینے میں ہی آمدورفت کے قابل بنا دیے جو عموماً مئی یا جون میں کُھلتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں سامان کی ترسیل میں آسانی رہے۔ خوراک کی ممکنہ قلت سے بچنے کیلئے ضلعی انتظامیہ اور کونسل نے مل کر علاقے کے گودام میں گندم کا زخیرہ تیار رکھاہوا ہے۔ AKAH کسی بھی ہنگامی صورحال میں چترال کے کسی بھی دورافتادہ علاقے میں روزمرہ ضروریات کی اشیاء پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بروغل میں کونسل کے نمائندے اور حکومت اور فوج کے اہلکار موجود ہیں اور اب تک تینوں زرائعوں سے کسی بھی ہنگامی صورتحال کی کوئی خبر نہیں پہنچی ہے۔ تاوقت افواہوں کا واحد منبع اس صاحب کے فیسبُک پر چھوڑے گئے شوشے ہی ہیں۔

سوشیو اکنامک ڈیویلپمنٹ پروگرام (SEDP) جو اسماعیلیہ نیشنل کونسل کا غربت مٹانے کیلئے ایک زیرین پروگرام ہے، نے بروغل کے ان 152 گھرانوں میں سے 32 انتہائی غریب خاندانوں کو مستقل ماہانہ راشن کی فراہمی کی ذمہ داری بھی اٹھا رکھی ہے۔ اس سال COVID-19 کے صورتحال کی وجہ سے انہیں جون تک کا راشن پہلے ہی سے فراہم کیا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ ان 152 گھرانوں میں سے متعدد خاندان ایسے ہیں جنکے سینکڑوں یاک ہیں اور ہر یاک کی قیمیت لاکھوں روپے ہیں۔ کئی دوسرے گھرانے ایسے ہیں جہاں کے افراد چترال اسکاؤٹس، لیویز، پولیس یا دیگر جگہوں پر ملازم ہیں۔ باقی 32 انتہائی غریب خاندانوں کو SEDP معاؤنت فراہم کر رہا ہے۔ ان 32 کے علاوہ بروغل کے تمام باشندوں کو خصوصی کٹیگری میں رکھ کر AKDN کے ادارے انہیں تعلیم اور صحت سمیت دوسرے شعبوں میں مفت خدمات پیش کر رہے ہیں۔ علاقے کے جو بچے CBS یا بروغل میں قائم سنٹرل ایشیا کے اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں انکی فیسیں اور تعلیمی اخراجات کونسل ادا کرتا ہے۔ بروغل ہی کے 28 طلبہ اور 10 طلبات کو کونسل بونی میں ہاسٹل کی مفت سہولت فراہم کرکے معیاری تعلیمی اداروں میں تعلیم دے رہا ہے۔ AKDN کے اداروں کی کوششوں سے پہلی مرتبہ بروغل کا ایک طالب علم آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول چترال اور دوسرا کراچی کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے جنکے اخراجات کونسل اٹھا رہا ہے۔ علاقے میں کونسل نے اپنی طرف سے تین اساتذہ تعینات کر رکھے ہیں۔ اب تک بروغل کے کئی نوجوانوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن دیا جا چکا ہے۔ کئی دوسرے نوجوان سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ہوٹل مینیجمنٹ کی تربیت پا چکے ہیں۔ دو نوجوان (عافیت بیگ، عقیدہ جان) پشاور میں کونسل کی طرف سے زیرِ تربیت ہیں اور کچھ ہی عرصے میں ہیلتھ ٹیکنیشن بن کر لوٹینگے۔

بروغل میں لوگوں میں افیون کے نشے کی عادت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس نشے میں مبتلا ایک شخص روزانہ اوسطاً 800 سے 1200 روپے کا افیوں استعمال کرتا ہے۔ اس نشے نے یہاں کے لوگوں کی صحت کیساتھ ساتھ انکی معاشی صورتحال کو بھی ابتر کر رکھا ہے۔ اسماعیلیہ کونسل اور آغا خان ہیلتھ سروس کے اشتراک سے ہر سال بروغل سے نشے میں مبتلا کئی افراد کو بونی لاکر نشہ چھڑوانے کیلئے انکا علاج معالجہ کیا جاتا ہے۔ ہر فرد پر پچاس سے پچھتر ہزار تک خرچہ آتا ہے جسے یہ ادارے برداشت کرتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت کئی لوگوں کی زندگیاں سنواری جا چکی ہیں۔

اسکے علاوہ AKDN کے ادارے اس دورافتادہ علاقے میں سیاحت کے فروغ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور مواصلاتی نظام کی بہتری کیلئے بھی قابلِ ذکر کارنامے سرانجام دے رہے ہیں۔ AKAH نے بروغل میں اسٹیڈیم کی تعمیر مکمل کر لی ہے۔ AKRSP کا تعمیر کردہ میدان، چکار پُل وادی کے دو حصوں کو جوڑنے کا واحد زریعہ ہے۔ بروغل کی سو فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا چکا ہے۔ پانچ گیسٹ ہاؤس تعمیر کے بعد مقامی آبادی کے حوالے کیے گئے ہیں۔ وادی میں کئی لوگ ایسے تھے جنکے شناختی کارڈ تک نہیں بنے تھے۔ کونسل نے انہیں شناختی کارڈ بنواکر دیے جس کے بعد وہ اب AKDN اور حکومتی ریلیف کی سرگرمیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے ترقیاتی کام ملک کے دوسرے سرحدی علاقوں میں بھی ہوتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔

آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے اداروں کی جانب سے بروغل کی وادی میں جاری سرگرمیوں کی یہ ایک مختصر جھلکی ہے۔ مگر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب تک بروغل کے لوگ خود اپنی حالت بدلنے کی امنگ لیکر آگے نہیں بڑھیں گے، AKDN کی خدمات پوری طرح برآور نہیں نہیں ہوسکتیں۔ بعض دفعہ قبائلی اور سرحدی علاقے کی اپنی نفسیات اور اطوار انکی ترقی کی راہ میں رکاؤٹ بن کر حائل ہوتے ہیں۔ یہ مجھے خود دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے کہ بروغل میں AKDN کی طرف سے جاری ترقیاتی کاموں میں کام کرنے والے سارے مزدور یا تو پٹھان تھے یا انکا تعلق چترال کے دوسرے علاقوں سے تھا۔ ہر مزدور یومیہ ایک ہزار روپیہ کما رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ غربت اور پسماندگی کے باوجود مقامی لوگ محنت مزدوری کی کمائی سے عار محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اس سال وادی کے تقریباً 30 بچے اور بچیوں کو موسمِ سرما کی تعطیلات میں اسماعیلیہ کونسل بونی لاکر کوچنگ کرا رہا تھا۔ بونی میں انکے لیے ہاسٹل مختص کیا گیا تھا۔ ان بچوں میں سے 3 بچے اور بچیاں ایسی تھیں جنکی شادی طے ہو چکی تھی۔ انکی عمریں 17، 18 سال سے زیادہ نہ تھیں۔ اب AKDN کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ بچے نوعمری میں شادی کے باعث اپنی تعلیم آگے نہیں بڑھا سکتے۔ بروغل کی پسماندگی کا سارا ملبہ AKDN پر ڈالنے سے قبل اس علاقے سے جُڑے ان سماجی عوامل کو بھی ملحوظِ نظر رکھنا چاہئے۔

ایک دوست کا بتانا تھا کہ افیوں کے نشے میں مبتلا افراد کو بونی میں علاج معالجے کے بعد قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھوا کر قسم اٹھوائی جاتی ہے کہ وہ آئندہ نشہ نہیں کرینگے۔ بروغل لوٹنے کے بعد ان میں سے 70 فیصد ہی اپنی قسم کا پاس رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور 30 فیصد دوبارہ افیون کی لت میں پڑ جاتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ افیون اس علاقے میں پہنچانے اور لوگوں کو بیچنے میں خود علاقے کے اپنے چند سرکردہ افراد ملوث پائے گئے ہیں۔

بروغل کے اس “غمخوار” نے جس مقامی شخص کیساتھ سیلفی کھینچ کر انکے مسائل کی بابت “رقت آمیز” کہانی سنائی ہے، خود اس شخص کی کہانی سُن لیجئے۔ اس صاحب کے گھر کے تین افراد افیون کے نشے میں مبتلا تھے۔ کونسل نے انہیں بونی لاکر انکا علاج کیا۔ 2016 سے 2019 تک اس صاحب کو کیش سپورٹ کی مد میں ایک لاکھ چھتیس ہزار روپے دیے گئے۔ اس سال 20 مارچ 2020 کو انہیں 4800 روپے دیے گئے۔ پھر ایک مہینے بعد SEDP نے انہیں دس ہزار روپے دیے۔ انکی والدہ کو انکی وفات تک مفت ادویات ملیں۔ انکی بیوی کو ڈیلیوری کے وقت آغا خان ہیلتھ سینٹر شوسٹ میں مفت علاج کرایا گیا۔ انکے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا جو کونسل نے انہیں بنوا کر دیا۔ AKRSP نے اپنے ایک پراجیکٹ کے تحت اس صاحب کو اپنی زمین قابلِ کاشت بنانے کیلئے پچاس ہزار روپے آفر کیے جو اس نے ٹھکرا دی (کیونکہ اس میں انہیں کام کرنا پڑ رہا تھا)۔ SEDP نے انہیں بونی میں ملازمت کی پیشکش کی جس کیلئے اس نے معذرت کی۔ اسکے بعد انہیں Skill Development کی تربیت آفر کی گئی مگر انہوں نے یہ آفر بھی ٹھکرا دیا۔ یہی معاؤنت بروغل کے کم و بیش تمام گھرانوں کیساتھ کیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل بروغل کے چند افراد کو سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ہوٹل منیجمنٹ کی تربیت کیلئے بھیجا گیا تھا۔ ٹرانسپورٹ، رہائش اور تربیت کے اخراجات کونسل کے ذمے تھے۔ تربیت کے تیسرے روز ہی ان میں سے کچھ افراد وہاں سے بھاگ گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بھاگنے والوں میں خود اس صاحب کا ایک قریبی عزیز بھی شامل تھا جو علاقے کی پسماندگی کا دوش AKDN کو دیتے نہیں تھکتے! اب خود انہی صاحب سے میری گزارش ہے کہ AKDN کو آلہ دین کے اس چراغ کا بتا دیں جسے رگڑنے سے بروغل کے تمام مسائل حل ہو۔۔۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
115990cookie-checkکیا AKDN کے پاس آلہ دین کا چراغ ہے؟

کالم نگار/رپورٹر : فخر عالم

Share This