Farida

تعلیم نسوا ں اور چترا ل (قسط نمبر۱)

تا ریخ و زما نہ معا شی، معا شرتی سما جی و سیا سی ا تا رچڑھا ؤ کا نا م ہے ،کہتے ہیں کہ تا ریخ کا بدلنا اس و قت صحیح معنو ں میں ہو تا ہے جب لو گو ں میں شعو ر آچکی ہو کیو نکہ ا گر بد لتے ہوئے حالا ت کے سا تھ ا نسا نوں میں شعوروآگا ہی نہ آ ئی  ہوتو سمجھ لیجیےو قت کا بدلنا یو نہی رائیگان چلا گیا اوروقت ایسے ہی کیلنڈرکے بیچ پرمہینوں سا لو ں اورصد یو ں میں منتقل ہو گیا دانشورلوگ کہتے ہیں کہ انسان جب زیورتعلیم سے آراستہ ہوتا ہے توشعورکےدروا زے پراس کے قدم مضبوطی سےجم جا تےہیں تب وہ انسانیت کے دائرے میں آسا نی سے دا خل ہو جاتا ہے تعلیم کے بغیرتوایک رو شن معا شر ے کی تشکیل بھی نا ممکن ہےاورانسانی زند گی کی بقا کے لیے تو دینی و دنیا وی تعلیم و تربیت کا ہونا ا نتہا ئی ضروری ہے۔خا ص کرمعا شرےکا وہ حسا س طبقہ جسے ہم عورت کہتے ہیں جس کی کوک سے نسلیں پروا ن چڑھتی ہیں اس کی تعلیم وتر بیت توسب سے ا ہم ہے تعلیم نسوا ن کے حو الے سے بہت سے لوگو ں نے بہت کچھ لکھا ہےمگرمیں آج تعلیم نسوا ن کا چترا ل کے حوالے سے تذ کرہ کرو نگی ۔چترا ل کی یہ بد قسمتی ر ہی ہے کہ تعلیم نسوان کا پس منظرما ضی سے لیکراب تک کچھ اچھا نہیں رہا ہےمگریہ کہنا بجا ہو گا کہ پہلےکی نسبت لوگو ں کے رویوں اورتعلیمی ا داروں میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہےمثا ل کے طو رپرآج سے کچھ عر صہ پہلے تعلیم عو رت کے لیےمعیو ب سمجھی جا تی تھی اورمشکل سے لڑکیا ں سکو ل جا پا تی تھیں اوراب ایک ا یسا دورآگیا ہے کہ سکو ل کا لجزو یونیورسٹیزمیں میرٹ پرلڑکیو ں کے دا خلے ہورہے ہیں اوربہت سی بچیا ں چترا ل سے با ہراوربیرو ن ملک  کی یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم ہیں جوکہ اچھا رجحان  ہےمگر پھر بھی بچیوں کی تعلیمی تر قی کی راہ میں مسائل  ہیں  ان مسائل کو ہم دو اقسام میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ ایک  وہ مسا ئل جوتعلیمی ا دارو ں کےا ندر ہیں اور ایک وہ مسائل جو تعلیمی ادا رو ں سے با ہرہیں ۔ان دونوں مسائل کی نوعیت  بالکل  ہی الگ ہیں ۔مثا ل کےطور پرتعلیمی اداروں سے باہر کے مسا ئل  میں  لڑکیوں کوسکو ل سے نکا ل کرکم عمر ی میں شا د یا ں کرانا،روایات وزما نے کےخو ف سےلڑکیوں کوسکول جا نے سے رو کنا اورغربت (کیونکہ جن وا لدین میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے آ گاہی ہوتی ہے تو و ہا ں غر بت  روکاوٹ بن جاتی ہے)ایک اوراہم مسئلہ جس کی وجہ سے خو ف اور ڈر کے ما رے کئی بچیا ں سکو ل سے محرو م رہ جا تی ہیں وہ سکول یا کا لج جاتے اور آتے ہوئے ہراسمنٹ کا سا منا کرنا وغیرہ یہ سب تعلیمی اداروں سے با ہر کےمسائل ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی  ا دارو ں کے اندر آجائیں تو کئی مسائل یہاں آپ کا انتظار میں ہوتے ہیں ۔ جن میں بنیا دی سہو لیا ت جیسے واش رومز،کلاس روم،قا بل اسا تذہ، میزکرسی یا تدریسی مواد ولائبیریری اورکھیل کودکےسامان  کا فقدا ن ہے۔ سا تھ ہی کرئیر کاؤنسلنگ اورمنٹل گایڈ ینس کا نہ ہونا بھی ا یک ا ہم مسئلہ ہےجس کی و جہ سے آج کل چترا ل میں کا فی مسا ئل پیدا ہو چکے ہیں بد قسمتی سے  ا ن تما م مسا ئل کے سا تھ سا تھ ہم ا یک کمزور نصا ب کو بھی لیکرچل رہے  ہوتے ہیں جو کہ مزید مسا ئل کو د عو ت د ینے وا لی با ت ہے اتنا عرصہ گزرجا نے کے با وجود بھی ہم یہ فیصلہ نہیں کرپائےہیں کہ ہما را نظا م تعلیم و نصاب کیسا ہو نا چاہییے اور کو ن کو ن سی تبد یلیا ں نصا ب میں لا نی ضرور ی ہیں اور المیہ تویہ ہے کہ ا ن تما م مسائل سے نمٹنے کے لیے نہ پرائیو یٹ سطح پرکوئی خاص حکمت عملی موجوہےاورنہ ہی حکومتی سطح پر، قیا م پا کستا ن  سے لیکرا ب تک تعلیم کا شعبہ نا کا م اورا د ھو رے تجربا ت سے دوچا رہے جس کے نتیجے میں بے ضابطگیوں  کی شکل میں مختلف رکا و ٹیں سا منے  آئی  ہیں اوریہ شعبہ دن بہ دن نا قص حکمت عملی اور بے قا ئدگیوں کا شکا رہو تا جا رہا ہے ۔ ہم ایک ایک کر کے تمام مسا ئل کا الگ تذکرہ کریں گے-

غربت:

اگر دیکھا جاے تو چترا ل کے اندر لڑکیو ں کی تعلیمی ترقی کی راہ میں سب سے بڑ ی رو کا و ٹ غر بت ہے ایک دیھا ڑی دار مزدورجو دن بھرمزدوری کر کےبچوں کا پیٹ پا لتا ہے توان حالات میں وہ کیسے کاپی پنسل یونیفا رم جوتے وغیرہ کا خرچہ برداشت کرسکتاہے اور پھرسکو لو ں کےا ندر کئی بچیا ں ایسی ہیں جوغر بت کی و جہ سے ٹرانسپو رٹ تک کا خرچہ ادا نہیں کرسکتی جس کی و جہ سے انہیں میلو ں پید ل چل کر سکو ل یا کا لج پہنچنا ہوتا ہےاوراسی دوران را ستے میں ان کو ہرا سمنٹ کا بھی سا منا کرنا پڑتا ہے کچھ جگہو ں پر تو یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ غر بت سے مجبو رہوکرا یک شخص نے اپنی بچیوں کو گو رنمنٹ سکولو ں میں اور لڑکو ں کو پرائیو ٹ سکو لوں میں دا خل  کیے ہیں یعنی غربت نے نظا م تعلیم کے ا ندر بھی صنفی تفرق کو جنم دے دیا ہے

جا ری ہے۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
115060cookie-checkتعلیم نسوا ں اور چترا ل (قسط نمبر۱)

کالم نگار/رپورٹر : فریدہ فری

Share This