Supreme Court Dam Initiative

آپ بےشک فیمینسٹ نہ بنیں مگر!

ہم اس بات پر بہت سیخ پا ہیں کہ مغرب اسلام کے نام پر دہشتگردی کا مرتکب بننے والوں کو لیکر پورے عالمِ اسلام کے بارے میں منفی رائے قائم کر رہا ہے۔ مغرب کا یہ رویہ واقعی میں مبنی بر انصاف نہیں ہے۔ اسی مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ اگر عورت مارچ کی مخالفت کی وجہ محض چند نعرے یا بینرز ہیں ،تو معاف کیجئے آپ کی مخالفت بھی انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ اگر آپ کا استدلال یہ ہے کہ عورت مارچ ایلیٹ کلاس کی خواتین کی ایک تفریحی سرگرمی ہے اور مارچ کے شرکا ءکا عورتوں کے مسائل سے دُور دُور تک کوئی تعلق نہیں ہے تو رُکیے اور سوچئے کہ آپ نے اپنے معاشرے کے مڈل اور لوئر کلاس طبقے کے لاکھوں کروڑوں عورتوں کو ان کے گھروں، تعلیمی اداروں اور اردگرد کے سماج میں وہ ماحول ہی نہیں دیا ہے کہ انہیں اپنے حقوق کا شعور ہو اور حقوق نہ ملنے کی صورت میں آ پ کے روبرو کھڑی ہوکر مطالبہ کرسکے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ نعرے اور مطالبات مشرقی عورت کے احساسات کاترجمان نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتوں کے حقوق کے سارے مقدمے کو ہی ناقابلِ سماعت قرار د ےکر ردی کی ٹوکری کی نذر کی جائے۔ مناسب رویہ یہ ہوگا کہ معاشرے کی عام عورتوں کو اتنا اختیار دیا جائے کہ اپنی ترجمانی وہ خود کرسکے۔ اپنے نعرے وہ خود بلند کرسکے۔ اگر وہ پدرسری نظام کی وجہ سے جبر، تسلط، استحصال اور بندشوں کو “مقدس” فرمان اور فطرت کا لازمی جزو سمجھ کر چُپ ہیں بھی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس نظام میں ان کا دم نہیں گھٹ رہا اور انہیں تازہ ہوا کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کسی یونیورسٹی میں پروفیسر کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار بننے والی طالبہ، کسی دوردراز علاقے میں سنگسار ہوتی عورت، کسی پسماندہ گاؤں میں مقدس کتاب کے نکاح میں دی گئی مظلوم بچی، اپنے والد کے ہم عمر سے کی گئی جبری شادی کے دوزخ میں جھونکی گئی لڑکی، جہیز جمع نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں پڑی اور اپنی جوانی کو ڈھلتی دیکھتی بیٹی، سسرال میں ذلّت کی زندگی گزارنے والی بہو، درندے کے ہاتھوں میں مسلی گئی کسی بچی، شوہر سے روز پٹنے والی بیوی، بھٹیوں میں آدھے معاوضے پر مشقت اٹھاتی حاملہ عورت، سڑکوں پر مردوں کی ہوس زدہ آنکھوں سے اپنی عزتِ نفس کو تار تار دیکھتی لڑکی اور چترال سے تعلق رکھنے والی اس عورت کو، جس کے بارے میں یہ سطور لکھتے ہوئے خبر آئی ہے کہ شوہر نے اسے اپنی غیرت کا ثبوت دینے کیلئے رسی کے پھندے سے لٹکانا ضروری سمجھا، اتنا تحفظ، حوصلہ، اختیار، سہولت اور قوت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی شنوائی کی خاطر خود آواز اٹھائے تو آپ کے پاس ان کے حق میں اٹھنے والی دوسری آوازوں پر معترض ہونے کا کوئی اخلاقی جواز موجود نہیں ہے۔ ایک بار خلوصِ نیت سے عورت مارچ کے مطالبات پر نظر دوڑائیں۔ اس میں چھبنے والی بات کونسی ہے۔ فہرست پر نظر دوڑائیے۔ مطالبات صرف عورتوں کے حقوق ہی کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس میں ہمارے معاشرے کے ہر محکوم اور مظلوم کی فریاد موجود ہے۔ آپ آئے روز ہڑتال اور احتجاج کرتے وکیلوں، ڈاکٹروں، اساتذہ اور دوسرے شعبوں کے لوگوں کے مطالبات دیکھیں۔ آپ کو ان میں بجز ان کے اپنے مفادات کے سوا کوئی اور نکتہ نہیں ملے گا۔ اگر یہ مطالبات نہیں مانے جائے تو دوسرے دن وکیل عدالتوں کا بائیکاٹ کرینگے۔ ڈاکٹر دم دوڑتے مریضوں کو آئی سی یو میں چھوڑ کر سڑکوں پر آئینگے۔ اساتذہ اسکولوں کو غیر معینہ مدت کیلئے قفل لگا کر بیچ چوارہے احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھیں گے۔ مگر ایک عورت ایک آدھ دن کا مارچ بھی کرے ،پھر تھوڑی دیر بعد واپس جاکر گھریلوں کاموں میں جُت جائیگی۔ وہ مطالبات منظور ہونے تک شاہراہیں بند رکھنے کی دھمکی نہیں دینگی۔ ایک بار کُھلے ذہن کیساتھ بنتِ حوا کے ان مطالبات پر نظر دوڑائیں۔ دوسرے ہی شق میں عورتوں کیساتھ ساتھ مردوں کی اجرت میں اضافے اور سوشل سیکیورٹی کا ذکر موجود ہے۔ نویں شق ملاحظہ فرمائیں جہاں عورتوں کیساتھ ساتھ صنفی اقلیتوں اور تمام محنت کش طبقے کیلئے باوقار اور کم قیمت رہائشی اسکیموں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح آگے جاکر بجٹ کا 6 فیصد تعلیم کیلئے مختص کرنے، سنسرشپ کے خاتمے، آزادیِ اظہارِ رائے کے فروغ، جبری مشقت کی روک تھام، لیبر قوانین کے موثر اطلاق اور یہاں تک کہ موسمی اور ماحولیاتی انصاف سمیت تمام وہ مطالبات ہیں جو ہماری مثبت تہذیبی اور مذہبی اقدار کیلئے کسی بھونچال کا سبب بنے بغیر معاشرے کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود اور خیرخواہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ عورت میں مامتا کا احساس اسے قربانی اور ایثار کا مجسم پیکر بنا دیتا ہے۔ وہ صرف اپنے لیے زندگی نہیں جیتتی۔ اس فہرست میں جہاں جہاں عورت اپنے اوپر ڈھائے جانے والی مظالم کے سدِباب کا مطالبہ کرتی ہے وہی دوسرے پسے ہوئے انسانوں اور اپنے ماحول کی خاطر انصاف کے مطالبے کیساتھ ہمارے سامنے جھولی پھیلاتی نظر آتی ہے۔ عورت مارچ کے حامیوں کا ٹکر مَرد سے نہیں خود اپنے خلاف ہونے والے استحصال سے ہے۔ یہ مارچ ہمیں احساس دلانے کی ایک سعی ہے کہ ایک عورت اپنے جسم اور کوکھ کے علاوہ بھی درخورِ اعتنا ہے۔ اس کے جذبات، احساسات اور اس کی روح بھی قابلِ تعظیم ہے۔ یہ باتیں سمجھنے اور ان پر ہمدردانہ غور کرنے کیلئے کسی کا فیمینسٹ یا کسی این جی او کا وظیفہ خوار ہونا ضروری نہیں۔ عورت مارچ کے حامیوں پر کسی قسم کا ٹیگ لگا کر اس جینوئین مسئلے سے آنکھیں مت پھیریے۔ ہمارے ہاں بہت سارے مسائل اس رویے کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ اگر آپ پھر بھی کسی عذر کی وجہ سے عورت مارچ کی حمایت نہیں کرسکتے، تب بھی عورتوں کے مسائل کی سنگینی اس معاشرے سے کسی نہ کسی انقلاب کا متقاضی ضرور ہے۔ یہ اتنی معمولی بات نہیں ہے کہ جس سے تادیر بےاعتنائی برتی جاسکے۔ اس لیے اس بار فراغت کی کچھ ساعتیں اس مسئلے کی نذر کیجئے اور اس سے آنکھیں ملا کر سوچنے کی ہمت پیدا کریں۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
112730cookie-checkآپ بےشک فیمینسٹ نہ بنیں مگر!

کالم نگار/رپورٹر : فخرِ عالم

Share This