جنگل کا قانون

کہاجاتاہے کہ   جنگل کا کوئی قانون نہیں ہوتا۔ لیکن جانوروں کی زندگی کے مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنگل کا بھی  اپنا ایک قانون ہے  اور جنگلی جانور اس قانون کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ان قوانین میں سے ایک قانون   طاقتور  کو  زندہ رہنے کا حق اور  کمزور  کو زندہ  نہ رہنے  کا حق۔اس قانون کے تحت  جنگل میں  جانور  اپنی زندگی بچانے کےلیے جتھوں کی شکل میں رہتے ہیں اور اپنے لیے ایک ایریا مخصوص کرتے ہیں۔ اس مخصوص ایریا پر  ان  مخصوص  جانوروں کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جنگل میں شیروں کے اپنے جتھے اور اپنے علاقے ہیں جس میں وہ رہتے ہیں۔ اس طرح   ، مینڈھے مینڈھوں کے ساتھ ،لومڑی لومڑیوں کے ساتھ، کتاکتے کے ساتھ،بلی بلی کے ساتھ مل کر رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں  ۔ ورنہ جنگل کے قانون کی رو سے جنگل میں ان کا رہنا محال ہے۔

جنگل میں جانور  نہ صرف جتھا بناکے رہتے ہیں بلکہ یہ جتھا  اپنی آزادی  اور زندگی بچانے کے لیے  دوسرے جانوروں کے ساتھ لڑتے بھی رہتے  ہیں۔ اس طرح وہ اپنی زندگی اور علاقے بچانے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ کبھی یوں بھی ہوتاہے کہ ان کےسامنے ان کا جتھا سے  بڑا جتھا آنے کی صورت میں وہ اپنے  علاقے اور جان سے بھی محروم ہوتے ہیں اس طرح جتھوں کی یہ لڑائی جاری رہتی ہے۔

جنگل کے قانون کے مطابق جانوروں  کی لڑائی میں صحیح  اور غلط کو نہیں دیکھاجاتاہے ۔ صرف  یہ دیکھاجاتاہے کہ سامنے آنے والا جانور کا تعلق کس نسل سے ہے مطلب کس جتھے سے  ہے۔ اگر کسی دوسری نسل یا جتھے سے تعلق ہے تو ضرور ان کے علاقے میں آکر قانون شکنی کی ہے ان کے ساتھ لڑناہے اور انہیں ختم کرناہے۔ یہی یہاں کا اصول ہے۔

یہ  مجبوری  جنگل میں رہنے والے ہر ایک جانور  کو اپنے جتھے کے ساتھ رہنے  اور  ساتھ دینے پر اکساتاہے۔ کیونکہ جنگل میں  کمزور کی کوئی زندگی نہیں ۔جنگل میں جانور جب تک جتھے کےساتھ رہے تب تک اُن کی  زندگی ہے ورنہ وہ  اپنے سے بڑے  اور طاقتور جانور   کا شکار بنیں گے۔

ہمارے ملک  میں انسانوں کے قانون کا حال  بھی جنگل جیساہے ۔اس میں بھی صرف  طاقت،سرمایہ اور تعداد دیکھاجاتاہے۔ غریب کےلیے یہاں پر بھی اپنا حق مانگنا اور حق  حاصل کرنا جنگل کے قانون کی طرح  ہی ہے  ۔اس لیےیہاں پر بھی   اپنی زندگی کو  محفوظ بنانے  ،آسائش حاصل کرنے  اور اپنی من مانی کےلیے   یہاں کےشہریوں  کو اپنےلیے  جتھا بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستان کے قانون میں بھی    جس کا جتھا جتنا بڑاہوں وہ اتنا ہی معتبر اور صحیح ہے۔ بے غیر جتھے کے یہاں پربھی  کسی انسان کی شنوائی  نہیں ہوتی۔ یقینی بات ہے  کہ اس صورت حال میں  کوئی گروہ    اپنے مفاد کےلیے جتھا بناتاہے تو اُس کا کام ہی یہیں ہوتاہے اپنی مفاد کےلیے  لڑے،چاہے سامنے حکومت وقت ہوں،کوئی دوسرے گروپ کا جتھا ہوں یا قانون وقت وہ جتھا اپنے مفاد میں ہی لڑے گا۔ چاہے اس  لڑائی یا کوشش میں  کسی کی جان بھی لینا  پڑجائے اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہوتا۔ جس طریقے سے بھی ہوں  جیسابھی ہوں مخالف  جنس اورمخالف  فریق کو زیر کرناہے۔

جنگل میں جانوروں کے جتھے اپنی نسلی تعلق سے بنتے ہیں اور انسانوں میں یہ جتھے قبائل کے نام پر، سیاسی پارٹیوں ، ہم پیشہ لوگوں یا ڈیپارٹمنٹ کے  نام پربنتے ہیں۔مقصد دونوں جتھوں کا ایک ہی ہے کہ اپنے آپ کو  نقصان سے بچانا،  زندگی کا تحفظ اور اپنی من مانی ۔ ان جتھوں سے بچنے اور ان جتھوں کو کمزور کرنے کا ایک ہی حل ہے صرف ایک ہی حل اور  وہ ہے قانون کی حکمرانی ۔ قانون کی حکمرانی میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کے حکمران ہیں، ہاں  صرف اور صرف پاکستان کے حکمران ۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
108160cookie-checkجنگل کا قانون

کالم نگار/رپورٹر : فرید احمد رضا

Share This