“تماشائے اہلِ “حرم “دیکھتے ہیں”

سعودی عرب کا ریکارڈ کھول کر دیکھئے۔ اس ملک میں ساٹھ کی دہائی کے آخر میں پہلی بار بچیوں نے اسکول میں قدم رکھا۔ (اسی سال روس لائیکا نامی اپنی کتیا خلا میں بیچ چکا تھا)۔ عورتوں کو پہلا شناختی کارڈ 2001ء میں جاری کیا گیا۔ کابینہ میں کسی عورت کو جگہ ملے محض 10 سال گزرے ہیں۔

سعودی عرب کا ایران میں پراکسی کاروائیاں اور یمن اور ایراق میں براہِ راست مداخلت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اسامہ بن لادن سعودی عرب نے پیدا کیا۔ افغانستان اور عرب ممالک میں سرگرم بیشتر تنظیموں کی پشت پناہی سعودی حکومت کر رہا ہے۔ ان تنظیموں کو مالی مدد آلِ سعود کے محلات سے ملتی ہے۔ یہ جو پچھلی صدی سے شیعہ سُنی تفرقات میں اضافہ ہوا اس کے لیے درکار “جذبہِ ایمانی” بہم پہنچانے میں بڑا ہاتھ سعودی ریاست کا ہے۔ خاص قسم کے تعلیمی اداروں  کو فنڈنگ کے ذریعے اپنے تصرف میں لاکر انہیں ایک خاص ذہنیت پیدا کرنے کی بھٹی میں تبدیل کرنے والے بھی ہمارے سعودی شہزادے اور شیخ ہیں۔

صنفی امتیازات سے لیکر انتہا پسندانہ رجعت کے فروغ اور جنگوں تک کے ان سارے دھبوں سے آلِ سعود کا دامن پُر رہا ہے۔ عالمی سیاست میں ممالک ایک دوسرے پر اپنی برتری قائم رکھنے کیلئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں مگر اپنے سیاسی دھندے کے گرد مذہب کا ہالہ احتیاط بُن کر اپنی خود غرضانہ پالیسیوں کو دوسروں کی آنکھوں سے اوجھل رکھنے میں اس ملک  کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

سرینگر کا وہ واقعہ تو آپ کو یاد ہوگا جس میں انڈین آرمی کی ایک کشمیری نوجوان کو جیپ کے بمپر سے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ یہی سلوک سعودی عرب نے مذہب کیساتھ روا رکھا ہوا ہے۔ دنیا کے اکثر ریاستوں میں بادشاہی نظام کو ختم ہوئے صدی سے اوپر کا عرصہ گزر چکا ہے مگر مذہب کو بمپر سے باندھ کر رکھنے والے سعودی عرب کی شاہی جیپ بخیروعافیت اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کو پار کر رہی ہے۔ جدید سماج میں شخصی حکمرانی کیلئے پیدا شدہ خطرات کے تھپیڑوں سے سعودی شاہی خاندان کا سفینہ ہمیشہ محفوظ رہا۔ سعودی ریاست اور اس کے جابرانہ رویوں کیخلاف خاشقجی جیسے کتنے ہی لوگوں نے آوازیں بلند کیں مگر چُپ کرادیے گئے اور مذہب ہمیشہ کی طرح بمپر سے بندھا رہا۔

البتہٰ نئے سعودی ولیِ عہد کے زیرِ اثر سعودی عرب کی روش میں واضح تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ گو کہ اقتدار برقرار رکھنے کیلئے جبرواستبداد کا استعمال ہنوز جاری ہے مگر آلِ سعود کو احساس ہوگیا ہے کہ اپنے مفادات کے دفاع کیلئے مذہب کے استعمال کیخلاف عالمی اور قومی سطح پر اٹھنے والی آوازوں کو زیادہ دیر ناقابلِ اعتنا نہیں سمجھا جاسکتا۔ چنانچہ سعودی شاہی خاندان کیلئے اپنے اقتدار کو مزید طول دینے کیلئے ضروری ہے کہ کئی دہائیوں سے مذہب کے نام پر جکڑے ہوئے عوام کو آزادی دی جائے۔ سعودی ولیِ عہد محمد بن سلمان اس حوالے سے کئی ایک اقدامات اٹھا رہا ہے۔ تین دہائیوں سے بند سنیما کھولے جارہے ہیں۔ ریاض میں خواتین کی فیشن ویک کا انعقاد دھوم دھام سے ہوا۔ پہلی بار خواتین سے متعلق “گارڈئین شپ” کے قوانین میں ترامیم کرکے باپ یا شوہر کی قانونی سرپرستی کے بغیر انہیں ایک شہری کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ عورتوں کو وکٹری کا نشان بناتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان گاڑی چلاتے ہوئے پہلی مرتبہ دیکھی گئیں۔ خواتین کا مرد سرپرست کے بغیر سفر کرنا بھی محمد بن سلمان کی اصلاحات سے قبل ممکن نہ تھا۔ بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کیلئے لباس کے ضابطوں میں نرمی دیکھی جاسکتی ہے۔ حال ہی میں “ریاض سیزن” کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے فنکاروں کے فرمارمنس دیکھنے لاکھوں مردوزن امڈ آئے۔ افتتاحی تقریب میں 6 لاکھ لوگوں کی موجودگی میں محمد بن سلمان کیلئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔ پچھلے سال مکہ کے ایک امام کو مخلوط مجمعوں کیخلاف خطبہ دینے پر گرفتار کیا گیا۔ حال ہی میں پہلی مرتبہ ریاض میں خواتین ریسلرز کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔

مختصراً یہ کہ محمد بن سلمان نے واضح الفاظ میں سعودی عرب کو ماڈریٹ بنانے  کا عندیہ دے دیا ہے۔ پچھلے سال انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ سعودی عرب نے وہابی ازم کو مغربی ممالک کے ایما پر کمیونزم کے توڑ کے طور پر مسلم دنیا میں  فنڈنگ کے ذریعے پھیلایا۔ یہ حکمتِ عملی مسلم دنیا میں موجود سرد جنگ کے محاذوں پر کمیونزم کیخلاف مغربی ممالک کا پلڑہ بھاری رکھنے میں سب سے زیادہ کاآمد ثابت ہوئی۔ اس وفاداری کے صلے میں جتنے فائدے سمیٹے جاسکتے تھے سعودی عرب نے سمیٹے۔ انہیں امریکہ کے بغل میں جا بیٹھنے اور عرب خطے میں امریکی مفادات کی حفاظت کیلئے سپاہی بھرتی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

موجودہ دور میں سیاست کے محرکات تبدیل ہورہے ہیں۔ سعودی عرب کو اپنے تیل کے بیش بہا ذخائر کی وجہ سے عالمی منڈی میں خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ توانائی کے نئے ذرائع ابھرنے سے تیل کی اہمیت اگلی دہائی کے آخر تک گھٹتے گھٹتے ختم ہوجائے گی۔ اس خدشے  کے  پیشِ نظر سعودی حکومت نے “ویژن 2030” پر کام کا آغاز کیا ہے تاکہ Post-oil era میں سعودی معیشت کو گرنے سے محفوظ رکھا جاسکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سعودی عرب اپنی معیشت، نظامِ تعلیم اور پوری سوسائٹی کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ چناچہ روایتی مذہبی لبادے سے باہر آنا ا ن کی مجبوری بن چکی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ ان تمام مفادات سے بھی دستبردار ہوجائے گا جس کی پوٹلیاں مانگے اور بن مانگے ہم اظہارِ عقیدت میں انہیں پیش کرتے آرہے ہیں۔ وہاں چاہے ہزاروں کلب اور سنیما کھولے جائے یا خواتین کی ریسلنگ کے مقابلے کرائے جائے، ہماری عقیدتوں کے تانے بانے ان  کی حکومت سے جُڑے رہینگے۔

حرمین شریفین جیسے مقدس اور تاریخی مقامات کی موجودگی اور مضبوط معیشت  کی وجہ سے سعودی عرب کو مسلم دنیا میں بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا چاہئے تھا مگر ہم میں حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کی اگر تھوڑی بہت بھی جرات ہو تو یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ آج مسلم دنیا کے کئی ایک رستے ناسور خود سعودی عرب کی خود غرضانہ پالیسیوں کی دین ہیں۔ افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ سعودی عرب نے ہمیں جس پٹڑی پر چڑھایا خود اس سے ہٹ کر “ماڈرنیزم  ” کی راہ لے رہا ہے بلکہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس راستے پر ہم پر جو بیتا اس کے لیے پیچھے مُڑ کر “سوری” کہنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کر رہا ہے۔

رائج قاعدہ یہ ہے کہ بلّی نو سو چوہے کھانے کے بعد حج کو چلتی ہے اور  گناہوں سے پاک ہو کر لوٹتی ہے مگر جس  کی اجاداری ہی حرم پر ہو اس کا نامہِ اعمال ہزاروں یمنیوں کے لہو سے پنجے رنگین کرنے کے بعد بھی کسی تقصیر کے ذکر سے پاک ہی رہتا ہے۔ یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
105080cookie-check“تماشائے اہلِ “حرم “دیکھتے ہیں”

کالم نگار/رپورٹر : فخر عالم

Share This