بونی کےلیے صاف پانی کا منصوبہ

کافی عرصے بعدپچھلے ہفتے بونی غاری(چراگاہ) تک جانے کا اتقاق ہوا۔جوکہ بونی لوٹ دور سے تقریباً چارگھنٹے پیدل کی مسافت پر واقع ہے۔بونی کے لیے پینے کے صاف پانی کا پروجیکٹ شروع ہوکر مکمل ہونے کے بعد غاری جانے کا یہ پہلا اتفاق تھا۔راستے میں تھوڑا آگے جاکے ہی شوپیشن میں پانی کی ٹینکی بنی ہوئی ہے۔ٹینکی سے پانی پی کر عجیب فرحت کےاحساس ساتھ اللہ کا شکر ادا کیا۔یہ شاید ہمارے تصور میں بھی کبھی نہیں آیا ہوگا کہ اس بے آب گیاہ ڈھلوان میں کبھِی پینے کےلیے صاف پانی بھی میسر ہوگا۔ یہ چند سطر یں لکھنے کا مقصد ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرناہے جو کسی بھی طرح سے اس قسم کی پراجیکٹس کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔اس منصوبے کے خیال سے لیکر پروپوزل لکھنے تک پھر ڈونر سے رابطہ کاری سے لیکر ، اس پراجیکٹ کو ڈونر کےلیے قابل قبول بنانے تک، سروے شروع کرکے گاؤں کی سطح پر تنظیم سازی تک، تنظیم کے لیڈروں کو اپنے اعتمادمیں لیکر گاؤں کے عام سے لوگوں کو یہ پراجیکٹ سمجھانے تک، پراجیکٹ کے شروع ہونے سے مکمل ہونے تک،پانی لائن میں آنے سے لیکر لوگوں کے گھروں میں پہنچانے تک کے مراحل کو سوچ پر اس پراسس میں شامل ادارے اوراس پراجیکٹ میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے دل سے دعا نکلی ۔


گاؤں کے ان تمام محنتی لوگوں کو سلام جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پائپ لائن کےلیے زمین کی کھدائی کی اور اس صاف و شفاف پانی کےمنصوبے کو کامیاب بنانے کےلیے اپنی مدد پیش کی۔پھر ویلیج ناظمین جو اس پروگرام کو بہتر سے بہتر بنانے کےلیے عوام کی طرف سے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ان سب کےشکریے کےلیے یہ چند سطریں آپ کی خدمت میں لکھنے کی جسارت کررہا ہوں ۔
یہ جذبات و احساسات جو میرے ذہن میں گردش اس وقت کررہے تھے جب میں شوُپیشن کی تنگ گھاٹی سے گزررہا تھا جو بالکل پہاڑوں کے بیچ سے ہوکر گزرتاہے۔ایک طرح چٹیل پہاڑ اور دوسری طرف گہری کھائی ۔کافی عرصہ پہلے پہاڑی کےاس سلسلے کو کاٹ کرایک اور پراجیکٹ کے ذریعے شوپیشن کے وسیع علاقے کو پانی پہنچانے کےلیے یہ نہر بنایا گیا تھالیکن وہ کسی ناگزیر و وجہ سے ناکام ہو گیا تھا ۔اب یہ پہاڑ ی راستہ یا نہر جو پہاڑوں کو چیرکر بنائی گئی تھی بونی کو صاف پانی پہنچانے کےلیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعال ہوتاہے۔


بونی کے وسیع علاقے کو پینے کے صاف پانی پہنچانے کےلیے یہ پراجیکٹ منظور ہوا تو کسی کی دور بین نگاہیں اس پہاڑی نہر پر پڑی جہاں غاری (چراگاہ) سے پائپ لائن کے ذریعے اس نہر کو استعمال کرکے آسانی کے ساتھ بونی میں صاف پانی پہنچایا جاسکتاہے۔ جب سے بونی میں اس پراجیکٹ کے لیے جگہے کا انتخاب کیاگیا تھا ۔میری ذاتی رائے میں یہ جگہ قابل عمل نہیں تھا کیونکہ بہت دور اور پہاڑی سلسلہ ہونے کی وجہ سے اس کو بحال رکھنا ناممکن نہیں تومشکل ضرور تھا۔ لیکن کام کرنے والوں نے اس مشکل کام کو احسن طریقے سے پایہ ٔ تکمیل تک پہنچاہا۔
ہم بونی والے خوش قسمت ہیں کہ پینے کےلیے صاف پانی میسرہے چترال میں اِس جیسا صاف اور میٹھا پانی بہت کم گاؤں والوں کو میسرہے ۔جب میں اس پہاڑی سلسلے سے گزر رہاتھا تو سوچ رہاتھا اس اونچے پہاڑوں کے بیچ جس میں کام کرتے ہوئے نیچے گرنے کا ڈر، اوپر پہاڑی سے پتھر گر نے کا خوف ۔ یہ کام صرف پیسے کی لالچ کےلیے کسی طرح بھی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ایک انسان کی جان سے ہرگز قیمتی نہیں ہوسکتے۔ البتہ میں یہ ضرور کہوں گا کچھ لوگ انسانی خدمت اور انسانی جذبے سے سرشار ہوتے ہیں جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایسے پرخطر جگہوں پر کام کرکے انسانی آسائش کو دوسرے لوگوں کےلیے ممکن بنالیتے ہیں۔میں یہ بھی سوچ رہاتھا جب ہم ٹھندی چھاؤں میں بیٹھ کر ٹھنڈاپانی پی کر پراجیکٹ کی چھوٹی چھوٹی خرابیوں پر بات کرتے ہیں تو ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ اس منصوبے کو ممکن بنانے کےلیے لوگوں نے کتنی محنت سے کام کیے ہونگے۔ کیونکہ کام کرنا مشکل اور باتیں بنانا بہت آسان ہوتاہے۔ یقینی بات ہے انسانی منصوبہ ، انسانی سوچ ،پہلے کے بنائے ہوئے نقشے اور زمینی حقائق میں تھوڑا بہت فرق ضرور ہوتاہے لیکن ہم ان چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں اور کمزوریوں کو تو طشت ازبام کرتے ہیں لیکن کسی پراجیکٹ کی کامیابی میں جو تگ و دو ہیں اس کا ہم ادراک نہیں رکھتے۔
جب سے میں اس پراجیکٹ کے آخر تک گیاجہاں سے پانی پائب لائن میں آتاہے تو مجھے احساس ہوا ہمارے گھروں میں جو صاف پانی ہمیں میسر ہیں اس کے پیچھے محنت اور مشقت کی ایک داستان پوشیدہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا ایک عمومی مزاج بناہواہے کہ ہم کام میں نقائص تلاش کرتے ہیں اور معاشرے میں وقوع پزیر ہونے والی منفی چیزوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں لیکن جو معاشرے میں اچھے کام ہورہے ہوتے ہیں اِن کو ہم اہمیت نہیں دیتے، اس لیے ہم ہمیشہ ایک طرح کی ذہنی کوفت میں مبتلارہتے ہیں۔اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ کو مثبت رکھ کر گاؤں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہم تنقید اور اختلاف ضرور رکھیں لیکن ایک عوامی منصوبے کو کامیاب بنانےکے لیے، نہ کہ عوامی پراجیکٹ کو ناکام بنانے لیے ۔ آخر میں ان لوگوں کا ایک دفعہ پھر شکریہ جس نے کسی بھی طرح سے پینے کے صاف پانی کے اس پراجیکٹ کو بونی کے باسیوں کے لیے ممکن بنایا۔
(نوٹ: میری اس تحریر کامقصد اپنے احساسات کو آپ تک پہچانا تھا نہ کہ حساب کتاب یا اداروں کے بارے میں معلومات دینااس لیے کسی سے اس پراجیکٹ کےبارے میں معلومات لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی)

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
104700cookie-checkبونی کےلیے صاف پانی کا منصوبہ

کالم نگار/رپورٹر : فرید احمد رضا

Share This