کھوار اہلِ قلم کا پانچ سالہ کامیاب سفر

گزشتہ روز ٹاؤن ہال میں ادبی تنظیم کھوار اہل قلم چترال کا پانچواں یوم تاسیس منایا گیا ۔ کھوار اہل قلم کے صدر کھوار کے صاحب طرزشاعر و ادیب مسرت بیگ مسرت کی انتھک کوششوں سے تقریب کو حتمی شکل دی گئی اور ۱۹ اکتوبر کو یہ تقریب چترال  میں منعقد کی گئی ۔ تقریب میں چترال کے نامور ،سینئر اور نوجوان شعراء اور ادباء اور دانشوروں نے بھرپور شرکت کی ۔ معروف سماجی شخصیت بزرگ شاعرو و ادیب اور انجمن ترقی کھوار کے بانی رکن اور سابق ضلعی جنرل سیکرٹری عنایت اللہ اسیر کی زیر صدارت اس تقریب میں اے ڈی سی چترال محمد شہزاد مہمان خصوصی تھے ۔کھوار اہل قلم کے جنرل سیکرٹری اقرار الدین خسرو اور راشد راوی نے اسٹیج کے فرائض انجام دئیے۔ اس پروقار تقریب میں کھوار اہل قلم کی طرف سے دو ثقافتی اور دو ادبی ایوارڈ دئیے گئے ۔ثقافتی ایوارڈ معروف گائیک غیرت خان اور شجاع الحق کو دئیے گئے۔ ان دونوں کا انتخاب تقریب سے پہلے ایک میٹنگ میں ہوا تھا یہ دونوں وہ گلوکار ہیں جن کو آج تک نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس لیے کھوار اہل قلم کے منتظمین نے ان دونوں تقافتی گلوکاروں کو ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا جبکہ دو ادبی ایوارڈ قاضی نذیر بیگ چیئرمین کھوار اہل قلم حلقہ اورسیز اور جناب شاہ جہان دنین کے نام رہے ۔ان دونوں حضرات کو ادبی تنظیموں کے ساتھ خصوصی تعاون اور بہترین خدمات کے نتیجے میں حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔واضح رہے کھوار اہل قلم ایک ادبی تنظیم ہے جو کہ نوجوان شعراء کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرکے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے اور وقتا فوقتاً نوجوانوں میں انعامات اور ایوارڈ تقسیم کرکے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی  آ رہی ہے ۔

کھوار اہل قلم تمام ادبی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور تمام تنظیموں کے ساتھ کسی بھی قسم کی مدد و تعاون کے لیے کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی بلکہ کھوار اہل قلم کی کوشش ہے تمام ادبی تنظیمیں مل کر کھوار زبان وادب کی ترقی و ترویج کے لیے کام کرے ۔ کھوار اہل قلم کی طرف سے تمام تنظیموں سے وابستہ ادباء شعرا کی حوصلہ افزائی کے لیےانہیں ایوارڈز دئیے جا چکے ہیں۔ تاکہ محبت اور احترام کی فضاء ہمیشہ قائم رہے کھوار اہل قلم نے بہت ہی مختصر وقت میں چترال میں اپنا وسیع حلقہ بنا لیا ہے۔ کھوار اہل قلم کے مرکزی کابینہ کے رجسٹرڈ ارکان کی  تعداد سو سے زائد اور حلقہ جات میں بھی سو کے لگ بھگ رجسٹرڈ ممبرز ہیں۔ خصوصاً حلقہ اورسیز میں بہت فعال اور متحرک ممبرز کی تعداد دو درجن سے زائد ہے جو کہ کھوار اہل قلم کے پلیٹ فارم سے کھوار زبان کی ترقی کے لیے پُر خلوص کوششیں کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔۔ کھوار اہل قلم کھوار زبان کی ترقی اور تحفظ کے لیےہر تنظیم سے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے اور کام کرتا آرہا ہے بعض عناصر کھوار اہل  قلم کو موقع پاکر متنازعہ بنانے کی کوششیں کرتے رہتے  ہیں جو کہ ان شاءاللہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ کھوار اہل میں رجسٹرڈ شعراء و ادباء پاکستان میں  سیاست کرنے والی کسی نہ کسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے کھوار اہل قلم کی طرف سے اپنے کسی رکن پر کوئی قدغن نہیں کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ نہ بنے ۔تمام ممبرز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کا کوئی بھی نظریہ یا پارٹی اختیار کرسکتے ہیں تاہم تنظیم کے اندر کسی قسم کی سیاسی مذہبی قومی یا علاقائی منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں کوئی ممبر اپنی پارٹی یا پارٹی لیڈر کے حق  میں لکھ سکتا ہے  اوربول سکتا ہے لیکن یہ سب کچھ وہ تنظیم کے پلیٹ فارم سے نہیں کر سکتا بلکہ ذاتی طور وہ کچھ بھی کہنے لکھنے کا مجاز ہے ،لہذا کھوار اہل قلم کسی ممبر کی سیاسی رائے کا ہرگز ذمہ دار نہیں  اور ایسی باتوں کو تنظیم کے ساتھ جوڑ تنظیم کر متنازعہ بنانے کی کوشش کرنے والے جان لیں کہ وہ اس مشن میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
104550cookie-checkکھوار اہلِ قلم کا پانچ سالہ کامیاب سفر

کالم نگار/رپورٹر : طاہر شاداں

Share This