ابو جی کی پرانی ڈائریاں اور خالد بن ولی مرحوم کی ایک غزل

یادیں بڑی سنگ دل ہوتی ہیں۔
نہ یہ دیکھتی ہیں کہ وقت کونسا ہے اور نہ یہ جانتی ہیں کہ موقع محل کیسا ہے۔
جب جی چاہے، دل کی شکستگی کی پروا کئے بغیر ٹوٹے ہوئے دل پر وار کر کے اس کے مزید ٹکڑے کر جاتی ہیں۔
آج کسی ضروری کام کے سلسلے میں ابو جی کی ڈائریاں اور کاغذات دیکھنے کی ضرورت پڑی ۔ دو منٹ کے لئے نظر دوڑانے کی غرض سے اٹھائے گئے اوراق کئی گھنٹوں سے سامنے بکھیر کر بیٹھا ہوں اور یادوں کی ایک گھٹا ذہن پر چھائی ہوئی ہے جو کبھی مسکراہٹوں کی برسات تو کبھی اشکوں کا منہ زور مینہ برسا دیتی ہے۔
بحیثیت ادیب اور شاعر ابو کو بہت کم لوگ جانتے ہیں کیونکہ وہ کبھی کبھار ہی لکھتے تھے ۔۔۔ درس و تدریس کے ساتھ حد سے بڑھی ہوئی وابستگی نے ان کے اندر کے ادیب اور شاعر کو نہ صرف دنیا بلکہ شاید خود ان کی نظروں سے بھی چھپا رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ باقاعدہ طور پر لکھنے کی طرف متوجہ نہ ہوپائے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ کم لکھنے کے باوجود بھی وہ جب لکھتے خوب لکھتے اور لکھنے کا حق ادا کر دیتے ۔ان کی نثر کا اسلوب کسی دریا کی روانی کے مانند تھا اور ان کے اشعار میں سمندر کی سی گہرائی تھی ۔
نجانے کیوں ابو کو کبھی اپنی تحریریں باقاعدہ طور پر محفوظ کرنے کا خیال نہ آیا۔ اگر آتا تو کم ہونے کے باوجود بھی ان کی مطبوعات ہم ایسے کم فہموں کے لئے روشنی کا مینارہ ثابت ہو سکتی تھیں۔
مختلف مشاعروں کے لئے لکھی گئی پرانی نظمیں، سیمینارز کے لئے لکھے گئے کچھ مقالہ جات اور رسالوں کے لئے لکھی گئی کچھ تحریریں پڑھ لینے کے بعد چھوٹے سے کاغذ پر درج ایک کھوار غزل نظروں کے سامنے آئی۔
یہ گسنو چے گسنانہ فقیر دوئے تا تے کا کیاغ ؟
یہ خس بیرو مکانہ فقیر دوئے تاتے کا کیاغ ؟
لکھنے کا انداز الگ لگا تو سیدھا مقطع پر نظر دوڑا ڈالی ۔
تے ذات کوروئے تقدیرو بدل آہ لوڑے “خالد”۔۔
یہ گہت بیرو آستانہ فقیر دوئے تاتے کیا کیاغ۔
دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔
معلوم ہوا کہ یہ خالد بن ولی مرحوم کی غزل ہے اور [جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے] ابو نے خالد بن ولی مرحوم سے یہ یہ غزل “بفرمائش” منگوا کر اپنے پاس محفوظ رکھی ہوئی تھی ۔۔۔ لکھنے لکھانے کے ساتھ ابو کا شغف اس قدر تھا کہ وہ اپنے طالبعلموں میں سے بھی ان شاگردوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے جو اچھے لکھاری ہوتے۔ میرے اپنے کالج کے دنوں میں ہمارے سینئیرز عبداللہ شہاب، عنایت اللہ شہزاد، سیف اللہ ہمراز، صلاح الدین صالح، عبد الوکیل سوز اور کئی دوسری لکھنے والے طالبعلم ابو کے خصوصی شاگرد ہوا کرتے تھے ۔ خالد بن ولی اچھے لکھاری ہونے کے ساتھ ابو کے شاگرد بھی تھے اور ابو کے نہایت قریبی دوست محترم عبد الولی خان عابد صاحب کے فرزند ارجمند بھی ۔ اسی نسبت کی بنا پر ابو جی خالد بن ولی مرحوم کے بھی “مداح” تھے۔جب بھی ان کا ذکر کرتے ، بڑی محبت سے، پیار بھرے لہجے میں اور مشفقانہ انداز میں کرتے ۔
یہ سب کچھ یاد کرتے ہوئے دنیا کی بے ثباتی کا بڑی شدت سے احساس ہوا۔ والد صاحب کی حادثاتی رحلت اور پھر خالد بن ولی جیسے نفیس انسان کی جوان مرگ کا غم اس اتفاقا ملنے والے کاغذ کے ٹکڑے نے یکجا کر کے کچھ اس شدت سے یاد دلایا کہ آزردگی رگ رگ میں سرایت گئی۔جی چاہنے لگا کہ چیخ چیخ کر اس خاک سےجو ان پیکران لطیف کو اپنے اندر سموئے ہوئےیہ پوچھوں کہ
تو نے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کییے؟
سمجھ میں نہیں آ تا کہ ایسے لوگ دنیا سے جلدی کیوں روٹھ جاتے ہیں جو اس قدر قیمتی ہوں؟
ہم عام سے لوگوں کی نگری میں ان خاص لوگوں کا قیام اس قدر مختصر کیوں رہتا ہے؟
اندھیری راہوں پر ہمیں تنہا چھوڑ کر یہ روشن چراغوں والے خود کہاں چلے جاتے ہیں؟
یہ سوچتے ہوئے پھر سے کاغذ کے اس ٹکڑے پر نظر دوڑائی تو یہ شعر سامنے آ گیا کہ
ظلمتو راہان روشت کوراک تے مس اوشوئے دوݰو
تون گیر چھویو خفتانہ فقیر دوئے تاتے کیا کیاغ۔
اور تب سے فقیر کبھی یہ سوچ کر اپنی بے بسی پر رو اٹھتا ہے کہ زندگی کی گھپ اندھیری راتوں میں یہ دو ماہ روشن پھر اپنی تابندگی نہ دکھا پائیں گے۔۔نہ اب کبھی ابو جی کی شفقت نصیب ہو گی نہ ہی خالد بن ولی جیسے مربی کی صحبت ۔
پھر اچانک ایک عجیب سا خیال آتا ہے ، اور فقیر بے اختیار مسکرا اٹھتا ہے کہ “جنت کے ان دو راہیوں ” کی آپس میں ملاقات بھی تو ہوتی ہو گی۔ اور عین ممکن ہے کہ جس وقت فقیر یہ تحریر لکھ رہا ہو، عین اسی وقت بہشت کے کسی نہر کنارے ابو جی کی فرمائش پر خالد بن ولی اپنی یہ غزل ان کو سنا کر ان سے داد وصول کر رہے ہوں کہ
یہ گسنو چے گسنانہ فقیر دوئے تاتے کا کیاغ
یہ خس بیرو مکانہ فقیر دوئے تاتے کا کیاغ
تو وزن ای جہاں دی کی ہوو کا تا تے ریر لوٹ
تو لوݯ کی ہووو میزانہ فقیر دوئے تاتے کا کیاغ
پوشک ہتے ذات جام پاشیران یو لوڑی دنیو
تو غیچ دیکو اسمانہ فقیر دوئے تاتے کا کیاغ
ظلمتو راہان روشت کوراک تے مس اوشوئے بغائے۔
تون گیر چھویو خفتانہ فقیر دوئے تاتے کا کیاغ
تیشہ کی تا فرہادو غونہ زوم توچھے کیا لیس
تو کھین دیکو چمانہ فقیر دوئے تاتے کا کیاغ
تے ذات کوروئی تقدیرو بدل اہ لوڑے خالد
یہ گہت بیرو استانہ فقیر دوئے تاتے کا کیاغ۔
اللہ تعالی ابو جی اور خالد بن ولی مرحوم دونوں کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کے درجات بلند کرے

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
88550cookie-checkابو جی کی پرانی ڈائریاں اور خالد بن ولی مرحوم کی ایک غزل
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : ابرار الرّحمٰن

Share This