Supreme Court Dam Initiative

امید لکھیں ! امید بولیں ! امید سنیں !

جی ہاں !! امید لکھیں ! امید بولیں ! امید سنیں !امیدبوئیں!  امید اگائیں!!

 پر امید کاٹیں کبھی نہ ۔ فصلوں کی ان گنت انواع میں سے کسی بھی نوع کی فصل ایسی نہیں ہوگی کہ جو کاٹنے کی نہ ہو ۔ کیوں کہ  اُمید کی فصل ایسی فصل ہے جسے روشنی ہوا پانی دیتے جانا چاہئے ۔ لفظ “چاہیے” سے جڑی دشمنی ایک الگ ذکر ہے ۔ لکھنا محض یہ ہے کہ خدا کا واسطہ امید لکھیں ! امید پڑھیں !امید بولیں ! امید سنیں !

 کچھ نہیں ہوا ہے ۔ سب ٹھیک ہے ۔ دنیا کا نظام بہترین جا رہا ہے ۔ زمین ،آسمان ،سورج ،چاند ،ستارے ،جنگل صحرا، دریا ،جن و انس ،چرند وپرند ،پتے، پتھر، مٹی ،ریت، پھل اورپھول سب لپکتے جھپٹتے وقت کی بہاؤ میں  موزوں رواں ہیں ۔ تاریخ پڑھنے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ انسان کبھی کسی کام سے خوش نہیں ہوا ہے ۔ ہر دور نے اپنے انسانوں کو رگڑا ہے اور ہر انسان اپنے دور کو زنگ مل مل کر کھردرا کر گزرا ہے ۔ لوگ روتے ہی گزر گئے ہیں ۔ زندگی کا رونا، آبادی کا رونا، معاشرے کا رونا، تعلیم کا رونا، دولت کا رونا، رشتوں کا رونا، ناطوں کا رونا، اِس بات کا رونا ،اُس بات کا رونا، اِدھر رونا اُدھر رونا ۔ ہر گھڑی بیچارے بشر کو رلایا گیا ہے ۔ ہر پل بیچارہ انسان رویا ہے ۔

 آپ کو خدا کا واسطہ! مسکراہٹیں لکھیں۔ جنبشیں لکھیں ۔ اب کی بار کا انسان خود کفیل ہے ۔ سب کچھ ہے اس کے پاس، ہر چیز موجود ہے ۔ بجلی ہے، پانی ہے، سڑکیں ہیں، پل ہیں، دیواریں ہیں، دکانیں ہیں،کھانے کی چیزیں ہیں، پہننے کو کپڑے ہیں، اوڑھنا بچھونا ہے۔ سکول ہے، کھیل کے میدان ہیں ۔دولت ہے، تعلیم ہے، اخلاق ہے، کردار ہے، سوچ ہے ،سمجھ ہے ۔ گاڑیاں ہیں، بنگلے ہیں۔

 ہمارے پاس اپنے نہیں ہیں تو کیا ہوا ،ہمارے اپنوں کے پاس تو ہیں نا ۔ ہر چیز ہر ایک کے پاس نہیں ہوتی ۔ کچھ اِس کے پاس کچھ اُس کے پاس، کچھ آپ کے پاس ،کچھ میرے پاس ہو تو مان کہ اپنے کا ڈن ۔ ہمارے پاس سب کچھ ہے ۔ مجھے قسم کھانے دیں کہ میں قسم کھا کر کہوں کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے ۔ اور ہاں جو نہیں ہے تو وہ یہ کہ مسکراہٹ ہم میں نہیں ہے ۔ ایک پل کے لیے مسکرا دینا ،ہم نے شاید بوجھ مان رکھا ہے ۔

 مسکراہٹ ہمارے اندر ہماری رگوں میں پھنسی دم گھٹے مر رہی ہے اور ہم روتے رلاتے جا رہے ہیں ۔ لکھاریو !خدا کے لیے!! آپ کو خدا کا واسطہ! عوام کو بتا دیں کہ سب ٹھیک ہے ۔ آپ کے قلم کو بھی شاید آرزو ہوتی ہوگی کہ کبھی آپ بھی امید لکھیں گے، آپ بھی خوشی بانٹیں گے، مسکراہٹیں بکھیریں گے ۔ دل سے لکھیں۔ دماغ سے نہیں ۔ دماغ چالیں چلنے کی مشین ہے اور دل زندگی پھیلانے والی خوشبوؤں کا منبع۔۔

فصلِ بہار کی صورت زندگی کی مستیاں اپنے جوبن پر ہیں ۔ ہر انسان خوش ہے، مطمئن ہے، آہستہ آہستہ جینا اور جیتے جی دنیا کو خوب جھانک کر دیکھنا چاہتا ہے ۔آپ بھی چاہتے ہیں۔ میں بھی چاہتا ہوں ۔ ہمارے گھرکے افراد گاؤں کے باشندے شہر کے شہری، بچے بوڑھے جوان، مرد عورت، لڑکا لڑکی، سب جینا چاہتے ہیں  اور بہت جینا چاہتے ہیں ۔ اسباب میسر ہیں ۔ آلات دستیاب ہیں ۔ رشتے ڈگر پر ہیں ۔ تعلقات محبتوں کے ہیں ۔ سب ایک دوسرے کے خیر خوا ہیں ۔ میں تو سمجھ رہا ہوں کہ ہمارا  والا دورِ ذرین ہے ۔

 میں لکھ کرمحفوظ کر رہا ہوں کہ ہم یعنی میں اور میرے وقت کے لوگ زندگی کے بہترین دور میں جیرہے ہیں ۔ میرے لیے لکھنے کے لیے محض سیاسی عنوانات ہی عنوانات نہیں ۔ اگر ہیں بھیتو بہت چھوٹے عنوانات ۔ میرے لیے میرے ان الفاظ کو پڑھتے میرے یار کی کروٹ بدل کرجاگنے کی کوشش کرتی سلائی ہوئی مرجھائی ہوئی امید سب سے بڑا عنوان ہے ۔ میرے یارمیرے دوست سب ٹھیک ہے ۔ ہنسو تم ہنستے ہوئے خوبصورت لگتے ہو ۔

Zeal Policy
Zeal Mobile Reporter
Share This