Supreme Court Dam Initiative

مری تصویر رکھ لینا تمہارے کام آئے گی

آہ خالد !

خالد بن ولی صاحب چترال کے علاقہ برنس کے ایک نامور خسروے قبیلے کا چشم و چراغ تھا، خالد بن ولی، انجمن ترقی کھوار کے سابق مرکزی صدر جناب عبدالولی خان عابد کا سب سے بڑا بیٹا تھا، 16 فروری 1984 کو برنس میں آنکھ کھولی ،میٹرک تک کی تعلیم سایورج پبلک اسکول چترال سے حاصل کرنے کے بعد نثار شہید کالج رسالپور سے ایف ایس سی کر کے اسلامیہ کالج میں داخل ہوئے۔گریجویشن کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر کے چترال میں وکالت کے فرائض انجام دینے لگے۔ بچپن سے ہی ایک ادبی خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے ناطے کھوار ادب اور انجمن ترقی کھوار سے ان کی گہری وابستگی تھی

۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 1999 میں اپنی حیات کے صرف پندرہ سال گزرنے کے ساتھ ہی کھوار ادب کے گلستان میں داخل ہو کر باقاعدہ اپنی شاعری کا آغاز کیا۔ 14 اگست سن 2000 میں ایک کھوار مشاعرے میں شرکت کی اور اپنا پہلا کلام سنایا، سن 2002 میں خالد کا “مجموعہ کلام ” ہردیان اشٹوک ” کے نام سے منظر عام پر آیا،اور اسی کے ساتھ ہی صرف 19 سال کی عمر میں چترال کا سب سے کم عمر صاحب کتاب شاعر ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا،خالد کا ایک اور مجموعہ کلام ” ہردی پھت ہردی”  شائد اشاعت کے مراحل میں تھی۔ کھوار ادب کے ساتھ ساتھ اپنی قومی زبان اردو سے بھی ان کا لگاؤ دیدنی تھا، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ خالد چترال میں اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ مل کر “انجمن فروغ اردو” کے نام سے ایک مضبوط پلیٹ فارم قائم کر کے چترال میں اردو کی ترقی اور فروغ کے لیے کوشاں تھے، وہ گذشتہ سال سول جج کا عہدہ چھوڑ کر ایکسائز ٹیکسیشن جوائن کر کے تا حال پشاور میں تعینات تھے۔ گزشتہ روز 21 اکتوبر کو مردان انٹر چینج کے قریب ان کی گاڑی بے قابو ہو کر دیوار سے ٹکرا گئی، اور چترال کا یہ قابل فخر فرزند اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، خالد بن ولی ایک نہایت ملنسار خوش اخلاق اور ایک وسیع حلقہ احباب رکھنے والا ہر دلعزیز انسان تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی اور خصوصا پورے چترال میں صف ماتم بچھ گئی۔ خالد بن ولی صرف ایک سرکاری آفیسر ہی نہیں تھے بلکہ وہ دوستوں کے دوست اور یاروں کے حقیقت میں یار تھے۔ ہماری بد قسمتی کہ ان سے زندگی میں باالمشافہ ملاقات کر کے ان سے مستفید نہ ہو سکے، البتہ کئی مرتبہ ان سے شرف تکلم حاصل ہوا۔ وہ سب کو اپنے آپ سے بڑا سمجھنے والا انسان تھا اور یہی ان کی زندگی کا ایک اہم سبق بھی ہے۔ اتنی جلدی جدائی کا علم ہوتا تو ان سے مستفید ہونے کی کئی تگ و دو کرتے، لیکن اب تو ان کی عمر ہی کیا تھی۔؟ اس لئے ہم بھی سستی کے ہاتھوں شکار ہوئے۔ اور آج وہ نرم خو، نرم دل، نرم گفتار، اورنرم مزاج انسان اُس جہاں کی طرف رخت سفر باندھ چکے،کہ جہاں سے کوئی دوبارہ واپس مڑ کے نہیں آتا، اب ان شاءاللہ ان سے ملاقات ہوگی تو اُسی جہاں میں ہوگی، جس کی طرف ہم سب نے کوچ کر جانا ہے۔ اب ان سے باتیں بھی ہوں گی،تو اسی جہاں میں ہوں گی۔ خالد، دنیا کی بے ثباتی کا علم آپ کو بہت ہی اچھی طرح تھا، لیکن آپ کو بے ثباتی سے کیا نسبت،؟ آپ نے تو ہمیشہ زندہ رہنا ہے آپ کل بھی خالد تھے اور آج بھی خالد ہیں، آپ نے تو زندہ ہی رہنا ہے اپنے احباب کی محفل میں، آپ نے تو زندہ رہنا ہے ہماری چشم تصور میں، آپ محفل سے اٹھ گئے، یہ ہماری آنکھوں کا دھوکا ہے۔ یہ کسی نے شاید ایسے ہی واقعات کے پس منظر میں کہا ہوگا۔

اداسی اور مایوسی بھری اک شام آئے گی

مری تصویر رکھ لینا تمہارے کام آئے گی

 آج ہم سب کا یہی حال ہے کہ خالد کی تصویریں دیکھ کر دلِ مغموم کو بہلانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی خالد بھائی کے تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور خالد صاحب کو اپنی جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائیں ۔آمین

Zeal Mobile Reporter
Share This